بہارپٹنہ

اردوآبادی کے طلبا و طالبات مقابلہ جاتی امتحانات میں خاص دلچسپی لیں:امتیاز کریمی

اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام یادگاری تقریب میں جمیل مظہری کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف

پٹنہ: محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام ابھیلیکھ بھون میںبیلی روڈ میں منعقدہ ’’علامہ جمیل مظہری یادگاری تقریب‘‘ میں دانشوارانِ زبان و ادب نے علامہ جمیل مظہری کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوئوں پر تفصیل سے روشنی ڈالا گیا۔ تقریب کے آغاز میں اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر امتیاز احمد کریمی نے تمام مہمانان اور سامعین کا خیر مقدم کیا۔انہوں نے کہاکہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تمام پروگرام کثیر المقاصد ہوتے ہیں۔تقریب میں جہاں اپنے اسلاف اور ان کی خدمات کو یاد کرنا مقصد ہوتا ہے وہیں اس کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ نئی نسل کے طلباء و طالبات بھی اپنے اسلاف سے متعارف ہوں وہ بھی ان کی خدمات اور ان کے کارناموں سے واقف ہوں ۔ یہی نہیں ان میں اردو پڑھنے لکھنے کا ذوق و شوق اور ایک اچھا ادیب اچھا شاعر بننے کی خواہش پروان چڑھے۔اردو زبان و ادب کا فروغ اور اس کی تشہیر ہو۔انہوں نے آج کی تقریب کے حوالے سے بولتے ہوکہا کہ جمیل مظہری ایک بلند پایہ قادر الکلام شاعر، صاحبِ طرز نثر نگار،ایک پر جوش مجاہد آزادی، ایک شفیق استاد اور ایک خلیق انسان کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ہر صنف اور ہر ہیئت میں ان کا مخصوص اسلوب ، منفرد لہجہ او رمترنم عارفانہ شخصیت جلوہ افروز ہوتی ہے۔ جناب کریمی نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے منعقد تمام پروگرام میں ہم طلبا و طالبات کو جوڑتے ہیں ۔ اس کا مقصد ہے کہ وہ تعلیم کی طرف آگے آئیں اور ہمارے شعرا و ادبا ء اپنے مضامین اور اپنے کلام سے بھی طلبا وطالبات کو حصول تعلیم کی اہمیت و افادیت سمجھائیںانہیں بیدار کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اردوکی تعلیم کے حصول پر زور ڈالیں۔انہوں نے کہا کہ دسویں کلاس کے بچوں کے لئے اب صرف چھ مہینہ رہ گیا ہے۔ وہ پوری محنت سے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کریں۔اور 90 فیصد یا اس سے زائد نمبرات حاصل کرنے کا نشانہ مقرر کریں اور کامیابی حاصل کریں۔ نومبر میں رحمانی ۔30 میں داخلہ کا ٹسٹ ایکز ام ہوگا۔ اور یہ صرف میٹرک پاس طلباء کے لئے ہے۔ طلباء اس میں شمولیت کے لئے پوری محنت و لگن سے تیاری کریں ۔ انشاء اللہ محنت کا مثبت نتیجہ حاصل ہوگا۔انہوں نے طلباء کو جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ جامعہ ملیہ کی طرف سے سول سروسیز ایکزامنیشن کی تیاری کرانے کا اہتمام کیا گیا ہے ، جہاں کوچنگ مفت، رہائش مفت اور کھانا مفت ہے۔ طلباء و طالبات یا ایسے گارجین جنہیںاپنی تنگ دستی کی شکایت ہوتی ہے۔ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے سی آر پی ایف ، بی ایس ایف میں بحالی کے لئے 54953 عہدوں پر بحالی کے لئے ویکنسی آئی ہوئی ہے۔ جو میٹرک پاس طلباء و طالبات کے لئے اگر ایسے طلباء جو میٹرک کے بعد اپنی تعلیم ختم کرنا چاہتے ہیں تو وہ روز گار کے حصول کے لئے اس موقع کا فائدہ اٹھائیں ۔ اس میں بحالی کیلئے عمر کی حد 18 سے 23 سال ہے اور فارم بھرنے کی آخری تاریخ۔20 اگست 2018 ہے۔انہوں نے بتایا کہ بی پی ایس سی سے 1200ویکنسی اکتوبر تک آنے والی ہے۔ جو طلبا و طالبات سول سروسیز کی تیاری کے خواہش مند ہیں وہ ابھی سے مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے مستعد ہو جائیں۔اس کی تیاری کے لئے حج بھون میںمفت کوچنگ کا اہتمام کیا جائے گا۔
اردو مشاورتی کمیٹی کے چیئر مین شفیع مشہدی نے اپنے صدارتی خطاب میں مقالہ نگار ڈاکٹر محسن رضا رضوی او رپروفیسر علیم اللہ حالی کے ذریعہ پیش کردہ مقالوں کی پرزور ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ جمیل مظہری اردو شاعری کی آبرو تھے جنہوں نے اردو شاعری کو بلند مقام تک پہنچایا ۔ پروفیسر علیم اللہ حالی نے اپنے مقالہ میں کہا کہ بلاشبہ جمیل مظہری پر دبستانِ عظیم آباد کو ناز ہے۔ وہ ایک عبقری اور عظیم الشان شخصیت کے مالک تھے۔ لیکن مزاج میں بڑی سادگی اور طبیعت میں اخلاق و انسانیت کا جوہر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ ڈاکٹر محسن رضا رضو ی نے علامہ جمیل مظہری کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
اس موقع پر طلباء و طالبات کی جانب سے ریشماں پروین ، کامرس کالج، پٹنہ، نیاز نادر ٹی پی ایس کالج، پٹنہ، شبانہ پروین، اے این کالج، پٹنہ علامہ جمیل مظہری پر اپنے اپنے خیالات کااظہار کرکے سامعین کا دل جیت لیا۔ اردو ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے انہیں انعام اور سند سے نوازا گیا۔ تقریب کے آخر میں ایک مختصر شعری نشست میں کا اہتمام کیا گیا جس میںنسیم مظفر پوری،میم آصف آروی، آرتی کماری، نصر بلخی، تعظیم گوہرنے اپنے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ شعری نشست کی نظامت ڈاکٹر خورشید انور نے بحسن و خوبی انجام دئیے۔ اس تقریب میں غلام رسول قریشی نے نظامت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ترنم میں جمیل مظہری کی ایک خوبصورت غزل پیش کرکے سامعین کو بے حد محظوظ کیا۔اس تقریب میں کثیر تعداد میں شہر اور بیرونِ شہر کی معروف اور معزز شخصیتوں نے شرکت کی جن حسن نواب حسن ،امتیاز کریم، ناشاد اورنگ آبادی، قوس صدیقی ، شائستہ انجم نوری ،مظہر عالم مخدومی، نصر عالم نصر،شمع ناسمین، معین گریڈیہوی،اشرف النبی قیصر،میر سجاد، جمال ندولوی، ڈاکٹر محبوب عالم، انوارالہدیٰ وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔تقریب کا اختتام ڈاکٹر امتیاز احمد کریمی تشکراتی کلمات پر ہوا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close