پٹنہ

اردو کونسل کی زبان تھی ،ہے اور رہے گی

میرے رہتے ہوئے کونسل سے اردو کو کوئی نہیں ہٹا سکتا :ہارون رشید

پٹنہ:لسانی تنظیم عوامی اردو نفاذ کمیٹی بہاکے سربراہ اشرف استھانوی کی قیادت میںایک وفد جمعرات کوبہار قانون ساز کونسل کے معزز کارگذار چیئر مین ہارون رشید سے ان کے چیمبر میں ملا اور قانون سازیہ میں اردو کو ختم کئے جانے کے معاملے پر ایک عرضداشت پیش کرکے ان سے فی الفور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی گذارش کی۔عرضداشت میں کہاگیا ہے کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اور 1995سے قانون سازیہ کی بھی زبان ہے۔ لیکن یہاں سے اردو ملازمین کو ہٹائے جانے کی سازشیں کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں فیصلہ بھی لیا گیا ہے۔ جس کے باعث اردو آبادی میں زبردست غم وغصہ پایا جارہاہے۔ کونسل کے چیئر مین ہارون رشید نے اس الزام کی پرزور تردید کی کہ قانون ساز کونسل میں اردو کو ختم کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو قانون ساز کونسل کی زبان تھی، ہے او ر آگے بھی رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کے رہتے ہوئے قانون ساز کونسل سے اردو کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ہارون رشید نے وفد کو بتایا کہ کونسل کے سابق چیئر مین اودھیش نرائن سنگھ نے 6نومبر 2016کو تکنیکی بنیاد پر اردو اور ہندی کے عہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ ضرور کیاتھااور اس سلسلے کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا تھالیکن میں نے اس فیصلے کو مسترد کردیا اور جس نے بے ضابطگی کا حوالہ دیتے ہوئے اردو اور ہندی کے عہدوں کو ختم کیاگیا تھا،انہیں دور کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ انہوں نے بتایا کہ جو عہدے محکمہ مالیات سے منظور نہیں تھے اور جس کی بنیاد پرملازمین کو ترقی نہیں مل پارہی تھی ،انہیں منظوری دلاکر ترقی دینے جارہے ہیں اور یہ کام جلد ہی پائیہ تکمیل کو پہنچے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 1965کے ضابطہ میں ترمیم کی ضرورت ہے اور ہم وہ بھی کرنے جارہے ہیں۔ ضرورت کے مطابق مختلف ضابطوں یہاں تک کے ملک کے آئین میں بھی تبدیلی ہوتی رہی ہے تو کونسل کے ضابطے میں کیوں نہیں ہو سکتی۔ یہ کام اگر ابھی تک نہیں ہوا ہے تو آئندہ کیوں نہیں ہوسکتا۔ انہوںنے بتایا کہ فی الحال اردو کے تین اور ہندی کے پانچ عہدوں کو منظوری ملی ہے۔ضرورت کے مطابق آئندہ اس میں اضافے کا راستہ کھلارکھا جائےگا۔ وفد میں روزنامہ ”امین“ پٹنہ کے ایڈیٹر نوشاد عالم،روزنامہ ”نورہند“ پٹنہ کے ایڈیٹر محمد نوشاد بھی شامل تھے۔ اسی درمیان قانون ساز کونسل کے معزز رکن مولانا غلام رسول بلیاوی بھی وفد میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے بھی عرضداشت پر چیئر مین سے فی الفور کارروائی کی گذارش کی تاکہ اردوقانون سازیہ کی بھی زبان بنی رہے۔انہوں نے ارکان کونسل سے بھی امید ظاہر کی کہ اردو میں سوالات پیش کریں گے اور اردو شعبہ کو متحرک رکھیں گے ۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close