بین الاقوامی

اسرائیلی پارلیمان نے ’یہودیوں کی قومی ریاست‘ کا متنازع بل منظور کر لیا

تل ابے،19جولائی ( اے ےواےس ) اسرائیل کی پارلیمان نے ایک متنازع بل منظور کیا ہے جس میں ملک کو خصوصی طور پر ’یہودی ریاست‘ قرار دیا گیا ہے۔’یہودیوں کی قومی ریاست‘ نامی بل عربی کے بطور سرکاری زبان کے درجے کو کم کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہودی آباد کاری کی پیش قدمی قو می مفاد میں ہے۔بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مکمل اور متحدہ‘ یرو شلم اس کا دارالحکومت ہے۔اسرائیلی عرب ارکان پارلیمان نے اس قانون سازی پر تنقید کی ہے لیکن اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اس کی تعریف کرتے ہوئے اس ’وا ضح لمحہ‘ قرار دیا ۔اس بل کو اسرائیل کے دائیں بازو کی حکومت کی حمایت حاصل ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل یہودیوں کا ملک ہے اور انھیں قومی خود مختاری کا خصوصی اختیار حاصل ہے ۔‘اسرائیل کی پار لیمان میں پیش کیے جانے والے اس بل کے حق میں 62 جبکہ مخالفت میں 55 ووٹ ڈالے گئے۔ اسرا ئیل کے صدر اور اٹار نی جنرل کی جانب سے بل پر اٹھائے جا نے والے اعتراضات کے بعد اس بل کی چند شقوں کو ہٹا دیا گیا جس میں ایک شک قانونی طور پر صرف یہودی آبادیوں کی تخلیق کا احاطہ کرتی تھی۔واضح رہے کہ اسرائیل کی 90 لاکھ آبادی میں سے تقریباً 20 فیصد اسرائیلی عرب ہیں۔انھیں قا نو ن کے تحت برابری کے حقوق حاصل ہیں لیکن ان کا موقف ہیں کہ ان کے ساتھ دوسر ے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں تعلیم، صحت اور ہاو¿ سنگ کے شعبوں میں بد تر ین سلوک کا سامنا ہے۔عرب ایم پی احمد تبی نے اس بل کی منظور ی کو ’جمہوریت کی موت‘ قرار دیا ہے۔عربوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے این جی او ادالا کا کہنا ہے کہ یہ قانون ’نسل پرستی کی پالیسیوں‘ کو فروغ دینے کی ’نسلی ترغیب‘ کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے ۔خیال رہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے گذشتہ ہفتے اس بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اسرائیل کی جمہوریت میں شہری حقوق کو یقینی بنائیں گے لیکن اکثریت کو بھی حقوق حاصل ہیں اور اکثریت ہی فیصلہ کرے گی‘۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close