بہارپٹنہ

اختیار کاری سے خواتین مستحکم ہوں گی

ترقی کا فائدہ سماجی برائیوں کے خاتمے سے ہی موثر ہوگا،صنف نازک کے سلسلے نظریات بدلنے کی ضرورت: نتیش

پٹنہ:وزیر اعلیٰ نتیش کمارنے آج سمراٹ اشوک کنونشن سینٹر واقع ’باپو ہال‘ میں جے ڈی یو سماج سدھار واہینی کے ذریعہ منعقد ریاستی سطح کے ’سماجی چیتنا مہا سمیلن‘کا شمع روشن کر کے افتتاح کیا ۔ اس موقع پر منعقد پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سب سے پہلے میں سماج سدھار واہینی کی پوری ٹیم کو سماجی ’چیتنا مہا سمیلن‘ کے انعقاد کے لیے مبارک باد دیتا ہوں۔ بہار کے تمام اضلاع سے لوگ حاضر ہوئے ہیں ۔ میں آپ تمام لوگوں کا استقبال کر تا ہوں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقی کا فائدہ اس وقت تک موثر نہیں ہوگاجب تک سماجی برائیوں سے نجات نہ ملے ۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اسی کیلئے پارٹی کی سطح پر اور سال 2005 کے نومبر میں سرکار میں آنے کے بعد سے کام کیا ہے۔سماج کے حاشیہ پر کے لوگوں کومین اسٹریم میں لانے کے لیے کام کیے گئے ہیں ۔ نصف آبادی کو مردوںکے مساوی حق ملے اس کے لیے حکومت نے پنچایتی راج نظام ، میونسپل کارپوریشن کے نمائندوں میں خواتین کو50 فیصد ریزر ویشن دیا ۔ ملک میں ایسا کہیں نہیں ہوا تھا ۔انتخاب کے بعد 50فیصد سے زیادہ خواتین منتخب ہو نے کے بعد فیصلے میں حصہ دارہویں، عوام کے مسائل سے روبرو ہوئیں اور حل کے لیے آگے آئیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غریبی کے سبب والدین اپنی بچیوں کو پانچویں کلاس کے باد پوشاک کی کمی کے سبب اسکول نہیں بھیج پاتے تھے ، ہم لوگوں نے میڈل اسکول کی بچیوں کے لیے پوشاک منصوبہ کی شروعات کی ، جس سے لڑکیاں اسکول جانے لگیں اور سماج کا ماحول بد لا ۔ نویں کلاس کی بچیوں کے لیے سائیکل منصوبہ کی شروعات کی ۔(بقیہ 3پر)
لڑکیاں پوشاک پہن کر گروپ میں جب اسکول جانے لگیں تو لوگوں کی ذہنیت بد لی اور سماجی ماحول میں بڑا بد لائو آیا ۔ بعد میں لڑکوں کے لیے بھی سائیکل منصوبہ کی شروعات کی گئی ۔ لڑکیوں کو خود کی حفاظت کے لیے جوڈوکراٹے ،مارشل آرٹ کی ٹریننگ اسکولوں میں شروع کی گئی ، گاندھی میدان میں 30 ہزار سے زیادہ لڑکیوں نے اس فن کا مظاہرہ کیا تھا ۔ لڑکیوں میں خود اعتمادی بڑھی اور زندگی میں بلندی کو چھونے کے لیے ایک سوچ قائم ہوئی ۔ سائیکل منصوبہ کی شروعات کے وقت نویں کلاس جانے والی لڑکیوں کی تعداد جہاں 1لاکھ 70 ہزار تھی ، آج ان کی تعداد 9لاکھ تک پہنچ چکی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی بڑھتی آبادی کے اسباب کا سروے کرانے کے دوران پتہ چلا کہ شادی شدہ جوڑے میں اگر لڑکی میٹرک پاس ہے تو پیدائش کی شرح 2فیصد ہے یہ شرح قومی سطح پر بھی ہے ۔ شادی شدہ جوڑے میں اگر انٹر پاس ہے تو یہ پیدائش کی شرح قومی سطح سے بھی کم ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اگر بیٹیاں انٹر پاس ہو جائیں تو آبادی پر قابو پانے میں بہت سہولت ہو گی ۔ ہر پنچایت میں پلیس ٹو تک کی تعلیم کے لیے اسکول قائم کر نے کا فیصلہ کیاگیا ۔ 1200اسکول قائم کیے جا چکے ہیں ۔ 15ویں مالی کمیشن کے سامنے مزید اسکول قائم کرانے کے اپنے نشانہ کے بارے میں بتایا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لڑکیوں کی پیدائش کے وقت سے ہی حکومت اس کے لیے کام کررہی ہے۔ لڑکی کی پیدائش پر والدین میں سے کسی کے کھاتے میں 2ہزار روپے جمع کر دیے جائیں گے ۔ ایک سال ہو نے پر آدھار سے لنک ہو تے ہی ایک ہزار روپے ، 2سال کے اندر مکمل ٹیکا کاری ہو نے پر اور 2ہزار روپے ، یعنی کل 5ہزار روپے والدین کے کھاتے میں جمع کر دیے جائیں گے ۔ لڑکیوں کی پوشاک کی رقم پہلے سے دوسرے کلاس کے لیے 4سو روپے سے بڑھا کر 600 روپے ، تیسرے سے پانچویں تک کے لیے 500 سے بڑھا کر 700 روپے ، چھٹی سے ،آٹھویں تک کے لیے 700سے بڑھا کر 1000روپے ، نویں سے 12رہوں کلاس کے لیے 1000سے بڑھا کر 1500 روپے کر دیا گیا ہے ۔ساتویں سے بارہوں کی کلاس کی لڑکیوں کے لیے دی جاری سینٹری نیپکن کی رقم 150 روپے سے بڑھا کر 300روپے کر دی گئی ہے ۔ انٹر میڈیٹ پاس کر نے والی غیر شادی شدہ لڑکیوں کو 10,000 روپے اور گریجویشن کر نے والی لڑکیوں کو چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادہ شدہ 25,000 روپے دیے جائیں گے ۔ یعنی بچی کی پیدائش سے گریجویشن تک حکومت اس پر 54,100روپے خرچ کررہی ہے ۔ اس منصوبہ کا نام ’کنیا اتھان‘رکھا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر اسکالر شپ اور منصوبوںکا فائدہ الگ سے ملتا رہے گا ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین میں شعوراور خوداعتمادی میں اضافہ کے لیے ابھی تک 8لاکھ سے زیادہ خود مدد گروپ کی تشکیل کی جا چکی ہے اور اسے 10لاکھ تک کرنے کا نشانہ ہے ۔ گروپ سے منسلک ہو نے والی خواتین کو بنک سے متعلق ، خود روزگار اور ریاستی حکومت سے متعلق منصوبوں کا فائدہ کی جانکاری بھی ملتی ہے اور اس کا فائدہ بھی ملتا ہے ۔ ذاتی طور پر خود مدد گروپ کی خواتین جوعوامی نظام تقسیم (پی ڈی ایس )دکان چلاتی ہیں ان سے بات کر نے سے پتہ چلا کہ انہیں 6ہزار روپے فی ماہ بچت ہو رہی ہے اور لوگوں کو صحیح ڈھنگ سے تقسیم بھی کررہی ہیں ۔ ان کے خلاف مستفیضوں میں کوئی ناراضگی نہیں ہے ۔ جیویکا کی خواتین خود روزگار کے لیے جو قرض بینک سے لیتی ہیں اسے وقت پر واپس دی دیتی ہیں۔ یہ اپنے آپ میں ایک بڑی بات ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 9جولائی 2015 کو سری کرشن میموریل ہال میں خواتین اختیار کاری کے پروگرام میں کچھ خواتین نے شراب بندی کا مطالبہ کیا اور میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ سرکارمیں آنے پر شراب بندی نافذ کریں گے ۔یکم اپریل 2016 سے ریاست میں میونسپلٹیوں اور میونسپل کارپوریشن میں غیر ملکی شراب کی فروخت کو چھوڑ کر شراب بندی نافذ کی گئی ۔ خواتین ، نوجوانوں کے ذریعہ میونسپل کارپوریشن اور میونسپلٹی میں بھی شراب بند کر نے کے لیے کافی مظاہرے ہوئے اور ہم نے فیصلہ کر تے ہوئے 05اپریل 2016 سے ریاست میں مکمل شراب بندی لاگو کر دیا ۔ 12جنوری 2017 کو 4کروڑ لوگوں نے انسانی زنجیر بنا کر شراب بندی کے حق میں اپنی حمایت ظاہر کی تھی ۔ شراب بندی کے بعد خواتین نے آپ بیتی میں بتا یا ہے کہ اب شوہر شام کو گھر سبزی لے کر آتے ہیں اور اچھی اچھی باتیں کر تے ہیں ۔ پہلے شراب پی کر آتے تھے ، زدو کوب کر تے تھے ، گھر کا ماحول تکلیف دہ رہتا تھا وہ دیکھنے میں بھی خراب لگتے تھے ۔ شراب بندی کے بعد وہ دیکھنے میں بھی اچھے لگتے ہیں ، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچھ دھندے باز لوگ ابھی بھی اس کام میں لگے ہوئے ہیں ۔سرکاری ذرائع بھی اس میں ملوث ہیں، ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے ۔ آئی جی شراب بندی کی تشکیل کی گئی ہے ۔ ایک ٹول فری نمبر بجلی کے کھمبے پر 18003456268 اور 15545لکھا ملے گا ،جس پر آپ لوگ فورا اطلاع دیجئے گا ،اس پر فوری کارروائی ہو گی اور آپ کو بھی مطلع کیاجائیگا ۔ اطلاع دینے والے کا نام خفیہ رکھا جائے گا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو لوگ چولائی شراب کے کام سے جڑے تھے ’ مسلسل روزگار منصوبہ‘ کے تحت متبادل روزگار ، جیسے گائے پروری ، دکانداری ،جو بھی ان کے لیے مناسب ہو انتظام کیا جا رہا ہے ۔ اس کے لیے 60ہزار رے سے ایک لاکھ روپے مہیا کرائے جائیں گے ۔ویسے بے سہارا کنبے جنہیں کسی منصوبہ پر فائدہ نہیں مل رہا ہے ۔ انہیں بھی اس منصوبہ کے تحت فائدہ پہنچایا جائے گا ۔ خود مدد گروپ کے توسط سے ایسے کنبوں کو نشانزد کیاجارہا ہے ، تاکہ مسلسل روزگار منصوبہ کے تحت انہیں خود کفیل بنا یا جا سکے۔ تاڑی کی جگہ پر نیرا کا استعمال صحت کے لیے بہت مفید ہے اور اس سے بننے والا گڑ بھی بہت فائدہ مند ہے ۔ شراب بندی کے بعد سے خواتین پر ہو نے والے مظالم میں کمی آئی ہے اور ان کا وقار بھی بڑھا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 18سال سے کم عمر کی لڑکی اور 21سال سے کم عمر کے لڑکے کی شادی قانونا جرم ہے ۔ ناباغ حالت میں شادی ہو نے پر حمل کے دوران خواتین موت کی شکار ہو جاتی ہیں ، جو بچے پیدا ہو تے ہیں ان میں کئی طرح کی بیماریاں ، جیسے بونا پن ،کم ذہانت وغیرہ ہو تا ہے ۔کم عمر میں شادی غریب والدین اس لیے بھی کر دیتے ہیں کہ انہیں جہیز کم دینا پڑے گا ، پہلے جہیزکا رواج مالدار لوگوں میں تھا ۔ اب یہ غریب لوگوں میں بھی رواج پا گیا ہے ۔ اطفال شادی اور جہیز کی رسم ایک سماجی لعنت ہے ، اس کے خلاف ہم لوگوں نے سماجی مہم گزشتہ سال باپو کے یوم پیدائش سے شروع کی تھی ۔یہ سال باپو کی چمپارن آمد کا سوسال کا بھی تھا ۔ یہ مہم چلا کر باپو کے تئیں ہم لوگوں نے اپنا خراج عقیدت پیش کیا ۔ گاندھی جنتی پر 150ویں سال کی شروعات ہوئی ہے ، جو دو سال تک چلے گی ۔ اس دوران بھی کئی پروگرام ہوں گے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ لوگ سماجی چیتنا مہا سمیلن میں شامل ہوئے ہیں ۔اس سماجی برائی کے خلاف مہم چلائیں ۔ جہیزلینے اور دینے والے پنے کسی قریبی کے شادی میں شامل نہ ہوں ۔اس سے اس کا موثر اثر پڑے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائپ پانی فراہمی کے توسط سے شفاف پانی کاانتظام لوگوں کے لیے کیاجارہا ہے ۔ ہر گھر اجابت خانہ کی تعمیر کرائی جارہی ہے ۔ خواتین کو اجابت کے لیے سب سے زیادہ دشواری کا سامنا کرنا ہو تا تھا ۔صاف پینے کا پانی اور کھلے میں اجابت سے نجات مل جانے سے کئی طرح کی بیماریوں سے چھٹکارا مل جائے گا ۔خواتین’ مضبوطی کی علامت ‘مانی جاتی ہیں ۔ آپ لوگ سماج سدھار کی اس مہم مسلسل لگی رہیں اور لوگوں کو متوجہ کر تے رہیں ۔ لوگوں کے دل میں خود جذبہ پیدا ہو گا تب سماجی سدھار مکمل طور پر ممکن ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقی کے ہر شعبہ میں کام کیاجارہاہے ۔ سڑکوں کی تعمیر کی جارہی ہے،پختہ گلی نالی کی کی تعمیر ،ہر گھر نل کا جل ، اجابت خانہ کی تعمیر کرائی جارہی ہے ۔ ہر گھر تک بجلی پہنچانے کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ کتنے بھی ترقیات کے کام ہو جائیں لیکن جب تک سماجی برائی ختم نہیں ہوگی ترقی کا پورا فائدہ سامنے نہیں آئے گا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین کو پہلے پولیس میں اور بعد میں ریاست کی تمام سرکاری سروسیز میں 35فیصد کا ریزر ویشن دیا گیا ۔ ہر ضلع میں لیڈی تھانہ بنا یا گیا ، ہر تھانہ میں خواتین کے لیے اجابت خانہ کا انتظام اور بیٹھنے کا مناسب انتظام کیا گیا۔خواتین خودکاری کے لیے ہم لوگوں نے کافی کام کیا ہے ۔ ہم لوگ اپنے کام کی تشہیر نہیں کر تے ۔ گاندھی جی کہا کر تے تھے ’منتخب حکومت ٹرسٹی ہے مالک نہیں‘۔خواتین اختیار کاری کے لیے چلائے جارہے منصوبے کا آپ لوگ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں ۔جب تک خواتین اور مرد میںمساوات نہیں ہوگا تب تک سماج آگے نہیں بڑھے گا،مرد اور عورت دو پہیے کی طرح ہیں ،جن میں مساوات ضروری ہے ۔یہی قدرت کا قانون نے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’سماجی چیتنا سمیلن ‘کی کافی اہمیت ہے ۔آپ لوگ اسے بلاک اور پنچایت سطح تک منعقد کریں ، سرکاری کی پالیسیوں اور منصوبوں کی ایک ایک چیز کی جانکاری لوگوں کو دیں ۔لوگوں سے رد عمل لے کر ہو نے والے خرابیوں میں سدھار بھی کر تے ہیں اور نئی پالیسیاں بناتے ہیں ۔ حکومت کی پالیسیون پر بہتر عملدرآمد کے لیے آپ لوگوں کی بیداری ضروری ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ ایک دوسرے کے تئیں احترام اور عزت کا جزبہ رکھئے چاہئے کوئی کسی ذات یامذہب سے کیوں نہ ہو۔ عورتوں کا بہت اہم کردارکنبہ میں ہو تا ہے ، جس کا اثر بیٹے اور بیٹیوں پر پڑتا ہے ۔ پیارمحبت کا ماحول رکھ کر آپ مردوں کو بھی ٹھیک راستہ پر چلنے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ عورتوں کے استحکام سے یہ صر عورتیں مستحکم ہوں گی سماج، ریاست ، ملک ،انسان اور زمین کا استحکام ہو گا۔
وزیر اعلیٰ کا خیر مقدم پودا ، شال اور مومنٹو دے کر کیا گیا ۔پروگرام کوممبر پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) و جے ڈی یو رکے ریاستی صد جناب وششٹ نارائن سنگھ ، ممبر پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) آر سی پی سنگھ ، ممبر پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) محترمہ کہکشاں پروین ،ممبر اسمبلی جناب شیام رجک، ممبر اسمبلی محترمہ لیسی سنگھ ، سماج سدھار واہنی کی صدر محترمہ رنجو گیتا نے بھی خطاب کیا ۔
اس موقع پر ٹرانسپورٹ کے وزیر جناب سنتوش کمارنرالا، ممبر اسمبلی محترمہ پونم یادو ، ممبر اسمبلی محترمہ کویتا سنگھ ، ممبر اسمبلی محترمہ رانی یادوسمیت دیگر سابق ممبر پارلیمنٹ سابق ممبر اسمبلی ، لیڈران اور بڑی تعداد میں خواتین موجود تھیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close