تعلیمہندوستان

اعلیٰ تعلیم، ترقی کی منزل، جامعات، انسانی اقدار اور رواداری کے گہوارے

علم، اللہ کا فضل ہے، اُردو یونیورسٹی کا 21 واں یوم تاسیس ۔ پروفیسر محمد مزمل کا لکچر۔ ڈاکٹر اسلم پرویز کی صدارت

حیدرآباد: اعلیٰ تعلیم صرف ترقی کا زینہ نہیں بلکہ از خود ترقی ہے اور جامعات اعلیٰ انسانی اقدار، انسانیت اور رواداری کو پروان چڑھانے والی چہار دیواری کا ہی نام ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد مزمل، سابق وائس چانسلر آگرہ و روہیلکھنڈ یونیورسٹی نے کیا۔ وہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے 21 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر بحیثیت مہمانِ خصوصی خطبہ دے رہے تھے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر اردو یونیورسٹی نے پروگرام کی صدارت کی۔ انہوں نے علم کو اللہ کا فضل قرار دیتے ہوئے کہا کہ علم میں جو جتنا افضل ہوگا وہ اتنا ہی عمدہ انسان ہوگا۔ 
 
آکسفورڈ کے فارغ ماہر معاشیات پروفیسر محمد مزمل نے ”اعلیٰ تعلیم میں مضمر مسرتیں: آرٹس اور سائنس“ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ماحولیاتی آلودگی کے انسداد کے لیے پروگرام بنائے جارہے ہےں ویسے ہی جامعات کو بھی نہ صرف ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہونا چاہیے بلکہ خاص کر جذباتی، مذہبی اور احساسات کی آلودگی سے پاک بنایا جانا چاہیے۔ اُن کے مطابق اعلیٰ تعلیم کا مقصد صرف روزگار کا حصول نہیں ہے اور اعلیٰ تعلیم دینے والی جامعات صرف ڈگریاں دینے والا ادارہ نہیں ہوتیں بلکہ ان جامعات کی اصل پہچان یہ ہے کہ یہاں طلبہ کو اعلیٰ انسانی اقدار پر عمل آوری اور تصورات کو فروغ دینے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ پروفیسر محمد مزمل کے مطابق اعلیٰ تعلیم لوگوں کی زندگیوں کو خوشگوار بناکر بہترسماج کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرتی ہے اور اعلیٰ تعلیم ہی زندگی کو انبساط اور کشش سے بھرپور بناتی ہے۔ اس کا دوسری کسی بھی شئے سے تقابل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سماجی علوم اور سائنسی علوم کے درمیان مضبوط رشتوں کے متعلق انھوں نے وضاحت کی کہ انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ علم کی ابتداءسماجی علوم سے ہی ہوتی ہے اور بغیر سماجی علوم کے سائنسی ایجادات کے ثمرات سے بھی استفادہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔اُن کے مطابق جہاں سائنسی علوم سے ایجادات سرانجام دی جاتی ہیں اور مختلف مصنوعات بنائی جاتی ہےں وہیں سماجی علوم انسانی ذہنوں کی تربیت کا بنیادی اور اصل کام انجام دیتا ہے۔ ساتھ ہی سائنس اور ٹکنالوجی کے مثبت اور انسانی فلاح کے استعمال کے لئے سماجی علوم انسانوں کو ترغیب دیتے ہےں۔ اعلیٰ تعلیم کو سماجی بھلائی سے تعبیر کرتے ہوئے پروفیسر محمد مزمل نے کہا کہ سائنسی علوم لوگوں کو انفرادی فائدہ پہنچاتے ہےں تو سماجی علوم بہتر معاشرے کی تشکیل کی راہ ہموار کرتے ہےں۔
اعلی تعلیم کا مقصد مسرتوں کا حصول ہے اور علم کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے انسان کو سب سے پہلے اپنے کردار کو آلودگی سے پاک کرنا شرط ہے اور کردار کے ظاہر و باطن میں یکسانیت ضروری ہے۔ پروفیسر مزمل نے موجودہ اعلیٰ تعلیم کے ڈھانچہ میں کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس میں دوسروں کے لیے رعایت اور ہمدردی کے جذبہ کو فروغ دینے کے لیے تربیت کا سامان نہیں ہے اور جامعات، دنیا بھر کے کامیاب لوگوں کی زندگیوں کی کامیابی کو شامل نصاب کرتے ہوئے یہ کام کرسکتے ہےں۔
انہوں نے کتاب کی اہمیت کو تسلیم کیا لیکن کہا کہ کتاب مزید وضاحت کا موقع نہیں دیتی جبکہ ایک استاد ایسا کرپاتا ہے اس لیے تدریس کی اپنی اہمیت ہے۔ انہوں نے ہر دن کو ایک نیا دن قرار دیتے ہوئے اس سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کی بات کہی۔ 
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر مزمل کے خطبہ کو اردو یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبا ہر ایک کے لیے ایک یادگاررہنمائی قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ آلودگی صرف ماحولیات کی نہیں بلکہ نفوس، ذہنوں اور کردار کی بھی ہوتی ہے اور بہترین جامعہ کے رتبے کو پہنچنے کے لیے طلبا اور اساتذہ کو اس سمت سنجیدگی سے کوششیں کرنی چاہیے۔
21 واں یومِ تاسیس پروگرام کی نظامت کے فرائض انیس اعظمی، مشیر اعلیٰ، مرکز مطالعات اردو ثقافت نے کی۔ اس موقع پر رجسٹرار ڈاکٹر ایم اے سکندر نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور مہمانِ خصوصی پروفیسر محمد مزمل کا تعارف پیش کیا اور یونیورسٹی کی مختصر روداد بھی پیش کی۔ پروگرام کے اختتام میں افسر برائے تعلقات عامہ عابد عبدالواسع نے ہدیہ تشکر کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر اردو یونیورسٹی کا یادگاری تحفہ مہمان خصوصی کو دیا گیا اور گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔ سید حامد لائبریری آڈیٹوریم میں منعقدہ اس یوم تاسیس پروگرام میں ڈینس، صدور شعبہ، تدریسی و غیر تدریسی عملے کے علاوہ طلبہ و ریسرچ اسکالرس کی کثیر تعداد موجود تھی۔ 
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close