بہارپٹنہ

اردو کے حقوق کی مکمل ادائیگی تک میں چین سے نہیں بیٹھوں گا:امتیاز کریمی

ریاستی اردو ورکشاپ میں شریک نمائندہ اردو ملازمین کو ڈائرکٹر نے دیں کئی ہدایات:اردو ڈائرکٹوریٹ کی کارکردگی قابل ستائش:شفیع مشہدی

پٹنہ7 :اردو ڈائرکٹوریٹ ،محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، حکومت بہار کے زیراہتمام منگل کے روز ریاست کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے اردو کے مکمل نفاذ اور فروغ کے حوالے سے ریاست گیر ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں تمام 38اضلاع سے نمائندہ اردو ملازمین نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں شریک ا ردو ملازمین کو ڈائرکٹر اردو امتیازاحمد کریمی نے اردو کی ترویج واشاعت سے متعلق منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے متعدد ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک میں ایک ایک اردو ملازم کو اردو کے حقوق کی مکمل ادائیگی کے لئے بیدار نہیں کردوں گا تب تک میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ اس موقع سے ضلع سے حاصل پیش رفت رپورٹ اوردیگر اطلاعات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہماری کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔ حکومت ہم کو بطور تنخواہ جو رقم دیتی ہے ہم اس تناسب سے اردو کے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں خاطرخواہ مستعدی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔ ڈائرکٹر اردو نے اردو لرننگ کورس کو اردو ڈائرکٹوریٹ کا ایک بڑاپروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کو اس کام کو ترجیحی بنیاد پر انجام دینے کی ضرورت ہے۔ اس میں جو بھی ضروری اخراجات ہوں گے اس سلسلے کی رقم اردو ڈائرکٹوریٹ آپ کو دستیاب کرانے کے لئے ہروقت تیار ہے۔
مقامی بیلی روڈ واقع بہار ابھیلیکھ بھون کے کانفرنس ہال میں منعقد ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے امتیاز احمد کریمی نے تمام ضلعی نمائندگان سے وہاں کے حالات اور تقاضوں کے حوالے سے گفتگو کی اور انہیں متعدد ہدایات دیں۔انہوں نے کہا کہ مجبوریاں اور پریشانیاں ہمارے راستے کے لوازمات ہیں۔ ان سے نبردآزما ہونا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہوتے ہیں تو ہم جوابدہ ہیں اور کہیں نہ کہیں ہم لوگوں کو اس کاحساب دینا ہوگا۔ ورکشاپ میں پیش کی گئی ضلع وار رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے چنداضلاع کی خوب تعریف کی تو کچھ ضلع کے اردو ملازمین کو سخت پھٹکار بھی لگائی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ جن اضلاع میں اردو کے نفاذ وفروغ کے لئے حکومت سے منظور شدہ پروگرام مثلاً اردو عملہ کی ضلع وار اہلیت سازی پروگرام، ضلع وار سیمینار و مشاعرہ پروگرام اور اردو داں طلبا وطالبات کی حوصلہ افزائی سے متعلق منصوبہ کی عمل درآمد کسی بھی حال میں یقینی بنا کر اردو ڈائرکٹوریٹ کو مطلع کیا جائے۔
ورکشاپ کے دوسرے ہاف کے سیشن کی صدارت اردو مشاورتی کمیٹی بہار کے چیئرمین اور معروف ادیب وقلمکار شفیع مشہدی نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی کلمات میں اردو ڈائرکٹوریٹ کی کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں اردو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے 1981 سے ہی نافذ ہے مگر پچھلے دو تین برسوں سے اردو ڈائرکٹوریٹ نے جتنا کچھ کیا ہے اس کے خوشگوارنتائج ہمارے سامنے ہیں۔ انہوں نے تمام اردو ملازمین کو اردو کا مجاہد کہتے ہوئے بتایا کہ آپ ہی ہیں جو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سےاردو سے متعلق حکومت کے منصوبوں کو زمین پراتارسکتے ہیں۔ چیئرمین موصوف نے اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیراہتمام چل رہے اردو لرننگ کورس کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرہم میں سے ایک آدمی اگر کم سے کم 50آدمی کوبھی اردو پڑھا دیتا ہے تو یقین جانئے ہم لوگ مشترکہ طورپر ایک انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔
ورکشاپ کے پہلے سیشن میں جگدیش پرساد سنہا نے بجٹ سے متعلق کئی اہم اطلاعات ورکشاپ میں شریک ملازمین تک پہنچائیں۔ انہوں نے حکومت سے ملی رقم کی ضلع وار تخصیص اور اس کے صحیح صحیح استعمال سے متعلق بنیادی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مد میں ڈائرکٹوریٹ کے پاس پیسے کی کمی نہیں ہے۔ شرط یہ ہے کہ آپ اس رقم کو حسب ضابطہ خرچ کریں اور بروقت اردو ڈائرکٹوریٹ کو رپورٹ کریں اور ضرورت کے مطابق اپنا مطالبہ نامہ خرچ کی گئی رقم کی رپورٹ کے ساتھ اردوڈائرکٹوریٹ کو بھیجیں۔آپ کوبلاتاخیر مزید مطلوبہ رقم فراہم کرادی جائے گی۔
ورکشاپ کے دوسرے سیشن میں اردو لرننگ کورس کے ٹیچر محمد نور عالم نے ضلع سے آئے تمام اردو ملازمین سے گذارش کی کہ اپنے اپنے ضلع میں اردو لرننگ کورس کو شروع کریں۔ اس کے لئے اگر آپ کو ٹریننگ کی ضرورت ہے تو اردو ڈائرکٹوریٹ ٹریننگ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے ضلع سے آئے تمام ا ردو ملازمین سے یہ بھی اپیل کی کہ اگر آپ خود غیراردوداں لوگوں کو اردو پڑھانے کی تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنا نام پیش کریں اوراگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ کے ضلع میں مامور دوسرے رفقااس کام کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں تو بلاتاخیر ان سے مشورہ کر کے ان کے نام اردو ڈائرکٹوریٹ کو بھیجیں۔ محمد نور عالم نے 2008 سے شروع کئے گئے اردو لرننگ کورس کے سفر میںآئے نشیب وفراز پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات انتہائی سازگار ہیں۔ ہم لوگوں کوزیادہ سے زیادہ اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ یہی ہماری منصبی ذمہ داری بھی ہے اور دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے اردو کا تقاضہ بھی۔
ورکشاپ کا آغاز شمع روشن کر کے کیا گیا۔ اس کے بعد استقبالیہ اور ابتدائی کلمات ڈاکٹر اسلم جاوداں نے پیش کئے۔ پروگرام کا باضابطہ آغاز ہونے سے پہلے غلام رسول قریشی نے ساہر لدھیانوی کا کلام بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ۔ ورکشاپ میں موجود لوگ خوب محظوظ ہوئے۔آخر میں ڈائرکٹر اردو امتیاز احمد کریمی نے تمام اضلاع سے آئے نمائندہ اردو ملازمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ وقت وقت پر ملتے رہیں گے اور اجتماعی طور پر اسی طرح اپنی منصبی ذمہ داریوں کے حوالے سے اپنی کارکردگی کا احتساب کرتے رہیں گے۔
تقریب کے انعقاد میں ڈاکٹر خورشید انور، سید پرویز انجم، سید مجتبیٰ حسین ،محمد حامد، شفقت جمال خاں، کفیل احمد، مختار احمد، اعجاز حسین رضوی ، سید شاہ قیصر رضوی، محمد پرویز اختر، افضل عالم، محمد شاکر، شکیب ایاز، یحییٰ فہیم، محمدسعید احمد، محمداشفاق احمد، انور علی، احمد علی، محمد عامروغیرہ پیش پیش دیکھے گئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close