ادب

ادبی مجلہ :خدا بخش لائبریری جرنل، پٹنہ

ادبی مجلہ :خدا بخش لائبریری جرنل، پٹنہ (بھارت )

غلام شبیر رانا
تبصرہ نگار :ڈاکٹر غلام شبیر رانا
خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ کا شمار بر صغیر کے اہم تحقیقی مراکز میں ہوتا ہے۔ اس کے زیر اہتمام شائع ہونے والا علمی ، ادبی اور تحقیقی مجلہ ’’خدا بخش لائبریری جرنل ‘‘ایک بُلند پایہ رجحان ساز تحقیقی مجلہ ہے۔ پاکستان میں قائد اعظم لائبریری لاہور بھی اپنے نادر علمی ذخائر کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ ممتاز کتب خانوں اور اہم اشاعتی اداروں کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے علمی ادبی اور تحقیقی مجلّات روشنی کا وہ مینار ہیں جن کے اعجاز سے رہروان تحقیق کو نشانِ منزل مل جاتا ہے۔ قائد اعظم لائبریری لاہور کے زیر ا ہتمام شائع ہونے والا مجلہ ’’ مخزن ‘‘ ، انجمن ترقیِ اُردو کراچی کا مجلہ ’’قومی زبان‘‘ اقبال اکادمی ، لاہور کا مجلہ ’’اقبالیات ‘‘ اور علامہ اقبال سائبر لائبریری ، اکادمی ادبیات ، اسلام پاکستان ، اسلام آباد کا مجلہ ’’ادبیات ‘‘نیشنل بُک فاؤنڈیشن اسلام آباد کا مجلہ ’’کتاب ‘‘اور وزارت اطلاعات کا مجلہ ’’ماہ نو۔ لاہور ‘‘معاصر ادب کے بارے میں مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان اہم مجلّات اور ان سے وابستہ ممتاز کتب خانوں کی مشترک خوبی یہ ہے کہ ان کتب خانوں سے جو وقیع تحقیقی علمی و ادبی مجلات شائع ہوتے ہیں اُنھیں پوری دنیا میں شرف پذیرائی نصیب ہوتا ہے۔ ان کتب خانوں کو علوم کے ایسے بحر بے کراں کی حیثیت حاصل ہے جس کی غواصی کرنے والے لاکھوں طالب علم یہاں کشاں کشاں آتے ہیں اور گوہر مراد پاتے ہیں۔ تہذیب و تمدن کی با لیدگی اور علوم و فنوں کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں ان مجلات کی خدمات تاریخ کے اوراق میں آبِ زر سے لکھی جائیں گی۔ یہ تحقیقی مجلات قارئینِ ادب میں عصری آگہی پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جمود کا خاتمہ کر کے فکر و نظر کو مہمیز کرتے ہیں۔ چند روز قبل مجھے خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ کا ادبی مجلہ ’’خدا بخش لائبریری جرنل ‘‘کا حال ہی میں شائع ہونے والا شمارہ 171موصول ہوا۔ یہ جان کر دلی مسرت ہوئی کہ اس تاریخی مجلے کی مجلسِ ادارت میں عالمی شہرت کے حامل دانش ور شامل ہیں۔ اس کے مدیر ڈاکٹر امتیاز احمد ہیں جو کہ خدا بخش لائبریری میں ڈائرکٹر کے منصب جلیلہ پر فائز ہیں۔ مجلسِ ادارت میں ان کے ساتھ پروفیسر حبیب المرسلین سابق پروفیسر شعبہ فارسی پٹنہ یونیورسٹی ، پٹنہ ، پروفیسر شمشاد حسین سابق وائس چانسلر ، مگدھ یونیورسٹی ، بودھ گیا اور پروفیسر ارون کمل شعبہ انگریزی ، سائنس کالج ، پٹنہ معاون ہیں۔ یہ سہ ماہی مجلہ اردو اور انگریزی دو زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔ اس شمارے میں اردو کے لیے دو سو چونتیس صفحات اور انگریزی کے لیے اڑتیس صفحات مخصوس ہیں۔ مجلے کا اداریہ بھی اردو اور انگریزی زبان میں الگ الگ تحریر کیا گیا ہے۔ لائق مدیر نے اپنے خیال پرور اور فکر انگیز اسلوب سے عصری آگہی پروان چڑھانے کی کامیاب سعی کی ہے۔ اس مجلے میں شامل تحریروں کے بارے میں مدیر اعلا کے تعارفی کلمات قاری کے لیے خضرِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اہم علمی مباحث اور تنقیدی و تحقیقی مضامیں کے بارے میں مدیر اعلا کی یہ مختصر رائے اپنی اہم ترین اور وقیع ترین نوعیت کے اعتبار سے دریا کو کوُزے میں بند کرنے کی مسحور کُن کوشش ہے جو قلب و نظر کو مسخر کر لیتی ہے اور قاری فرطِ اشتیاق سے ان تحریروں کے مطالعہ پر مائل ہو جاتا ہے۔ اس پر یہ حقیقت واضح ہوتی چلی جاتی ہے کہ مجلّے میں شامل تحریروں کے الفاظ گنجینۂ معانی کا ایک طلسم ہیں جن کے وسیلے سے فکر و خیال کو نئے آفاق تک رسائی ملتی ہے اور ذہن و ذکاوت اور روح کو بصیرت افروز تصورات سے متمتع کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس شمارے میں شامل مضامین کی فہرست پر ایک نظر ڈالنے سے مجلس ادارت کے ذوق سلیم کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ آئیے دیکھیں سبدِ گُل چیں میں کیا ہے جس کی عطر بیزی سے دامنِ دل معطر ہو رہا ہے :

خدا بخش لائبریری جرنل کا یہ شمارہ اقبالیات ، اردو ادب ، فارسی طباعت ، ہندوستانی ثقافت ، خصوصی شمارے ، انگریزی حصہ ، اسلامیات اور تاریخ کے گوشوں پر مشتمل ہے۔ پیش گفتار(اداریہ )کے بعد حصہ اقبالیات کا آغاز ہوتا ہے۔ اس حصے میں ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری ، ڈاکٹر ممتاز احمد خان، رفیع الدین ہاشمی اور اسد فیض کے مقالا ت شامل ہیں۔ اس کے بعد اردو ادب کے زیر عنوان مضمون ’’اردو ادب کی رومانوی تحریک :ایک مطالعہ ‘‘شامل ہے جسے ڈاکٹر غلام شبیر رانا نے لکھا ہے۔ فارسی طباعت کے تحت نہایت جامع ، اہم اور وقیع تحقیقی مقالہ ’’جنوبی ایشیا میں فارسی طباعت کا عروج و زوال ‘‘ڈاکٹر معین الدین عقیل نے تحریر کیا ہے۔ ہندوستانی ثقافت کے حصے میں پروفیسر عائشہ رئیس نے اپنے تحقیقی مضمون ’’ہندوستانی ثقافت کی ترویج و اشاعت میں عربی پنچ تنتر کا حصہ ‘‘میں اہم تاریخی حقائق کی گرہ کشائی کی ہے۔ خدا بخش لائبریری پٹنہ کے ریسرچ فیلو نور محمد اثری نے اپنے تحقیقی مقالے ’’ خدا بخش لائبریری میں اردو رسائل کے خاص نمبر ‘‘کے موضوع پر چشم کشا حقائق پر روشنی ڈالی ہے۔ الف بائی ترتیب سے مرتب کیے گئے اس اشاریے کی پہلی قسط اس مجلے میں شائع کی گئی ہے۔ یہ ایک وسیع کام ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال پر ادبی مجلات نے ایک سو انیس مکمل شمارے اور تئیس گوشے شائع کیے۔ اسی طرح مرزا اسداللہ خان غالب پر ادبی مجلات نے چھیانوے مکمل شمارے سترہ گوشے شائع کیے۔ اس تاریخی علمی و ادبی مجلّے کا یہ اشاریہ قارئین ادب کو علم و ادب کے ایک جہانِ تازہ سے روشناس کراتا ہے۔ دنیا بھر کے اردو ادبی مجلات میں جن ممتاز شخصیات پر گوشے مخصوص کیے گئے ہیں یا ان پر خصوصی نمبر شائع ہوئے ہیں یہ اشاریہ ان کا مکمل احاطہ کرتا ہے۔ توقع ہے کہ اس اشاریے کی دوسری قسط بھی جلد پیش کی جائے گی۔ اس کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ افق ادب کے وہ آفتاب و ماہتاب جو کہ اب عدم کی بے کراں وادیوں میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو چکے ہیں ان کی سپاس گزاری میں ادبی مجلات نے کیا خدمات انجام دی ہیں۔ یہ اشاریہ قاری کو تحقیق کی اہمیت سے روشناس کراتا ہے۔ ۔ نو سو تیس شماروں اور تین سو ستر شعرا کے ذکر سے اس اشاریے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ خدا بخش لائبریری پٹنہ کی علمی و ادبی سر گرمیوں کے بارے میں بھی ایک جامع رپورٹ اس مجلے میں شامل ہے جو فکر و نظر کے متعدد نئے دریچے وا کرتی ہے۔ انگریزی حصے میں اداریے کے بعد اسلامیات کا حصہ ہے اس میں دو مضامین شامل ہیں :

انگریزی حصے میں اسلامیات کے عنوان سے دو اہم تحریریں شامل اشاعت ہیں۔ پہلا مضمون 1.Quran ,Science and Cosmos ۔ یہ مضمون محمد صبیح بخاری نے تحریر کیا ہے۔ ’’قرآن سائنس اور کائنات ‘‘ کے مطالعہ سے عصری آگہی کو پروان چڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس شمارے میں انگریزی حصے میں دوسرا مضمون ’’سائنسی علوم پر اسلامی اثرات ‘‘کے عنوان سے شامل ہے :

2.Islamic influence on Scientific Learning ۔ یہ مضمون محمد افروز عالم نے لکھا ہے جو مولانا آزاد نیشنل اُردو یو نیورسٹی حیدرآباد کے شعبہ تعلیم و تربیت میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں۔

تاریخ کے حصے میں ایک اہم مضمون "Some of the Stations of Silk Route between India and Central Asia ” کے عنوان سے شامل ہے۔ یہ مضمون ممتاز محقق محمد آصف نعیم صدیقی نے تحریر کیا ہے جن کا تعلق علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کے شعبہ فارسی سے ہے۔

خدا بخش لائبریری جرنل ایک معیاری تحقیقی ادبی مجلّہ ہے جو تاریخ کے مسلسل عمل کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ اس میں تہذیبی و ثقافتی عوامل کو کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی اسے نہایت دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔ حالیہ شمارے میں حصہ اردو کے قلمی معاونین میں سے چار کا تعلق پاکستان سے ہے۔ مجلس ادارت نے کوشش کی ہے کہ تعلیم ، تحقیق اور تنقید کے وسیلے سے قارئین ادب کو بالعموم اور نئی نسل کو بالخصوص تہذیبی میراث کے بارے میں مثبت شعور و آگہی فراہم کی جائے۔ اقوام کی زندگی میں متعدد نشیب و فراز آتے ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں تاریخ کے طوماروں میں دب جاتی ہیں ، تخت و کلاہ و تاج کے سب سلسلے اور جاہ و حشمت کے افسانے سیل زماں کے تھپیڑوں میں خس و خاشاک کے مانند بہہ جاتے ہیں۔ ابلقِ ایام کے سُموں کی گرد میں شانِ سکندری اور سطوت قیصری عنقا ہو جاتی ہے لیکن ادب و فنون لطیفہ کے اعجاز سے تہذیب کا وجود باقی رہتا ہے۔ اس تحقیقی مجلّے میں ماضی کے حقائق پر پڑ جانے والی ابلقِ ایام کے سُموں کی گرد کو صاف کرنے اور حرفِ صداقت لکھنے کی جو روش اپنا ئی گئی ہے وہ ہر عہد میں لائقِ تقلید رہے گی۔ مستقبل کے مورخین اس لائق صد رشک کام کی وجہ سے اس مجلے سے وابستہ محققین کے عظیم الشان کام اور لائق صد احترام نام کی تعظیم کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close