بہارمتھلانچل

اردو گرلس ہائی کے زیراہتمام مشہور ادیب ایم عالم کی یاد میں تعزیتی نشست کا انعقاد

بتیا:امن ویلفیئر اینڈ کلچرل سوسائٹی بتیا کی جانب سے معروف وممتاز ادیب ومکالہ نگار جناب ایم عالم کی یاد میں مقامی اردو گرلس ہائی اسکول بتیا میں مورخہ 19جولائی 2018 کو ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ ایم عالم 87سال کی عمر میں 15جولائی 2018کی شب میں اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ اور اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ آپ ایک بڑی ادبی حیثیت کے مالک تھے۔ آپ نے اپنے مکالوں ، تحقیق وتنقید وتحقیق مضامین وافسانوں کے ذریعہ صوبہ سے نکل کر ملکی سطح پر اپنی ایک منفرد ومستحکم سناخت بنائی۔ اور عمر کے آخری پڑاؤ تک مسلسل لکھتے رہے اور چھپتے رہے۔
پروگرام کا آغاز سوسائٹی کے صدر ایم عالم فرزند جناب محمد محسن عالم کے درس قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد امن ویلفئراینڈ کلچرل سوسائٹی کے جنرل سکریٹری جناب حسن اکرم نے سوسائیٹی کا مختصر تعارف کراتے ہوئے پروگرام کے غرض وغایت اورایم عالم کی شخصیت پر روشنی ڈالی آپ نے بتایا کہ ایم عالم بنیادی طور پر ایک استاذ تھے کئی دہائیوں تک شہر بتیا کے معرف تعلیمی ادارہ درس گاہ اصلاحی بتیا میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ دیں اثنا آپ شہر کے واحد وومنس کالج میں صدر شعبہ اردو بھی رہے۔ اور وہاں اپنی گراں قدر خدمت انجام دیتے رہے آپ کے سیکڑوں شاگرد ملک کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور اپنے اپنے فیلڈ میں نمایا کار کردگردی کا مظاہرکررہے ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں ڈاکٹر ظہیر انصاری، افروزعالم ساحل، پروفیسر اشرف علی مجاہد وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ حسن اکرام نے بتایا کہ وہ افوان کے آٹھ بھائی بہن کو ایم عالم کی شاگردی کا شرف حاصل رہاہے۔ بعد ازیں شہر کے مشہور صحافی وشاعر جناب ایس اے شکیل نے ایم عالم کا مختصرا سوائے خاکہ پیش کیا ۔ آپ نے بتایا کہ آپ کے والد الحاج محمد عالم نے آپ کا نام محمد عالم رکھا۔ جو بعد میں ایم عالم کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ ایم عالم نے چمپارن کی ادبی تاریخ اور یہاں کے کئی قلمکاروں کو صوبائی اور ملکی سطح پر روشناس کرایا۔ یہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ آپ اندرناتھ عشق پر اپنی ریسرچ فائل مکمل کرنے کے بعد بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری نہیںلے سکے۔ اور اپنے حیات میں صاحب کتاب ہونے سے محروم رہ گئے۔ ایس اے شکیل نے بتایا کہ ادبی تنظیموں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بتیا کے کئی ادبی تنظیمیں ایم عالم کے ساتھ ہی مدفون ہوگئی ہےں، کیوں کہ کسی بھی ادبی تنظیم نے ان کے انتقال پر تعزیتی نشست کرنے کا اشارہ تک نہیں دیا۔ پرنئی نسل کی نئی تنظیم امن ویلفئر اینڈ کلچرل سوسائٹی بتیا نے یہ کارہائے نمایا انجام دیا۔ مقبول ومعروف شاعر وافسانہ نگار جناب نوشاد احمد کریمی نے کہا کہ آپ ایک مستند ادیب ومکالہ نگار کے ساتھ ساتھ نہایت ہی نیک صفت انسان تھے۔ آپ نے اپنی پوری توانائی اردو ادب کو سونپ دی۔ اور کبھی بھی شہرت اور خود نمائی کے طلب گار نہیں رہے۔ ممتاز ناقد وتنقید نگار جناب نسیم احمد نسیم نے اظہار خیال فرماتے ہوئے کہا کہ ایم عالم ایک صاحب طرز اور بڑے ادیب تھے۔ آپ کی رحلت سے ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ جو شاید ہی پر ہوسکے۔ شہر بتیا کے منفرد لب ولہجہ کے معروف شاعر جناب ظفر امام قادری نے اپنے محسوسات سے سامعین کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایم عالم سے ان کا تعارف 1977کے بزم ارمان کے ایک پروگرام میں ہوا تھا۔ جس میں ایم عالم کو ان کے پانچ مکالوں یہ انعام ملاتھا اور یہ ساعت ان کو ایم عالم کے حوالہ سے ہمیشہ یاد ہے۔ آپ نے ایم عالم سے اپنے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید یہ بات بتائی کہ آپ ایک تجربہ کار مصنف تھے اور خوب لکھتے تھے۔ لیکن یہ بڑا المیہ ہے کہ آپ کے مرتبہکے حساب سے ادبی حلقوں میں آپ کو وہ فراوانی نہیں مل سکی جس کے آپ مستحق تھے۔
پروگرام کی نظامت سوسائٹی کے جنرل سکریٹری جناب حسن اکرام نے فرامائی۔ آپ نے سامعین پرخوش آئندخبر بتائی کہ ایم عالم کا پہلا ادبی وتخلیقی مقالوں کا مجموعہ ”ادب عکاسی حیات “جو طباعت کے مرحلہ میں ہے جلد ہی منظر عام پر آنے والا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ” سمجھوتہ“(افسانوی مجموعہ) ”عندلیب چمپارن“ ، گردش ایام مضامین کا مجموعہ ایندر ناتھ اشک (حیات وکارنامے) یکے بعد دیگرے سامعین رسائل حاصل کریں گے۔ جنرل سکریٹری حسن اکرام نے پروگرام کے انعقاد میں اس تعاون کے لئے سوسائیٹی کے ممبران امتیاز احمد، شکیل حیدر، ارشد کمال، سید محمد ظفر، اور دیگر ممبران کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کے کنوینر امتیاز احمد کے شکریہ کلمات کے ساتھ پروگرام کے خاتمہ کا اعلان ہوا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close