بین الاقوامی

افغانستان میں کوئ فوجی بیس تعمیر کرنے کا منصوبہ نہیں‌ہے :چین

بیجنگ: ہانگ کانگ کے اخبار کے دعوے کے بعد چین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں کوئی فوجی بیس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کررہا۔خیال رہے کہ ہانگ کانگ کے اخبار ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ بیجنگ افغان فوجیوں کے لیے تربیتی کیمپ تیار کر رہا ہے اور جہاں وہ اپنے فوجیوں کو بھی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اخبار نے چینی فوج سے تعلق رکھنے والے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین واخان کوریڈور کے قریب ایک کیمپ قائم کررہا ہے، جو دونوں ممالک سے منسلک ہے۔تاہم چین کی وزیر خارجہ کی ترجمان ہوا چھن ینگ نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کو دیکھنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ متعلقہ رپورٹ سچ نہیں ہے اور اس صورتحال میں بیس کی تعمیر اور تربیت نہیں کی جارہی، لہٰذا اس معاملے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں‘۔ساتھ ہی ہوا چھن ینگ نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ چین اپنے فوجیوں کو وہاں بھیج بھی رہا ہے۔خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہیں کہ اس طرح کی رپورٹ سامنے آئی ہوں کہ چین افغانستان میں عسکری اثرورسوخ کا خواہاں ہے لیکن چین ہمیشہ اس طرح کی باتوں کو مسترد کرتا آیا ہے۔رواں سال جنوری میں چین کی وزارت دفاع نے بھی اس طرح کی رپورٹ کو مسترد کیا تھا کہ وہ افغانستان میں فوجی بیس بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ساتھ ہی چین کی جانب سے اس طرح کی رپورٹس کو بھی مسترد کیا گیا تھا کہ ان کی عسکری گاڑیاں جنوبی ایشائی خطے میں گشت کر رہی تھی۔واضح رہے کہ چین طویل عرصے سے اس خدشے کا اظہار کررہا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام تشدد زدہ خطے سنکیانگ میں مسلم آبادی کے لوگوں تک پھیل سکتا ہے۔یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں چین میں مغربی خطے میں سیکڑوں لوگوں کو قتل کردیا گیا تھا اور بدامنی کے شکار چین نے اسلامی عسکریت پسندوں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close