مضامین

اعظم گڑھ کے جُمّن میاں خوش!

حافظ ثاقب اعظمی
سوشل میڈیا کے ذریعہ اطلاع ملی کہ اترپردیش کی نام نہاد سیکولر پارٹی سپا اور بسپا کا 2019 چناؤ کیلیے گٹھ بندھن ہوگیا ہے، جس کو لیکر سوشل میڈیا پر خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہے،بطور خاص اعظم گڑھ کی عوام کیلئے ۱۲/جنوری کا دن کسی تہوار سے کم نہیں لگ رہا ہے، مٹھائیاں سمیت بدھائیاں بھی بانٹی جارہی ہیں، لیکن کیا اعظم گڑھ کی عوام کو مرض نسیان لاحق ہوگیاہے؟جب اعظم گڑھ کے نام پر دہلی، ممبئی، لکھنؤ سمیت پورے ملک میں اسٹوڈینٹس کو رہنے کیلیے کرایے پر روم نہیں دیا جاتا تھا، اعظم گڑھ کی عوام گزشتہ 2008 میں اپنے بے گناہ نوجوانوں کی فرضی گرفتاری کا وہ طوفان بھول گئے، سیکڑوں نوجوان اب بھی فرضی کیس میں سلاخوں کے پیچھے قید ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے، سپا، بسپا یا پھر کانگریس؟
کانگریس کو مانا جائے! اس لیے کہ مرکزی سرکار اس وقت کانگریس کی تھی، یا پھر بسپا کو!اس لیے کہ اس وقت اترپردیش میں حکومت بسپا کی تھی، اگر ذمہ دار کانگریس ہے تو اترپردیش سرکار جو کہ بسپا کی تھی اس نے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟
2012 الیکشن کی آمد پر سپا کا وعدہ تھا کہ سرکار آتے ہی سبھی فرضی کیس میں بند نوجوانوں کو باعزت رہا کریں گے، جس کی بنا پر اعظم گڑھ کی عوام نے متحد ہو کر اعظم گڑھ سے سپا کو 9 رکن اسمبلی دیا، جب سپا کے وعدہ نبھانے کا وقت آیا تو سپا نے اس وعدہ کو جیل میں بند خالد مجاہد کو مقتول کے طور پر حقیقت کر دکھایا، کیا سماجوادی پارٹی اپنے وعدہ میں کھری اتری؟
2017 الیکشن میں بی جے پی کا خوف دلا کر کانگریس سے گٹھ بندھن کیا، اور نتیجہ ملا اترپردیش کی کوکھ میں یوگی.
اور آج پھر مودی کا خوف دلا کر سیکولر پارٹی کہی جانے والی بسپا کے ساتھ گٹھ بندھن کیا، یہ وہی بسپا ہے جس کی صدر بہن کماری مایاوتی جی ہیں، جنہوں نے 2014 الیکشن میں BJP کو ووٹ ٹرانسفر کرنے کو کہا تھا، آج اسی کا خوف دلا کر کرسی کے طلبگار ہیں.
اعظم گڑھ صدر سیٹ سے ممبر پارلیمنٹ کی بات کریں تو "نیتا جی نیتاجی” کہہ کر لوگوں نے سانسد بنایا اور جناب ہیں کہاں؟ کچھ اتہ پتہ نہیں.
یہ وہی نیتا جی ہیں جو سماجوادی پارٹی کے سابق صدر جناب ملائم سنگھ یادو جی ہیں، جب اعظم گڑھ کے صدر سیٹ سے لوک سبھا چناؤ لڑ رہے تھے تو اترپردیش کا سماجوادی پارٹی سے تعلق رکھنے والاہربڑا لیڈر ان کی حمایت کیلیے اعظم گڑھ میں ہفتوں مقیم رہا، لیکن جب صاحب سانسد بن گئے تو پارٹی میں عہدے کی لڑائی سے فرصت نہیں ملی کہ  تبصرہ کریں کہ اعظم گڑھ کہاں پڑتا ہے؟ اور وہاں کا سانسد کون ہے؟
یاد رکھیے!
آخر کب تک دوسروں کی کرسی بچانے کیلیے اپنا ووٹ دوگے؟ کب تک سیاسی پلاؤ میں تیزپتہ کا کام کروگے؟ کب تک یہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں ہمیں ووٹ بینک سمجھے گی؟ ہمارے ووٹ میں  وہ طاقت نہیں جو خالد مجاہد کے گھر والوں کو انصاف دلا سکے؟ ہمارے ووٹ میں وہ قوت نہیں جو عاطف ساجد کے اہل خانہ کو انصاف دلا سکے؟ ہمارے ووٹ میں وہ پختگی نہیں جو حکیم طارق قاسمی کو رہا کرا سکے؟ ہمارے ووٹ میں وہ قوتِ گویائی نہیں جو اپنے رہنما کا اعلان کرسکے؟ ہمارے ووٹ میں وہ ہمت نہیں جو اعظم گڑھ کے بچوں کو ایک مہا وشو ودھیالے دلا سکے؟ ہمارے ووٹ میں وہ دھار نہیں تو بیروزگاری کو کاٹ سکے؟
کیوں نہیں، ہمارے ووٹ میں وہ سب کچھ ہے، لیکن ہم چاہتے نہیں، یاد رکھیے "اللہ پاک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم اپنی حالت نہ بدلنا چاہے”، اب تو حالت کو بدلو؛ اب تک ہم اپنا ووٹ کسی کی کرسی بچانے یا ہٹانے کیلیے دیتے تھے، اب ہمیں اپنا ووٹ اس کرسی پر بیٹھنے کیلیے دینا ہوگا، اپنا ووٹ اعظم گڑھ میں بچوں کو مہا وشو ودھیالے دلانے کیلیے دینا ہوگا، اپنا ووٹ روزگار کیلیے دینا ہوگا، اپنا ووٹ فرضی کیس میں گرفتار نوجوانوں کی رہائی کیلیے دینا ہوگا، شہید عاطف، ساجد اور خالد مجاہد کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کیلیے دین ہوگا، طارق قاسمی کی رہائی کیلیے دینا ہوگا.
              ــــــــــعـــــــــ
جو زد میں ہر گھڑی رہتی ہے طوفانِ حوادث کے
میں اپنی نسلِ نو کی فکرِ مستقبل میں رہتا ہوں
سبق لیتا نہیں اپنی زبوں حالی سے جو کوئی
میں ایسے حلقہ عالم نما جاہل میں رہتا ہوں
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close