ہندوستان

امارت شرعیہ کا وفد ریلیف کے کام کے لیے کیرل پہنچا

ارناکولم :شمالی ہند کی ریاست کیرل کے سیلاب زدگان کی امداد اور راحت رسانی کے لیے امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کے حکم و ہدایت پر آج امارت شرعیہ کا ایک پانچ رکنی وفد نائب ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی قیادت میں کیرل کے ارنا کولم ضلع میں پہونچا ۔آج اس وفد نے ارنا کولم ضلع کے ایلوکڑا علاقے کے موضع کیڑا پلی اور کونجونی کڑ ا کا دورہ کیا ، وہاں سیلاب زدگان سے مل کر صورت حال معلوم کی اور متاثرین کی نقد امداد کی ۔سیلاب متاثرین نے جو صورت حال بتائی وہ بہت ہی درد ناک اور تشویش ناک ہے ، متاثرین نے بتایا کہ تقریبا دس دنوں تک چودہ ۔پندرہ فٹ تک پانی تھا، سبھی لوگوں کے مکانات پانی میں ڈوب گئے تھے ، بعض لوگوںنے تو یہاں تک بتایا کہ ان کے گھروں کے اوپر سے پانی چل رہا تھا ، اور بوٹ کے ذریعہ کسی طرح وہ لوگ اپنی جان بچا کر محفوظ مقام تک پہونچے ۔ اب اس علاقے کا پانی تو اتر چکا ہے ، لیکن دس دنوں تک مکانات پانی میں ڈوبے رہنے کی وجہ سے ان لوگوں کے گھر کے سارے ساز و سامان، اجناس ، غذائی اشیاء ،بستر ، برتن باسن ، ضروری کاغذات و دستاویزات سبھی تباہ ہو گئے ۔
گھروں میں ۲۔۲ فٹ تک کیچڑ جمع ہو گیا تھا، رضا کار اور تنظیموں کے لوگ گھر والوں کی کیچڑ نکالنے میں مدد کر رہے ہیں ۔ مقامی رہبر نے بتایا کہ تبلیغی جماعت کے لوگ اور جامعۃ الکوثریہ کے اساتذہ وطلبہ نے بھی بہت محنت اور جان فشانی سے ان گھروں سے کیچڑ کو صاف کیا اور اس کو رہنے لائق بنایا۔لیکن گھروں کے اثاثے پانی میں تباہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو زندگی معمول پر لانے میں بہت دشواری ہو رہی ہے ۔ امارت شرعیہ کے وفد نے ان میں زیادہ ضرورت مند لوگوں کو سر دست نقد امداد کی ہے تاکہ وہ ضروریات زندگی کی چیزیں خرید سکیں ۔ وفد نے متاثرین کی ضرورتوں کے حساب سے گھریلو استعمال کی اشیاء بھی تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا ہے ، جو عنقریب ان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا ۔
مقامی رہبر جناب مولانا ظفیر الدین قاسمی اور جناب مولانا ابراہیم صاحب مہتمم جامعہ کوثریہ نے وفد سے طویل گفتگو کی اور پورے کیرل کے حالات سے واقف کرایا،معلوم ہوا کہ مالا پورم اور اڈکی کے علاقے جو مسلمانوں کی کثیر آبادی والے علاقے ہیں، وہاں بڑی تباہی ہوئی ہے ، اور وہاں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے سیکڑوں لوگوں کے مکانات زمین بوس ہو گئے ہیں ، یہاں تک کہ جہاں ان کے مکانات تھے وہ جگہ بھی اب دریا برد ہو گئی ہے ، یہاں انسانی جانوں کا بھی زبردست اتلاف ہو ا ہے ، وفد نے پروگرام بنایا ہے کہ مورخہ ۳؍ ستمبر کو ان دونوں علاقوں کا معائنہ کیا جائے گا اور وہاں کے حالات سے واقفیت کے بعد ان متاثرین کی با ز آبادکاری کی شکل بنائی جائے گی ، مشورہ سے یہ بھی طے ہوا کہ وفد انتظامیہ سے ملاقات کر کے ان بے گھر لوگوں کو متبادل جگہ زمین دستیاب کرنے کی بھی گذارش کریگی، تاکہ وہ لوگ اپنی زندگی از سر نو شروع کر سکیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close