بین الاقوامی

اسرائیل نے فلسطینیوں کے تحفظ کی ’یو این‘ تجاویز مسترد کردیں

اقوام متحدہ:قابض اسرائیل نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حقوق کی سنگین پامالیوں کی روک تھام اور ان کے تحفظ کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز مسترد کردی ہیں۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب ڈانی ڈانون نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی عوام کے تحفظ کی ذمہ داری ان کی قیادت پر عاید ہوتی ہے۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے 14 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ساتھ ہی عالمی ادارے کے سربراہ نے فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے چار تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد بڑھائی جائے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مبصرین فلسطین میں بھیجے جائیں، غیر مسلح مبصرین کی خدمات لی جائیں اور اقوام متحدہ کی تفویض کردہ سیکیورٹی فورس کو تعینات کیا جائے۔انھوں نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کے گذشتہ پچاس سال سے زیادہ عرصے سے جاری فوجی قبضے ، مستقل سکیورٹی خطرات ، کم زور سیاسی اداروں اور امن عمل میں تعطل کے نتیجے میں فلسطینیوں کا تحفظ ایک چیلنج قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سیاسی ، قانونی اور عملی طور پر بہت ہی پیچیدہ عمل بن چکا ہے۔سیکریٹری جنرل نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اسرائیلی ، فلسطینی دیرینہ تنازع کے سیاسی حل کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو تحفظ مہیا کیا جا سکتا ہے۔ جب تک تنازع کا کوئی حل نہیں نکلتا ،اس وقت تک جنرل اسمبلی کے تمام 193 رکن ممالک کو فلسطینی آبادی کے تحفظ کے لیے تمام عملی اور قابل اعتماد اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے اسرائیلی شہریوں کو بھی تحفظ ملے گا۔خیال رہے کہ 30 مارچ2018ء کے بعد اب تک غزہ کی پٹی میں حق واپسی اور غزہ پر مسلط ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے جاری تحریک کے دوران اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 171 فلسطینی شہید اور 18 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close