بہار

آئین کی پامالی کرنے والے آئین بچانے کی بات کررہے ہیں۔پرمود کمار

آر جے ڈی نے ہمیشہ مسلمانوں کا استحصال کیا۔وصیل احمد خان

موتی ہاری۔عاقب چشتی:بابائے قوم مہاتما گاندھی نے جن سات سماجی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے ان میں ضمیر فروشی کی سیاست,اطمینان قلبی کے بغیر راحت,لوگوں کو ستاکر جمع کی گئی دولت,اخلاق سے عاری علم و ہنر,بغیر اصول کے تجارت,رحم و کرم سے خالی سائنس,بغیر خلوص کے عبادت قابل ذکر و لائق تقلید ہیں اور جو لوگ ان اصولوں پر جو خود عمل پیرا نہیں ان کے ذریعہ "آئین بچاؤ انصاف یاترا”کا انعقاد کرنا بابائے قوم کے اصولوں کا مزاق اور نہایت مضحکہ خیز ہے مذکورہ باتیں موتی ہاری ٹاؤن ہال میں قومی جن تانترک اتحاد کے زیر اہتمام منعقدہ آئین سمان سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے بہار سرکار کے وزیر ٹرانسپورٹ پرمود کمار نے کہا اور مزید بتایا کہ بیوی بال بچوں سمیت کئی پشتوں کے لیے عوام کی گاڑھی کمائی لوٹ کر اربوں کی دولت جمع کرنے والے بڑے فنکار کا نام لالو یادو ہے۔پاور آف اٹرنی,فرضی بینک کھاتوں اور نام نہاد کمپنیوں سمیت مختلف غیر قانونی طریقے سے بے شمار دولت اکٹھا کرنے والوں کی سینہ زوری سے عوام بخوبی واقف ہے اور کئی بھیانک گھوٹالوں کے سزا یافتہ ہونے کے باوجود آئین بچاؤ نیائے یاترا ضمیر فروشی والی سیاست کی تمثیل ہے۔
جبکہ جے ڈی یو سیوا دل کے ریاستی جنرل سکریٹری وصیل احمد خان نے کہا کہ ریاست کے مسلمانوں نے جس ایمانداری کے ساتھ آر جے ڈی کی حمایت کی اور لگاتار ١٥ سالوں تک ریاست کے سنگھاسن تک پہونچایا ان مسلمانوں کا لگاتار استحصال کیا گیا ایم وائی کا فرضی نعرہ دیکر مسلمانوں کو گمراہ کیا گیا اور ہمیشہ ان کی حق تلفی کی گئی۔ فساد کا خوف دکھاکر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا اور سماجی,معاشی, اقتصادی طور پر ہردم کمزور کرنے کی سازش کی گئی۔ گھوٹالوں کی جدید عبارت لکھنے والے اقلیتوں کے جھوٹے مسیحا,قانون کی دھجی اڑانے والے,آر جے ڈی کے خاندانی جانشینوں کو اگر آئین کی یاد آئی ہے تو یہ آپ کے لیے نیک فال نہیں ہے کیونکہ پہلے آپ اپنے جرموں اور پاپوں کا حساب و کتاب دیں اس کے بعد انصاف کی بات کریں اب مسلمانوں میں شعور و بیداری آچکی ہے آپ کے مصنوعی اعلانات کو بخوبی سمجھنے کی صلاحيت رکھتے ہیں اب ان کو گمراہ کرنا آسان نہیں ہے۔
جبکہ کسان مورچہ کے ریاستی صدر اکھیلیش سنگھ نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو اگر آئین کی یاد آئی ہے تو یہ انسانی فطرت ہے۔قانون کی مار جس طرح اس فیملی پر پڑی ہے وہ جگ ظاہر ہے ایسے مواقع سے اگر آئین و انصاف کی یاد آئی ہے تو صد فی صد درست آئی ہے اور انہیں یہ نہیں معلوم کہ بھاجپا آئین کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ خاندانی سیاست ملک کے لیے نہایت خطرناک ہے۔
جبکہ پروفیسر ارون کمار نے کہا کہ آئین کے ساتھ سب سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کانگریس کے دور اقتدار میں ہوا اور آج ملک کا آئین محفوظ ہے۔جن لوگوں نے خود آئین کی دھجیاں اڑائی وہی لوگ اب حفاظت کا فرضی راگ الاپ رہے ہیں۔
بی جے پی کے ضلع ترجمان پرکاش استھانا نے کہا کہ بہار کو جنگل راج اور ریاست کی جنتا کو لوٹ کر زمیندار بننے والے گھرانے کے افراد آئین کی بات کرنے لگے ہیں۔
بی جے پی ضلع صدر راجیندر گپتا نے کہا کہ ٩٠ کی دہائی میں ریاست کے کسی کونے میں اغوا ہوتا تو واپسی کی رقم کا تعین اس وقت کے وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر ہوتا تھا ہمارا اتحاد آئین کی حفاظت کا طریقہ خوب جانتا ہے آپ اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔
سمیلن کی صدارت لوجپا کے ضلع صدر دھرنیدھر مشر اور نظامت کے فرائض ضلع بی جے پی مہامنتری ڈاکٹر لال بابوپرساد نے انجام دیے۔
اس موقع سے انیل کمار مشر,دینیش چند پرساد,دیپک پٹیل,شسی بھوشن کشواہا,رام شرن یادو,پروفیسر وینے ورما,ونود کمار سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے۔

Show More

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close