بین الاقوامی

اسرائیل میں دروز فرقہ کا مظاہرہ

تل ابیب، اسرائیل کے شہر تل ابیب میں دروز فرقہ کے ہزاروں لوگوں نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت اور اسرائیل کو یہودی ملک کا اعلان کرنے والے قانون کے خلاف مظاہرہ کیا۔دروز مظاہرین نے ہفتہ کو تل ابیب کے رابن چوک پر جمع ہوکر دروز جھنڈے لہرائے اور اسرائیل کو یہودی ملک کا اعلان کرنے والے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔دروز فرقہ کے روحانی رہنما شیخ موفق طریف نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’کوئی ہمیں وفاداری کا سبق نہیں دے سکتا۔ فوج کا قبرستان کا گواہ ہے۔ ہماری وفاداری کے باوجود حکومت ہمیں برابرکا شہری نہیں مانتی۔ ہم نے جس طرح فوجی حقوق کی جنگ لڑی ٹھیک ویسے ہی مساوات اور احترام کی لڑائی لڑنے کے لئے ہم پر عزم ہیں‘‘۔اسرائیل کو یہودی ملک کا اعلان کرنے والے قانون کے خلاف اقلیتی برادری دروز کے لوگوں میں کافی ناراضگی ہے۔مسٹر نیتن یاہو اس قانون کو لے کر اپنی حکومت کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں صرف یہودیوں کو ہی خودارادیت کا حق ہے۔ نیتن یاہو نے عربی زبان کو سرکاری زبان کے استثنا کو ختم کر دیا ہے۔ اس معاملہ پر ان کا ملک کے اندر اور باہر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دروز فرقہ اس قانون کے منظور ہونے کے بعد اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہا ہے۔ اس قانون کے آنے سے دروز اسرائیل میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہیں۔اسرائیل میں دروز فرقہ کی تعداد 1،20،000 ہے جو آبادی کا محض دو فیصد ہے۔ دروز عرب کمیونٹی کے تعلق رکھنے والا ایک اقلیت گروپ ہے. ان کی تعدادسب سے زیادہ لبنان اور شام میں ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close