مضامین

آل سعود ی کی خانہ تلاشی

ریاض فردوسی
تاریخ اسلام کے 61 ہجری میں رونما ہونے والے واقعات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یزیدی لشکر نے امام حسین اور آپ کے اصحاب کا دردناک قتل عام کیا اور 62 ہجری میں یزیدی لشکر نے مدینہ منورہ پر حملہ کردیا اور وہاں تین روز تک مدینہ والوں کا قتل عام کیا جاتا رہا، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شدید بے حرمتی کی گئی اور مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے گئے۔ 63 ہجری کو لشکر یزید نے مکہ مکرمہ پر دھاوا بول دیا اور مسلمانوں کے قبلہ یعنی خانہ کعبہ پر منجنیق سے سنگ باری کی۔خانہ کعبہ کو آگ لگا دی گئی اور بیت اللہ الحرام کے پردہ مبارکہ جل کر راکھ ہوگیا یوں یزدی لشکر نے حرمین الشریفین کی شدید بے حرمتی کی۔
آل سعود کے سیاہ کارناموں میں سے ایک ہے، وہ جنت البقیع ہے۔ آل سعود ہی ہے جس نے اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ازدواج رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزارات مقدسہ کی توہین کرتے ہوئے خاک سے یکساں کیا ہے۔
آل سعود کے بربریت کے یہ عالم تھا کہ خانہ کعبہ کی دیواروں میں کءگولیاں داخل ہوئ۔حرم مقدس میں جہاں اونچی آواز میں بولنا منع ہے وہاں انسانوں کا بےدریغ قتل عام ہوا۔انسانی خون پانی کی طرح بہایا گیا صرف اور صرف حکومت حاصل کرنے لے لیے۔.عبدالعزیز ابن سعود نے جنوری 1936ءمیں حجاز پر اپنی حاکمیت کا اعلان کرنے کے بعد نجدی وہابیت کو ریاستی مذہب قراردیا اوراس نے اہل حجاز کو شمشیر اور طاقت کے زور پر وہابیت میں داخل ہونے کا حکم دیا، سعودی اور وہابی حملہ آور جب مدینہ النبی ﷺ میں میں داخل ہوئے تو انھوں نے جنت البقیع میں نبی کریم کے اہلبیتؓ،ازواج ؓ ا ور اصحابؓ کی قبروں کو شہید کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی بہت سی مسجدوں کو بھی شہید کردیا۔انہوں نے دوسرے زیارتی مقامات اور مقدس مقامات کو منہدم کیا اور ان کی بے حرمتی کیاور اس طرح سے انہوں نے نا صرف قلب پیغمبر اسلام بلکہ تمام مسلمانوں کے دلوں اور ان کے جذبات کو مجروح کیا۔مسلمانوں کے مسلسل احتجاج پر سعودی حکمرانوں نے مزارات کی تعمیر کی یقین دہانی کرائی یہ جسے آج تک سعودیوں نے پورا نہیں کیا۔
سعودی آخر کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟
851 ہجری میں قبیلہ عنزہ کی ایک شاخ آل مسالیخ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے ایک تجارتی قافلے کا گزر جب بصرہ کے بازار سے ہوا ن کی ملاقات یہودی تاجر سے ہوئی جس کا نام مردخائی بن ابراہیم بن موسیٰ تھا، تاجر نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ان کا تعلق عنزہ قبیلے کی ایک شاخ المسالیخ سے ہے، یہ نام سننا تھا کہ یہودی کھڑا ہوا اور وہ ان میں سے ہر فرد سے بڑے تپاک کے ساتھ گلے ملا، وہ یہودی سازش کے تحت بتایا کہ وہ خود اس قبیلے کی شاخ سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ قافلے والوں کے تمام اونٹوں پر گندم، کھجور اور چاول کی بوریاں لاد دی جائیں، اگرچہ وہ تاجر یہودی تھا لیکن چونکہ المسالیخ قبیلے کے لوگوں کو اناج کی شدید ضرورت تھی لہٰذا انہوں نے اس کی مہمان نوازی کو اپنے لیے غنیمت جانا، جب قافلہ اپنا واپسی کا رخت سفر باندھ رہا تھا تو اس نے اہل قافلہ سے درخواست کی کہ وہ اگر اسے بھی اپنے ہمراہ لے چلیں تو یہ اس کے لیے بڑی خوش بختی ہوگی، نجد پہنچ کر اس نے لوگوں سے راہ و رسم بڑھانا شروع کر دی اور کئی افراد کو اپنی چرب زبانی کی بنا پر، اپنے حلقہ اثر میں لانے میں کامیاب ہوگیا، لیکن غیر متوقع طور پر اسے وہاں القسیم سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما شیخ صالح السلمان عبد اللہ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اس مذہبی عالم کی تبلیغ کا دائرہ نجد، یمن اور حجاز تک پھیلا ہوا تھا، یہودی کو اس شخص کی مخالفت کی وجہ سے مجبوراً یہ علاقہ چھوڑنا پڑا اور وہ القسیم سے الاحصاءآگیا، یہاں آکر اس نے اپنا نام تبدیل کر دیا ، مرخان بن ابراہیم موسیٰ بن گیا، پھر اس نے جھوٹی کہانی کے ذریعے لوگوں کو بہکانہ شروع کر دیا،کہ رسول اللہ ﷺکے زمانے میں مسلمانوں اور کفار کے مابین لڑی جانے والی جنگ احد میں ایک کافر کے ہاتھ رسول پاک ﷺکی ڈھال لگ گئی، اس کافر نے یہ ڈھال بنو قنیقہ کے ہاتھ فروخت کر دی، بنو قنیقہ نے اسے ایک بیش بہا خزانہ سمجھتے ہوئے اپنے پاس محفوظ رکھا، یہودی تاجر نے اس علاقے کے بدﺅوں کے درمیان اس طرح کی کہانیاں پھیلانا شروع کر دیں، ان من گھڑت کہانیوں کے ذریعے وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ عربوں میں یہودی قبائل کا کتنا اثر ہے اور وہ کس قدر لائق احترام ہیں، اس نے اس طریقے سے عرب دیہاتیوں، خانہ بدوشوں، بدو قبائل اور سادہ لوح افراد میں اپنا ایک مقام و مرتبہ بنا لیا، آخر اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ مستقل طور پر القطیف کے قریب درعیہ قصبے میں قیام کرے گا اور اسے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائے گا، اس کے خیال میں یہ علاقہ عرب میں بڑی یہودی سلطنت کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے گا، اپنے ان مقاصد کی تکمیل کے لیے اس نے عرب کے صحرائی بدﺅوں سے روابط شروع کر دیے، اس نے اپنے آپ کو ان لوگوں کا بادشاہ کہلوانا شروع کردیا، اس موقع پر دو قبائل قبیلہ عجمان اور قبیلہ بنو خالد اس یہودی کی اصلیت کو جان گئے اور فیصلہ کیا کہ اس فتنے کو یہیں ختم کر دیا جائے، دونوں قبائل نے باہم اس کے مرکز درعیہ پر حملہ کردیا اور اس قصبے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، جبکہ مردخائی جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور العارض کے نزدیک المالی بید غثیبہ کے نام سے ایک فارم میں پناہ لی۔ یہی العارض آج ریاض کے نام سے جانا جاتا ہے، جو سعودی عرب کا دارالخلافہ ہے، مرد خائی نے اس فارم کے مالک سے درخواست کی کہ وہ اسے پناہ دے، فارم کا مالک اتنا مہمان نواز تھا کہ اس نے مرد خائی کی درخواست قبول کرلی اور اسے اپنے یہاں پناہ دے دی لیکن مردخائی کو اپنے میزبان کے پاس ٹھہرے ہوئے ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ اس نے اپنے محسن اور اس کے اہل خانہ کو قتل کردیا اور بہانہ یہ کیا کہ ان تمام کو چوروں کے ایک گروہ نے قتل کیا ہے، اس کے ساتھ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس افسوس ناک واقعہ سے قبل اس نے اس زمیندار سے اس کی تمام جائیداد خرید لی تھی، لہٰذا اب اس کا حق بنتا ہے کہ اب وہ یہاں ایک بڑے زمیندار کی حیثیت سے رہے۔
مرد خائی نے اس جگہ پر قبضہ جمالینے کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے اپنے پرانے کھوئے ہوئے علاقے کے نام پر آل درعیہ رکھا اور اس غصب شدہ زمین پر فوراً ہی ایک بڑا مہمان خانہ تعمیر کروایا جس کا نام اس نے مضافہ رکھا، یہاں رہتے ہوئے اس نے آہستہ آہستہ اپنے مریدین کا ایک حلقہ بنا لیا جنہوں نے لوگوں کے درمیان یہ غلط طور پر مشہور کرنا شروع کردیا کہ مرد خائی ایک مشہور عرب شیخ ہے، کچھ عرصے بعد اس نے اپنے اصل دشمن شیخ صالح سلمان عبداللہ التمیمی کو ایک منصوبے کے تحت قصبہ آل زلافی کی مسجد میں قتل کروادیا، اس اقدام کے بعد وہ ہر طرف سے مطمئن ہوگیا اور درعیہ کو اپنا مستقل ٹھکانابنا لیا، درعیہ میں اس نے کئی شادیاں کیں، جن کے نتیجے میں وہ درجنوں بچوں کا باپ بنا، اس نے اپنے ان تمام بیٹے بیٹیوں کے نام خالص عرب ناموں پر رکھے، یہودی مرد خائی کی یہ اولاد ایک بڑے عرب خاندان کی شکل اختیار کر گئی، اس خاندان کے لوگوں نے مرد خائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غیر قانونی طریقوں سے لوگوں کی زمینیں ہتھیانا شروع کردیں ،ڈاکہ زنی کی واردات کو چھپ کر انجام د یتے،مسلمان قافلوں سے مظلوم بچیاں اٹھا کر فروخت کر دیتے ، اب یہ اس قدر طاقتور ہوگئے کہ جو کوئی بھی ان کی شر انگیزیوں کے خلاف آواز اٹھاتا اسے قتل کروا دیتے، یہ اپنے مخالف کو زیر کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے، اپنے اثر و رسوخ کو مزید بڑھانے کے لئے انہوں نے رابعہ عنزہ اور المسالیخ جیسے مشہور عرب قبائل کو اپنی بیٹیاں دیں، مرد خائی کے لاتعداد بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام المقارن تھا، المقارن کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا تھا، محمد کے بعد القارن کے ہاں اس کے دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی ،جس کا نام سعود رکھا گیا، یہودی مردخائی کے اسی بیٹے کی نسل بعد میں آل سعود کہلائے۔
آل سعود سعودی عرب کا شاہی خاندان ہے۔ جدید مملکت سعودی عرب کی بنیاد 1932ءمیں پڑی تاہم جزیرہ نما عرب میں آل سعود کا اثر و رسوخ چند صدیاں قبل شروع ہو گیا تھا۔ مملکت کے بانی عبد العزیز ولد سعود سے قبل یہ خاندان نجد میں حکمران تھا اور کئی مواقع پر عثمانی سلطنت اور مکہ کے راشدیوں سے ان کا ٹکرا¶ ہوا جس میں انگریزوں نے انہیں ترکی خلافت کے خلاف استعمال کیا۔ آل سعود تین مرتبہ حکومتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جن میں پہلی سعودی ریاست، دوسری سعودی ریاست اور جدید سعودی عرب شامل ہیں۔
موجودہ خاندان سعود تقریباً 25 ہزار ارکان پر مشتمل ہے جن میں شہزادوں کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ خاندان کے موجودہ سربراہ اور سعودی عرب کے سلمان ولد عبد العزیز ولد عبد الرحمن آل سعود ہیں۔
بانی سلطنت عبد العزیز ولد سعود کی اولاد ہی سعودی ریاست کا شاہ یا ولی عہد قرار دی جا سکتی ہے۔
سعودی عرب دنیا کی وہ واحد مملکت ہے جس کا نام کسی خاندان کے نام پر ہے۔ابن سعود انیسویں صدی کے آخر میں اپنے باپ کے ساتھ عرب کے ایک ساحلی شہر کویت میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ وہ اس دھن میں رہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اپنے آبا و اجداد کی کھوئی ہوئی حکومت دوبارہ حاصل کر لیں۔ آخر کار 1902ءمیں جبکہ ان کی عمر تیس سال تھی، انہوں نے صرف 25 ساتھیوں کی مدد سے نجد کے صدر مقام ریاض پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے باقی نجد بھی فتح کر لیا۔ 1913ءمیں ابن سعود نے خلیج فارس کے ساحلی صوبے الحساءپر جو عثمانی ترکوں کے زیر اثر تھا، قبضہ کر لیا۔ انہوں نے خانہ کعبہ میں قتل عام کیا ،جو راستہ مکہ معظمہ سے قسطنطنےہ آتا تھا اس کو بم سے اڑا دیا ،ہزاروں حجاج شہید ہوئے َ َ ۔ محمد ابن عبد الوہاب نجدی نے حرمین شریفین میں جہاد کا فتویٰ دیا۔اس کے بعد تو آل سعود کے ظالموں نے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا۔ یورپ میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی جس کے دوران ابن سعود نے برطانیہ سے دوستانہ تعلقات قائم رکھے اور ترکوں کے خلاف کارروائی کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد شریف حسین نے خلیفہ بننے کا اعلان کر دیا تو ابن سعود نے حجاز پر بھرپور حملہ کر دیا اور چار ماہ کے اندر پورے حجاز پر قبضہ کر لیا اور 8 جنوری، 1926ءکو ابن سعود نے حجاز کا بادشاہ بننے کا اعلان کر دیا۔ سب سے پہلے جس ملک نے ابن سعود کی بادشاہت کو تسلیم کیا وہ روس تھا۔ روس نے 11 فروری، 1926ءکو حجاز و نجد پر سعودی حکومت کو تسلیم کیا لیکن برطانیہ نے تاخیر سے کام لیا اور معاہدہ جدہ کے بعد تسلیم کیا۔ اس طرح سعودی مملکت اپنے زوال کے ایک سو سال بعد ایک بار پھر پوری قوت سے ابھر آئی اور عرب کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔
شاہ سعود کے دور میں سعودی عرب میں تیزی سے ترقی ہوئی لیکن شاہی خاندان کے افراد کی بے قید زندگی اور فضول خرچیوں نے ملک کے لیے بہت سے مسائل پیدا کردیے،
سعودی حکومت کے تین بنیادی ارکان
آل سعود کی حکومت کے تین بنیادی ارکان تھے۔
ایک خاندان آل سعود۔ دوسرا محمد بن عبدالوہاب کے نظریات۔ تیسرے برطانیہ
اکثر مسلمان ممالک عثمانی حکومت کے ما تحت تھے جس کی وجہ سے عثمانی حکومت اس وقت کی سپر طاقت سمجھی جاتی تھی۔انگریزوں کو یہ طاقت ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔صلیبی جنگوں میں مسلمانوں سے شکست کھانے کے بعد مکر و فریب کے ذریعے اس حکومت کو توڑنے کی سازشیں ہونے لگیں۔ اسی مقصد کے لئے انگلستان نے اپنے جاسوس اسلامی قلمرو میں مامور کیے جن کا کام مختلف قبائل اور قوموں کو مرکزی حکومت کے خلاف ابھارنا تھا۔ محمد ابن عبد الوہاب نجدی نے اپنی بے دینی سے ان کا کام اور بھی آسان کر دیا تھا۔(وہ آگے چل شیخ الشیوخ کہلائے)وہ پہلے شخص تھے جن کے ذریعے حرمین شریفین میں قتل عام ہوا۔
ان جاسوسوں نے پوری تندہی سے کام کیا۔ اس کی ایک مثال معروف برطانوی جاسوس لیفٹیننٹ کرنل توماس ایڈورڈ لارنس Thomas Edward Lawrence ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب عثمانی حکومت کو توڑنے کا مغربی منصوبہ طے پایا تو اس کے پہلے مرحلے کے طور پر کرنل لارنس کو عثمانی حکومت کے ماتحت عرب علاقوں میں روانہ کیا گیا تا کہ وہ عربوں کو مرکزی حکومت کے
خلاف اکسائے اور انہیں شورش پر مجبور کرے۔لارنس نے عربی زبان سیکھی،عربی کلچر اپنایا،عربوں کے نقاط قوت و ضعف کو پڑھا اور ان سے استفادہ کیا۔مختلف باغی قبائل کو آپس میں اکھٹا کیا اور انہیںبرطانوی فوج کی مدد سے عثمانی حکومت کے خلاف لڑایا اور آخر کار اس مقصد میں کامیاب بھی ہوگیا۔برطانیہ، پان عر ب ازم Arabism) PAN)اور محمد بن عبدالوہاب کے افکارنے مل کر عثمانی خلافت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اور ہر حصے پر انگلستان کے حمایت یافتہ ایک قبیلے کو مسلط کر دیا۔اور اس طرح سے خلافت عثمانےہ برباد ہوئی۔یہودیت نئے نئے شکل میں ہمارے سامنے آتی گئی۔
دیگر سر زمینوں کی طرح سر زمین حجاز بھی برطانوی توجہ کا مرکز قرار پائی کیونکہ اس چور استعماری قوت کو ااس سرزمین کی اہمیت اور افادیت کا بخوبی علم تھا۔انہیں حجاز کے اندر مکہ اور مدینہ کی معنوی قوت و طاقت کا بخوبی اندازہ تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ مکہ و مدینہ کے دونوں حرم پوری دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہیں۔جہان اسلام پر تسلط کے لئے اس مرکز کی تسخیر ضروری تھی چنانچہ برطانیہ نے نجد پر قابض قبیلہ آل سعود کی مدد کی تاکہ حجاز سے عثمانی تسلط کو ختم کیا جا سکے۔ اس کے لئے عربوں کی ترکوں کے خلاف نہایت خونریز جنگیں ہوئیں اور عربوں کی آپس میں بھی ویران گر جنگیں ہوئیں۔ ان جنگوںمیں دو برطانوی جاسوسوں کا اہم کردار رہا ہے۔ توماس لارنس شرفاءہاشمی کے کیمپ میں اور ویلیم شکسپیئر آل سعود کے کیمپ میں فعال تھے ان دونوں کا اصلی کام عرب کے متحارب قبائل کو عثمانی حکومت کے خلاف متحد کرنا اور لڑانا تھا۔
ویلیم شکسپیئر ایک جنگ میں مارا گیا تو برطانیہ نے اس کی جگہ ایک اور جاسوس مقرر کیا جس کا نام ہری سینٹ جان بریچر فلیبی تھا۔ سینٹ جان نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور اپنا نام عبداللہ رکھا۔اس نے آل سعود کی تقویت کی اور برطانوی وعدوں پر امید وار رکھا۔ حجاز پر شرفاءکی حکومت تھی لیکن لارنس کی موجودگی کی وجہ سے عملاً یہ علاقہ برطانیہ کے تحت حمایت سمجھا جاتا تھا۔ 1928 ءمیں برطانیہ اور آل سعود کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے مطابق برطانیہ حجاز پرقبضہ کرنے کی راہ میں مانع نہیں ہو گا۔ 1932 ءمیں باقاعدہ طور پر برطانیہ نے حجاز کا علاقہ آل سعود کو سونپ کر حجا ز کے اندر ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی جس کا نام سعودی عرب یا” الملک العربیہ السعودیہ ”قرار پایا۔اگر دنیا کے کسی خطے میں مسلمانوں کے خلاف سازش ہو رہی ہے وہ یہودیوں کی دین ہے،اور ہندوستان میں ہو رہی ہے تو اس میں برہمنوں کا ہاتھ ہے۔
ماخوذ۔۔
ادارہ دائر المعارف۔تسنیم نیوز۔ مضامین ،محمد ساخر کی تحقیق ،فاروق طارق،سلطان خان اور دیگر ذرائع سے
رابطہ 9968012976

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close