اتر پردیشسیاست

اتر پردیش میں 38-38 سیٹوں پر انتخاب لڑیں گی ایس پی اور بی ایس پی

مایاوتی اور اکھلیش نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے کیا اعلان

لکھنؤ: بہوجن سماج وادی پارٹی اور سماج وادی پارٹی نے ہفتہ کو لوک سبھا انتخابات کو لے کر اپنے اتحاد کا اعلان کیا۔ دونوں پارٹیاں اتر پردیش میں 38-38 سیٹوں پر انتخاب لڑیں گی۔ اتحاد سے کانگریس کو باہر کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس کے لئے امیٹھی اور رائے بریلی کی سیٹ چھوڑ دی گئی ہے۔
دارالحکومت واقع ایک ہوٹل میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج وادی پارٹی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کااعلان کیا گیا۔ اس دوران بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ ہم ملک و مفاد عامہ کے لئے گیسٹ ہاؤس سانحہ کو بھول کر انتخابی سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی سخت نسل پرستانہ پالیسی، ایودھیا اور فرقہ وارانہ ماحول کی وجہ سے ہم متحدہوئے ہیں۔ یہ ایک انقلابی فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف الیکشن جیتنے کے لئے متحد نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ہمارا مقصد بے روز گاروں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کی آواز اٹھانا بھی ہے۔
پریس کانفرنس شاہ اور مودی کی نیند اڑا والی
انہوں نے کہا کہ بی ایس پی اور ایس پی کی یہ کانفرنس تاریخی ہے۔ یہ امت شاہ اور مودی کی نیند اڑا نے والی کانفرنس ہے۔ انہوں نے دونوں کو گرو اور چیلا بتایا۔
مایاوتی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی بابا صاحب اور لوہیا کے بتائے راستے پر چلنے والی پارٹی ہے۔ 1993 میں ملائم اور بی ایس پی نے اتحاد کر کے انتخاب لڑا تھا۔ بی جے پی کی ذات پر مبنی پارٹی کو ہرایا تھا۔ بی ایس پی سپریمو نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں بے ایمانی سے حکومت بنائی ہے۔ ضمنی انتخابات میں ہم لوگوں نے ان امیدواروں کو شکست دے کر شروع کر دی ہے۔ آج بھی اتر پردیش اور ملک کے عوام بی جے پی سے پریشان ہیں اور انتخابی وعدوں کی ناکامی سے سب پریشان ہیں۔ تمام طبقات کا احترام کرتے ہوئے ہم انتخابی اتحاد کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلی نے کہا کہ 2019 کے لئے یہ نیا سیاسی انقلاب ہوگا۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے فیصلے نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا فیصلہ بغیر سوچے سمجھے کیا گیا ہے۔
بی جے پی کے راج میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی
مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی کا ایجنڈا ہے کہ اپنے مخالفین کو کمزور کریں۔ ماضی میں لگے ایمرجنسی جیسے حالات آج بھی موجود ہیں۔ اس وقت اعلانیہ ایمرجنسی تھا اور اس وقت بی جے پی کے راج میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے۔
کانگریس کو اتحاد سے باہر رکھنے کی بتائی وجہ، حملہ بولا
بی ایس پی سربراہ نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس نئے اتحاد میں کانگریس کو شامل نہیں کیا۔ کیونکہ ملک میں زیادہ تر کانگریس پارٹی نے ہی راج کیاہے۔ ان کے دور حکومت میں ملک میں غربت، بے روزگاری اور بدعنوانی وغیرہ بھی سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے بعد ہی ایس پی-بی ایس پی وغیرہ کا قیام ہوا۔ کانگریس ہو یا بی جے پی اینڈ کمپنی دونوں کے طریقہ کار اور پالیسیاں ایک جیسی نظر آتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں کانگریس کے امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔ پورے ملک میں تمام لوگ پریشان ہیں۔ آزادی کے بعد سے زیادہ وقت کانگریس نے یہاں پر راج کیا ہے۔ ان کے اقتدار میں بدعنوانی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے ایس پی اور بی ایس پی کی تشکیل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاعی سودے میں زبردست گھوٹالے ہوئے ہیں۔ بوفورس میں کانگریس کو اپنا اقتدار گنوانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح رافیل میں بھی بی جے پی کی حکومت جانے والی ہے۔ ملک کے دفاعی سودوں میں بی جے پی اور کانگریس نے بڑی سطح پر گھوٹالے کئے ہیں۔ اب اس کی بحث چاروں طرف ہے۔ہمیں پورا یقین ہے کہ بی جے پی کو جس طرح ہم نے ضمنی انتخابات میں شکست دی ہے، اسی طرح ہم لوک سبھا انتخابات میں بھی شکست دیں گے ۔
مایاوتی کی توہین، میری توہین:اکھلیش
اس موقع پر ایس پی صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی پر حملہ آور ہوتے ہوئے کہا کہ اب کوئی اگر مایاوتی جی کی توہین کرے گا تو وہ میری توہین کرے گا۔ سوشلسٹوں کی شناخت ہے کہ وہ سکھ اور دکھ میں ایک ساتھ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں مل کر بی جے پی کا صفایا کریں گے۔ ہمارا اتحاد صرف انتخابی اتحاد نہیں ہے۔ ہم دونوں پارٹی کے کارکن مل کر بی جے پی کے ظلم کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے نشے میں چور بی جے پی کے لیڈروں نے محترم مایاوتی جی کے اوپر غیر شائستہ تبصرہ کرنا شروع کیا تھا، ہمارے اتحاد پر بی جے پی نے اسی دن مہر لگا دی تھی۔ ہمارے مشترکہ امیدوار بھیم راؤ امبیڈکر کو دھوکے سے شکست دینے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہمیں اگرمتحدہونے کے لئے دو قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑا تو ہم ہٹیں گے، لیکن بی جے پی کو شکست دے کر رہیں گے۔
اتحاد سے گھبرا کر بی جے پی کر سکتی ہے سازش
اکھلیش نے کہا کہ بی ایس پی اور ایس پی کے اتحاد سے گھبرا کر بی جے پی طرح طرح کے سازش کر سکتے ہیں۔ غلط فہمیاں پیدا کر سکتی ہے۔ ہمارے کارکنوں کے درمیان نفرت پیدا کر سکتے ہیں، فساد کرا سکتے ہیں لیکن ہمیں تحمل اور صبر سے کام کرنا ہے اور باہمی بھائی چارے کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مایاوتی جی کے ذریعہ ملک کے مفاد میں لئے گئے تاریخی فیصلے کاخیر مقدم کرتا ہوں اور یہ مانتا ہوں کہ آنے والے وقت میں دونوں جماعتوں کے تعلقات اور بھی قریبی ہوں گے۔
بھگوان رام کو بھی کر دیا دکھی
اکھلیش نے بی جے پی پر حملہ آور ہوتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے پر حکومت نے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ملک اور معاشرے کو ایک فارمولے میں باندھنے کے بجائے لوگوں کو بانٹنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بھگوان رام کو بھی دکھی کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسپتال میں علاج سے پہلے ان کی ذات پوچھی جارہی ہے۔ حادثے میں ہوئے لوگوں کا علاج کرنے سے پہلے ذات پوچھی جارہی ہے۔ اصل مسائل سے توجہ بھٹکانے کے لئے بی جے پی ملک میں مذہبی منافرت پھیلا کر خوف اور دہشت کا راج کرنا چاہتی ہے۔ اکھلیش نے آر ایل ڈی کے اتحاد کے معاملے پر براہ راست طور پر کچھ کہنے سے گریز کیا۔انہوں نے کہا کہ اس کی معلومات بعد میں ہو جائے گی۔
اکھلیش نے بھی پریس نوٹ پڑھ کر دیا بیان
خاص بات رہی ہے کہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مایاوتی نے جہاں ہمیشہ کی طرح پریس نوٹ پڑھ کر اپنی بات رکھی وہیں ان کے ساتھ بیٹھے اکھلیش نے بھی اسی طرح اپنا بیان دیا۔ اکھلیش عام طور پر ایسا نہیں کرتے ہیں۔ اس کے بعد میڈیا کے سوال پوچھنے پر دونوں رہنماؤں نے جواب دیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close