ادب

اردو

سید حامد
اردو کے افق کو روشنی سے بیر ہے ۔جیسے کہ دشمنی ہودعا کو اثر کے ساتھ ۔ایک مدت سے ہم اپنے آپ کو تسلیاں دیتے چلے آرہے ہیں ،حکومتیں بھی اس مشغلہ میں ہماراساتھ دے دیتی ہیں ۔کبھی کبھی دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ ہم ہنوز بقید حیات ہیں ہم کچھ آوازیں اردو کے حق میں بلند کردیتے ہیں ۔ذہن اور دست و پا کاکام ہم حلق سے لے رہے ہیں ۔نتیجہ معلوم ۔
آغاز گفتگو میں جس اندھیرے کامیں نے ذکر کیاہے ،مراد اس سے یہ نہیں ہے کہ ہم دل شکستہ ہوکر بیٹھ جائیں ۔زمین کے اس طرف تو ہمیں کچھ کردکھا ناہے ،دوسری طرف تو سکون ہی سکون ہے ۔یہ مختصر سی زندگی ہمیں عنایت ہی اسی لیے ہوئی ہے کہ ہم اسے حرکت سے بھردیں ،محبت سے مملو کردیں ،سرگرمی سے بِتا دیں ،ریاضت سے چمکادیں ۔
ہوس کو ہے نشاط کار کیاکیا
نہ ہومرنا تو جینے کا مزا کیا
بہر کیف خاموش رہنے ،سکون و سکوت کا لبادہ زیب تن کرنے ،مرجھاکر بیٹھ جانے ،یامایوسی اور تعطل میں زندگی گزارنے کا کوئی جواز نہیں ۔حالات اپنی صبر آزمائی کے بقدر جد وجہد مانگتے ہیں ۔یہ ہماری بد قسمتی ہے اور بے عملی کہ آزادی اردو کو راس نہیں آئی ۔حکومت اس پر چیں بہ جبیں رہی ،اکثریت کے ذہن پر اس سے بدگمانی کے سائے پڑتے رہے اور خود ہم نے اس سے وہ شرمناک غفلت برتی جس کی مثال شاید ارض کی سطح اور تاریخ کے اوراق میں نہ ملے ۔ہم نے ہرقدم پر اردو کے ناداں اور کاہل دوست ہونے کے ثبوت فراہم کئے ،اور کرتے چلے جارہے ہیں ۔اردو کی کم نصیبی کی ڈوری تین تاروں کے بٹنے سے بنی ہے ۔حکومت کی ناانصافی ،اکثریت کی بدگمانی اور ہماری بے حسی ۔ان میں سب سے زیادہ مضبوط آخری تار ہے جسے پہلے دونوں تاروں سے تقویت پہنچی ہے ۔اگر جم کر اور جٹ کر ان تینوں تاروں سے زور آزمائی کی گئی تو کشائش کی امید ہوسکتی ہے ۔ہم پر واجب ہے کہ ملک کی لسانی اکثریت اور دوسرے فرقوں کو اردو سے بے سبب جو بدگمانی ہوگئی ہے ،اسے دور کریں ۔یہ بتائیں کہ اردو ہندوستانی الاصل ہے اور ایک ایسے ملے جلے تمدن کی ترجمان جو دوسری ثقافتوں کی طرح ہندوستان کے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔ہمیں ہندی اور علاقائی زبانوں کے بولنے اور لکھنے والوں سے تعلقات استوار اور شگفتہ کرنے چاہئیں ۔بدگمانی کو دور کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ قُرب ہے ۔یک لخت یہ حاصل نہیں کیاجاسکتا۔بہ تدریج ہمیں دوسری زبانوں کے قریب جانا چاہئے ۔ساری زبانیں پرور دگار کا عطیہ ہیں اور بنی نوع انسان کی کوششوں کا نتیجہ ۔ہم ان سب کا احترام کرتے ہیں ،ہمیں ان سب سے محبت ہے ۔ان ہی زبانوں نے اس حیوان کو جسے بعد میں ناطق کہاگیا،جانوروں سے ممتازکیا۔انہی نے اسے اس راہ پر ڈال دیاجو غورو فکر ،اور ذہنی نشوونما کی راہ ہے ۔عقل نہ ہوتو گویائی ایک قدم نہیں چل سکتی ۔گویائی (جس کی ایک شکل تحریر ہے )نہ ہو تو عقل کو غذا ملے ،نہ منطق پنپے ،نہ مشاہدہ اور تجربہ سے نتائج نکالے جاسکیں ،نہ حواس جو کچھ اخذ کرتے ہیں انھیں عقل ٹھکانے لگاسکتے ،مانجھ سکے ،بروئے کار لاسکے ۔زبانیں وہ میناہیں جن میں گویائی کا بادۂ سرخوش سرگرم ِاظہار ہوتاہے۔
خود حکومت کا جہاں  تک تعلق ہے ،جمہوریت میں رائے عامہ ہموار کرنے سے ہی کام چلتے ہیں ۔مطالبہ نہ کیجئے گا تو کوئی دھیان ہی نہ دے گا۔ایک آدھ بار اٹھتے ہوئے انداز سے بات کہیے گاتو کوئی کان کیوں دھرنے لگا ۔مطالبہ ایک بار کیجئے اور اس کا تعاقب ہزار بار ،تن کانوں پر جونقار خانہ کے شور میں ڈوب گئے ہیں،جوں رینگ پائے گی۔ہمارا سامنا جہاں تک زبان کی تعلیم و تدریس اور انتظامیہ اور عدلیہ میں اس کے استعمال کا تعلق ہے مرکزی حکومت ،ریاستی حکومت اور مقامی حکومت خود اختیاری (میونسپل کارپوریشن اور میونسپل بورڈ) سے ہے ۔ہمیں ان سب کادھیان اردو زبان اور اس کے بولنے والوں کے جمہوری اور پیدائشی حقوق کی طرف دلانا چاہئے ۔حقوق طلب کرنے چاہئیں ۔ہاتھ بڑھا کر انھیں اپنی گرفت میں نہ لیاتو حقوق ہمیشہ دسترس سے باہر رہیں گے ۔
یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو خود بڑھ کراٹھائے ہاتھ میں مینا اسی کاہے
مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو دل پذیر نرمی اور محکم استدلال کے ساتھ اس پر مجبور کرنا چاہئے کہ اردو کے ساتھ جولسانی ناانصافی تین اوپر چالیس سال سے ہورہی ہے ،وہ اسے ختم کردیں اور ایک خوبصورت اور پر ادا اور معنی خیز زبان کو پھلنے پھولنے کا موقع دیں اور اس کے بولنے والوں کی کثیر تعداد کو جو وطن عزیز کے کونے کو نے میں بکھر ے ہوئے ہیں ذہنی نشوونما اور سکون خاطر سے محروم نہ ہونے دیں ۔کسی جمہوریت میں کسی لسانی اقلیت کے ساتھ اتنی کھلی ہوئی ناانصافی نہ ہوئی ہوگی ۔ابتدا ئی تعلیم کومادری زبان میں حاصل کرنا ہربچے کا پیدائشی حق ہے ۔اردو بولنے والوں کی مانگ ہے کہ اس حق کو بحال کردیاجائے۔
اس کے علاوہ ثانوی تعلیم میں انھیں اردو کو بہ حیثیت زبان پڑھنے کے مواقع تمام اسکولوں میں فراہم کیے جائیں ۔سہ لسانی فارمولے میں اردو کے لیے واضح اور غیر مبہم اور تاویل ناپذیر جگہ بنائی جائے۔اور سرکاری کاروبار میں اس کے استعمال کی گنجائش نکالی جائے۔
اب میں اس بے حسی کی طرف آتاہوں جو خود اردو والوں نے اردو کے ساتھ روارکھی ہے ۔اس کی مثال بھی روئے ارض پر کہیں نہیں ملے گی۔وہ دوسری زبانوں سے اس قدر مرعوب اور اپنی زبان سے اتنے بے تعلق ہوگئے ہیں کہ اس بیش قیمت ثقافتی ،لسانی اور ازلی ورثہ کو جس کانام اردو ہے ،اپنے بچوں تک منتقل کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔کیاوہ اس طرح اپنے بچوں کو ناانصافی ،ناعاقبت اندیشی اور محرومی کا ہدف نہیں بنارہے ہیں ۔اگر کچھ بھی لسانی حمیت اور ملی غیرت اور تاریخ کا شعور اور مستقبل کی بصیرت ہم میں باقی رہ گئی ہے تو ہمیں گھر گھر،محلہ محلہ ،غیر رسمی طریقہ پر یا تنظیم کے ساتھ اردو پڑھانے کا انتظام کرنا ہوگا۔یہ کام نہ دشوار ہے نہ زرطلب ۔البتہ تھوڑی سی توجہ ،ذرا سا اخلاص ،قدر ے ہمدردی ضرور چاہتا ہے ۔کیاہم اپنے تشخص اور تمدن کی بقا کے لیے اسے یہ بھی نہ دے سکیں گے ۔اگر یہ بھی نہ دے سکیں گے تو ہم پر آفریں اور ہماری بقا کے امکانات پر صلوات ۔
تعمیری کاموں کے لیے میلوں ٹھیلوں ،اور دھوم دھڑکےّ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔یہ کام خاموشی اور خیر اندیشی کے ساتھ کیے جاتے ہیں ۔چھوٹے چھوٹے پیمانے پر اردو پڑھانے کاکام ہاتھ میں لے لیاجائے اور ہر شہر میں مٹھی بھر آدمی اپنے وقت کا ایک حصہ اسے دینے کا تیار ہوجائیں تو ان چھوٹی چھوٹی کاششوں کا اجتماعی اثر حیرت انگیز ہوگا۔
اردو پڑھانے کے لیے مراسلتی نظام بہت کار آمد ہوسکتاہے ۔اس کی طرف دھیان دینا سو د مند ہوگا ۔اب میں آپ کا دھیان اس کمیٹی کی سفارشات کی طرف دلاؤں گا جو آزاد ہندوستان کی تاریخ اردو میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔یہ صراحت غیر غیر ضروری ہے کہ میر ا روئے سخن گجرال کمیٹی کی رپورٹ کی طرف ہے ۔یاد کیجئے کہ مرکزی حکومت نے یہ کمیٹی ۱۹۷۲ءمیں اردو زبان کی حالت کاجائزہ لینے اور اس کی بابت سفارشات کرنے کے لیے بنائی تھی۔۳ سال کے اندر گجرال کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کردی ۔جسے نہ معلوم کس مصلحت سے اسی حکومت نے طبقۂ زمہر یر میں ڈال دیا جہاں اس نے نقطۂ انجماد کوکوسوں پیچھے چھوڑدیا۔دوسری حکومت بنی تو اس رپورٹ کوکھلی ہوا میں رکھاگیا۔پھر ریاستوں سے مشورے اور کمیٹیوں کی تشکیل اور اسٹینڈنگ کمیٹی کی نظارت کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔سفارشات کا بڑا حصہ ہنوز حکومت کی نگہ التفات کے لیے چشم براہ ہے ۔جن امور پر فیصلے کربھی دیے گئے ان میں سے بھی بہت سے شرمندۂ نفاذ نہ ہوپائے ۔موجودہ مرکزی حکومت نے گجرال کمیٹی کی سفارشات کو بلاکسی تحفظات کے طشت ازبام کیاہے ۔ماہرین کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو ان سفارشوں پر غور کرے گی اور ان کی تعمیل کا اہتمام کرے گی ۔اس کمیٹی نے سنجیدگی کے ساتھ مفروضہ کام کو اپنے ہاتھوں میں لیاہے ۔عبوری سفارش اس نے کربھی دی ہے اور چند ماہ بعد اس کی مفصل رپورٹ حکومت کے ہاتھوں میں ہوگی ۔
موقع روز روز نہیں آتے ۔اس لیے اردو والوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی ریاست میں اردو کا جو احوال ہے ،اور کجرال رپورٹ کی سفارشات کے نفاذ میں جو پیش رفت یاکوتاہی کی گئی ہے ،اسے بے کم وکاست کمیٹی کے سامنے لے آئیں ۔یہ نہ ہوکہ بے اطمینانی ،کوتاہی ،کم نصیبی اور پریشانی کی دیگ پر فرضی کارروائی اور جھوٹے اطمینان کا کاغذی سرپوش رکھ دیاجائے ۔حقیقت حال کو ٹھنڈے دل اور دلنشیں زبان کے ساتھ سامنے لے آنا چاہیے ۔
شمالی ہندوستان میں جو اردو والے بستے ہیں انھیں اب کچھ دنوں سے یہ احساس ہوچلا ہے کہ وہ خواب خرگوش میں مبتلا ہیں اور یہ کہ تعلیم اور اردو کے متعلق ان کے دعاوٰی زعم باطل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں جنوبی ہندوستان کے اہل اردو نے بیداری اور تنظیم کا کسی قدر ثبوت دیاہے ۔حیرت اور افسوس اس بات پر ہے کہ اردو زبان کے سلسلہ میں جنوب تقریباً اتنا ہی سرد ،اداس اور بے حس ہے جتنا کہ شمال ۔جنوبی ریاستوں میں اردو بولنے والوں کی جن انجمنوں نے تعلیم کا بیڑا اٹھایا ہے اور روزگار دلانے کے جتن کئے ہیں ان کی نگہ التفات و تقدیرساز اردو پر بھی پڑنی چاہئے ۔میڈیم کے اپنے الگ مسائل ہیں اور ابتدائی تعلیم کے لیے مادری زبان کے میڈیم کو کلیدی اہمیت حاصل ہے لیکن ثانوی تعلیم کے لیے ہمارا بیشتر زور اردو سے واقفیت حاصل کرنے پر ہونا چاہئے ۔اس بات کی احتیاط رکھیے ،ایسا نہ ہو کہ ہم اردو کا تعاقب اس بھونڈے ڈھنگ سے کریں کہ اردو ہاتھ نہ آئے اور اردو والوں کا عام تعلیمی معیار گرجائے ۔تعلیم کی اقلیم میں ہمیں خوب سے خوب تر کی جستجو میں گرم سفر رہنا چاہئے۔
یہ بھی نگوں بختی کا ایک نشان ہے کہ اردو والے ان مواقع کا ،جوان کی راہ میں آتے ہیں یاجو ان کے مطالبات کے جواب میں ان کے لیے تراشے جاتے ہیں ،فائدہ اٹھانا کسر شان سمجھتے ہیں ۔میں یہاں صرف دو مثالوں پر اکتفا کروں گا۔میں سالہاں سال سرکار کے د روازے پر دستک دیتا ارہاکہ تعلیمی طور پر پسماندہ اقلیتوں کے افراد کو مقابلہ کے امتحانوں کی تیاری کے لیے مدد کرے ۔بالآخر یہ بات مان لی گئی ۔اس وقت ہندوستان کی یونیوروسٹیوں اور کالجوں میں ۴۸مراکز یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی طرف سے پسماندہ اقلیتوں کو مختلف مرکزی اور ریاستی ملازمتوں میں داخلے کے لیے تیار کرنے کے واسطے کھلے ہوئے ہیں ۔یہ شامت اعمال نہیں تو اور کیاہے کہ اردو والے ان سہولتوں کا فائدہ نہیں اٹھارہے ہیں ۔تھوڑا بہت اٹھارہے ہیں وہ نیم دلی کے ساتھ ہیں محنت کرتے ،مقابلہ کے امتحانات میں کامیاب ہوتے تو اردو بھی سرخروہوتی اور دفاتر میں اس کےلیے نرم گوشہ کی گنجائش بھی نکل آتی ۔اب بھی کچھ نہیں گیاہے ۔اس سے پہلے کہ سرکار اس اسکیم کے نتائج سے بددل ہوکراس بساط کو لپٹ لے،ہمیں چاہیے کہ بہ یک اپنے تن مردہ اور اس اسکیم کے قالب میں جان ڈال دیں ۔ورنہ الزام یہ آئے گاکہ اردو والے کاہل وجود اور نفسی نفسی کے نغمہ خواں ہیں ۔یہ محنت کسی قیمت پر نہیں کریں گے ۔لہذا جو کریں گے سو بھریں گے۔ان کے نوشتۂ تقدیر کو حکومت تو مٹانے سے رہی ۔یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ خود اس اسکیم کے نفاذ میں ارباب حکومت کی طرف سے کوتاہیاں ہوئی ہیں لیکن سب سے بڑی تقصیر ہماری ہے ،اردو والوں کی ہے ۔
اس سے چھوٹی ایک تقصیر کا تذکرہ بھی سن لیجئے جو اس سے کم عبرتناک نہیں ہے ۔حکومتیں ۔مرکزی حکومت اور آندھرا پردیش کی حکومت اس نتیجہ پر پہنچیں کہ سماجی انصاف اور تعلیم کے ارتقادونوں کا تقاضہ ہے کہ کم ذہن اور کم وسیلہ بچوں کو مالی فکروں اور گھریلوتنگی سے یکسوکردیاجائے ۔انھیں مقابلہ اور جانچ کے بعد ایسے اسکولوں میں داخل کیاجائے جو تعلیم و تربیت کے علاوہ ان کے رہنے اور کھانے پینے کا معقول انتظام کریں اور مرکز نے یہ منصوبہ بنایا کہ ہر ضلع میں ایک نوودے اسکول کھولاجائے گا۔آندھرا پریش سرکار نے اپنی طرف سے بھی اقامتی اسکولوں کی داغ بیل ڈالی ۔نوودے (یانو طلوع ) اسکولوں کے فرقہ وارانہ اعداد طلبہ ہمارے سامنے نہیں ہیں لیکن کہاجاتاہے کہ ان میں شاز و نادر ہی اردو والوں کو داخلہ ملا ہے ۔اس سے یہ بھی قیاس کر لیجیے کہ اردو والوں نے داخلے کی کوشش بھی کم کی ۔مقابلہ سخت بھی تھا۔لیکن کوشش نہ کرنے کا اس میں جو از ڈھونڈ نا بے سود ہے ۔اس سے زیادہ عبرتناک یہ بات ہے کہ جو اقامتی یاریزیڈنشیل اسکول آندھرا سرکار نے کھولے ان میں سے چار اردو میڈیم والوں کے لیے محفوظ کردیے گئے ۔ان میں داخلے کے معیار کو متواتر گھٹایا گیاتب ان اسکولوں کی نفری (جو فی اسکول ۳۶ہے) پوری ہوسکی ۔یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ ان اسکولوں کو اردو می پڑھانے والے اچھے استاد نہیں مل سکے اور جو معیار اقامتی اسکولوں کا مطلوب و مقصود تھا،وہ سرے سے ہاتھ ہی نہیں آیا۔معلوم نہیں ہماری زبوں حالی کہاں جاکر دم لے گی۔ہمیں سونا دیاجائے تو وہ مٹی ہوجاتاہے ۔ہمارے لیے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ مشکلات میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔بہر کیف ماتم کرنے سے حوصلہ ٹوٹتا ہے اور وقت برباد ہوتاہے ۔ہمیں اردو تعلیم کے لیے کمرکس لیناچاہئے ۔اردو کو انتظامی امور میں جو جگہ ملنی چاہئے ،اس کیلیے رائے عامہ ہموار کرنا اور حقوق کو منظم اور معقول انداز سے طلب کرنا ہمارا اولین فرض ہے ۔
جائز مطالبات اگر استقامت کے ساتھ کئے جائیں تو حکومت بالآخر انھیں منظور کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔لیکن اردو انجمنوں اور اردو ہمدردوں کاکام مطالبوں کی منظوری سے ختم نہیں ہوتا۔سب سے دیر طلب اور صبر آزما کام اس کے بعد شروع ہوتاہے ۔وہ ہے یہ دیکھنا کہ حکومت کے فیصلوں کانفاذ ٹھیک ڈھنگ سے ہوتاہے یانہیں ۔ہمیں احکام ،پالیسیوں اور پروگراموں کی تعمیل اور نفاذ پر نظر رکھنی ہوگی ۔جمہوریت میں بلکہ زندگی میں غفلت کو کڑی سزا ملتی ہے ۔
یک لحظ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد
میں ایک پل کیلئے غافل ہوا اور سوسال پیچھے رہ گیا۔اردو کی انجمنوں ،اکیڈمیوں اور خیر خواہوں پر یہ فریضہ عائد ہوتاہے کہ اس زبان کے تعلق سے حکومت کی جو پالیسی ہے اس کی عملی شکل پر نگاہ رکھیں ۔
آج ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ جنوبی ہندوستان میں اردو کی حالت اور اردو کی ریاستی انجمنوں کا جائزہ لیں ۔یہ انوکھی بات ہے کہ ہرچند اردو زبان اردو بولنے والوں کی آنکھ کاتارہ ہے ،وقت پڑے تو اردو کی خاطر وہ بڑی سی بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے ،تاہم فی الوقت ان کی انجمنیں اس ہمہ گیر عوامی تائید سے محروم ہیں جس کے بغیر کسی تحریک کو فروغ نہیں ہوتا اور کسی انجمن کی بات میں وزن نہیں آتا۔بعض جگہ یہ صورت ہے کہ انجمن چند سال خوردہ بزرگوں پر مشتمل ہے اور انھی سے عبارت ہے ۔یہ ایک ایسی ہی فوج ہے جس میں جنرل چند ہیں اور سپاہی ناپید۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close