مضامین

استاد تیری عظمت کو سلام

تاریخی حقائق گواه ہے کہ نئ نسل کی تعمیر و ترقی،دنیائے انسانیت کی نشو ونما ،معاشرے کی تعمیرو تشکیل اور فرد وبشر کی فلاح وبہبود میں ایک کامیاب معلم اور باکمال استاد کا جتنا بڑا مقام ہوتا ہے شاید کہ کوئ اس درجے کو پاسکے.یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم انسانیت اور استاد کل سے پکارا گیا کیونکہ استاد حقیقی باپ سے زیاده درجے کا حامل اور عزت وشرف میں اللہ کے سوا سبهوں میں ممتاز ہوتے ہیں جنہیں قوم کا حقیقی رہنما اور نسل انسانی کا کامل پیشوا مانا جاتا ہے جس سے علم کا دریا بہتا ہے.عمدہ اخلاق کی فضا ہموار ہوتی ہے.امن وامان کا سایہ فگن ہوتا ہے.حقیقی زندگی کی تازگی اور کامیاب منزل کی نورانی نظر آتی ہے.
قارئین! استاد کو ہر زمانے میں قدر کی نگاه سے دیکها جاتا رہا ہے.استاد کی اہمیت اور ان کا مقام ومرتبہ کی ایک خاص وجہ یہ بهی ہے کہ وہ ہماری شخصیت سازی اور کردار سازی میں معاون مددگار ثابت ہوتا ہے.استاد ہر ایک طالب علم کو ویسے ہی سجا اور سنوار کر مزین اور خوبصورت بنا دیتا ہے جس طرح ایک سونار دهات کے مختلف بهکرے ہوئے ٹکڑے کو لڑی میں پرو کر پر کشش اور جاذب نظر بنا دیتا ہے ہے.استاد علم کے حصول کا براہ راست ایک ذریعہ ہے اسلئے انکی تکریم اور ان کے احترام کا حکم دیا گیا ہے.استاد کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے دو اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے:-
1- ایک تو وه منبعہ علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی باپ ہوا کرتے ہیں.ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح وفلاح کے لئے اپنی زندگی صرف کرتےہیں –
2- دوسرا یہ کہ وه عموما طلبہ سے بڑے ہوتے ہیں اور مذهب اسلام اپنے سے بڑوں کے احترام کا حکم بهی دیتا ہے.ارشاد نبوی ہے”من لم یرحم صغیرنا ومن لم یوقر کبیرنا فلیس منا”
قارئین! اب ان دلائل کا بهی تذکرہ کئے دیتے ہیں جن میں استاد کی تکریم اور ادب کو ملحوظ خاطر رکهنے کا حکم دیا گیا ہے:-
1- اسلامی تعلیم میں استاد کی تکریم کا جا بجا حکم ملتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا”انما بعثت معلما”کہ مجهے ایک معلم بنا کر بهیجا گیا ہے اس بات کی بین اور واضح دلیل ہے کہ استاد کا مقام ومرتبہ نہایت ہی بلند وبالا ہے.
2- آپ جانتے ہیں کہ جبرئیل امین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کر کے آنے والے طلبہ اور اسٹوڈینٹ کو یہ تعلیم دے دی کہ انہیں استاد کے سامنے کیسے بیهٹنا چاہئے،صحابہ کرام نبی کے سامنے ایسے بیٹهتے معلوم ہوتا کہ انکے سروں پر پرندے بیٹهے ہوئے ہوں.یہ حدیث بهی استاد کے مقام ومرتبہ کے اوپر ایک شاندار دلیل ہے .
3- اللہ تعالی نے "ویعلمهم الکتاب والحکمة” کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بحیثیت معلم بیان کرکے استاد کے مقام ومرتبہ میں چار چاند لگا دیا ہے.
قارئین! اب ہم آپکے سامنے ملت اسلامیہ کی قابل قدر،قد آور شخصیات کا ذکر کئے دیتے ہیں جنہوں نے اپنے اساتذه کے ادب واحترام کی درخشنده مثالیں قائم کیں ہیں جو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں:-
1- امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کی مجلس درس بڑی باوقار ہوا کرتی تهی.تمام طلبہ ادب سے بیهٹتے.حتی کہ ہم لوگ اپنی کتابوں کا ورق بهی آہستہ الٹتے تاکہ کهڑکهڑاهٹ کی آواز بلند نہ ہو.
2- زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک جنازے پر نماز پڑهی.پهر آپکی سواری کے لئے خچر لایا گیا تو عبداللہ بن عباس آگے بڑهکر رکاب تهام لی تو زید بن ثابت نے کہا اے ابن عم رسول اللہ! آپ ہٹ جائیں اس کے بعد ابن عباس نے جو جواب دیا یقینا وہ آئنده آنے والے امراء،زعماء اور بادشاه کے لئے نصیحت ہے” علمائے دین اور اکابر کی عزت اسی طرح کرنی چاهئے”.
3- ہارون رشید کے دربار میں جب کوئ عالم دین تشریف لاتے تو ہارون رشید اس کے استقبال کے لئے کهڑے ہوجاتے .اس پر انکے درباریوں نے ان سے کہا اے بادشاه سلامت! اس طرح سلطنت کا رعب جاتا رهتا ہے تو ہارون رشید نے جو جواب دیا یقینا وه آب زر سے لکهنے کے لائق ہے.”آپ نے کہا اگر علماء دین کی تعظیم سے رعب سلطنت جاتا ہے جائے”.
استاد کی تکریم اور ان کے مقام ومرتبہ کے تعلق سے قرآن وحدیث اور اقوال سلف کو بیان کرنے کے بعد مناسب سمجهتا ہوں کہ استاد کی تکریم اور ان کا ادب واحترام ایک طالب علم کیسے کرے اسکو بهی آپکے گوش گذار کردوں.
حضرت مولانا قاری صدیق رحمہ اللہ بانئ جامعہ ہتهوڑا بانده یوپی اپنی کتاب”آداب المتعلمین” کے اندر استاد کے ادب کو کچه یوں بیان ہے:-
* ہر طالب علم کو چاهئے کہ وہ استاد کے ادب واحترام کو اپنے اوپر لازم سمجهے،استاد کے سامنے زیاده بولنے کے بجائے انکی باتوں کو بغور سماعت فرمائیں.
* اپنے استاد کو برا بهلا نہ کہیں،ورنہ تمہارے تلامذہ بهی تمہیں برا بهلا کہیں گے.
* استاد کو کبهی ناراض نہ ہونے دیں،اگر ان کی شان میں کوئ بے ادبی ہوجائے تو فورا انتہائ عاجزی کے ساته معافی مانگ لیں.
ان تمام دلائل وبراهین اور اور اقوال سلف سے معلوم ہوا کہ استاد کی عزت اور ان کا مقام ومرتبہ امر مسلم ہے جس کا انکار کوئ بهی فرد وبشر نہیں کر سکتا.لہذا ہم سبهوں پر واجب ہے کہ ہم اپنے استاد کی عزت کریں انکے ساته حسن سلوک سے پیش آئیں تبهی جا کر ہم ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے امام بن سکتے ہیں.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close