بین الاقوامی

استنبول اور اسلام آباد کو مشترکہ طور پر سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے:ترک صدر

انقرہ :ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے گولن ترک فائونڈیشن سے متعلق پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خطے میں امن کے لیے پاکستان، افغانستان اورترکی کا سہ فریقی اجلاس وقت کی اہم ضرورت ہےجس کا تسلسل باقاعدگی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا‘۔
ترک صدر نے انقرہ میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کا خیر مقدم کیا اور مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’سہ فریقی اجلاس سے متعدد دیگر مسائل بھی حل ہوں گے جو تینوں ممالک کو درپیش ہیں‘۔
انہوں نے کہا استنبول اور اسلام آباد کو مشترکہ طور پر سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے اسلیے پاکستان اور ترکی کے مابین دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کام کریں گے۔ترک صدر نے کہا کہ ’ہم نے پاکستان سے تربیتی طیارے حاصل کیے اسی طرح ترک دفاعی نظام میں شامل میزائل اسلام آباد کو فروخت کیے جائیں گے‘۔
رجب طیب اردوان نے سال 2019 کو پاک ترک تعلقات کے لیے سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’رواں برس میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے‘۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’پاکستان اور ترکی کے مابین قربت اور دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور ہم دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے خواہاں ہیں‘۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ترک سرمایہ کاروں کو ہرممکن سہولیات فراہم کریں گے، تجارتی اور اقتصادی سطح پر نئے رحجانات کو بڑھانے کے لیے اپنے ہمراہ وزیر تجارت اور اقتصادیات کو بھی ساتھ لایا ہوں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ترکی کے ساتھ محض تجارتی نہیں بلکہ خارجہ تعلقات چاہتے ہیں جس کے دائرہ کار میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ بھی شامل ہو‘۔
عمران خان نے کہا کہ ’ترکی کی کنسٹرکشن کمپنیوں نے گزشتہ 6 برسوں میں 20 لاکھ گھر تعمیر کیے اس لیے ہماری ترجیح ہو گی کہ تعمیراتی کمپنیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں‘۔
وزیراعظم نے ’ہم پاکستان میں ترکی کی طرز پر مشتمل شعبہ صحت میں اصلاحات لانے کی خواہش مند ہیں اور مملکت خداداد کو مدینے کی ریاست کے سانچے میں ڈھلنا چاہتے ہیں اور ترکی ایسی ریاست کی تشکیل کے لیے متعدد اقدامات اٹھا چکا ہے‘۔
عمران خان نے ترکی میں ’لیگل ایڈ‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’مذکورہ پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو مقدمات کی پیروی کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے اور اسی طرز کے نظام کی تشکیل کے لیے پاکستان میں کوشش جاری ہیں‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان میں ایک مربوط تعلیمی نظام تشکیل دے کر مختلف نظام تعلیم کی نفی کی جائےگی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں جنگ کے باعث شہری گزشتہ 3 دہائیوں سے متاثر ہو رہے، پاکستان پہلے ہی افغان طالبان اور امریکی انتظامیہ کے مابین مذاکرات میں اپنا کردار ادا کررہا ہے لیکن عالمی برادری کو مثبت کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا‘
عمران خان نے انقرہ میں منعقد ہونے والے سہ فریقی اجلاس کو خطے میں امن کے لیے ضروری قراردیا۔
وزیراعظم نے پڑوسی ملک بھارت سے متعلق کہا کہ ’ہم نئی دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہش مند ہیں اس ضمن میں متعدد کوششیں بھی کی لیکن دوسری جانب سے منفی رویہ اختیار کیے جانے پر مایوسی ہوئی‘
انہوں نے کہا کہ ’بھارت نے پاکستان کے مذاکرات نہ کرنے کے لیے جواز دیا وہ یہ کہ جب تک پاکستان دہشت گردی ختم نہیں کرے گا تو بھارت مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہوگا‘۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close