ہندوستان

امارت شرعیہ کی ریلیف ٹیم نے اڈکی ضلع کے سیلاب زدہ علاقو ں کا جائزہ لیا

کیرل مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی قیادت میں پانچ رکنی وفد کا ریلیف ورک جاری

اڈکی ،کیرل :جیسا کہ قارئین کو معلوم ہے کہ مورخہ ۲؍ ستمبر سے امارت شرعیہ کی ریلیف ٹیم نائب ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی قیادت میں امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کے حکم و ہدایت پر جنوبی ہند کی ریاست کیرل کے سیلاب زدگان کی امداد اور راحت رسانی کے کام میں لگا ہے ۔ اس وفد میں مفتی امارت شرعیہ مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی ، نائب قاضی شریعت مولانا مفتی وصی احمد قاسمی ، مبلغ امارت شرعیہ مولانا سعو داللہ رحمانی اورمحمد عادل فریدی آفس انچارج امارت شرعیہ شریک ہیں ۔آج صبح وفجر کی نما ز کے بعد امارت شرعیہ کا یہ وفد مقامی علماء و ذمہ داران کے مشورہ سے اڈکی ضلع کے سیلاب زدہ علاقہ کا جائز لینے کے لیے ارناکولم ضلع کے الوا میں واقع الجامعۃ الکوثریہ سے روانہ ہوا ، وفد کو رات میں مقامی علماء و ذمہ داران نے بتایا تھا کہ اس علاقہ میں لینڈ سلائڈنگ سے کافی جانیں ضائع ہوئیں ہیں اور لوگوں کے مکانات بھی دریا برد ہو گئے ہیں ، وفد نے جائے وقوعہ کا چشم دید معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔الوا سے تقریبا پچاس کیلومیٹر کے فاصلہ پر ارنا کولم ضلع کا ٹوپو کوذا شہر ہے ، جہاں مقامی تبلیغی جماعت کے چند ذمہ دار رہبری کے لیے امارت شرعیہ کی ریلیف ٹیم کے ساتھ ہو لیے ۔مقامی ذمہ داروں میں امیر جماعت جناب عبد الجبا ر صاحب ، جناب فیروز صاحب،جناب اشرف صاحب ، جناب عبد الرزاق صاحب ، جناب محمد جمال الدین صاحب اورجناب مولانا محمد شکیر صاحب قاسمی اپنی گاڑی میں وفد کی رہنمائی کے لیے چلے وفد کے ساتھ ڈرائیور جناب عبد الجلیل صاحب تھے جو مقامی زبان ملیالم کے علاوہ انگریزی اور اردو زبان بھی جانتے تھے ، وہ پورے راستے وفد کو وہاں کے حالات اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے واقف کراتے رہے ، انہوں نے بتایا کہ پانی اس قدر تھا کہ بعض بعض مکانات کی دو منزل تک پہونچ گیا تھا۔پورے راستے سیلاب کی تباہ کاریوں کا جگہ جگہ مشاہدہ ہو تا رہا، لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے اکثر جگہوں پر سڑکیں ٹوٹ گئیں تھیں ، بڑے بڑے درخت اکھڑ کر راستے پر گر گئے تھے ،پہاڑوں سے پتھروں کی چٹانیں کھسک کر سڑک کو توڑتے ہوئے جمع ہو گئی تھیں، حکومت کے کارندوں نے کسی طرح درختوں اور پتھروں کو سائڈ کر کے سنگل روڈ کو گاڑیوں کے نکلنے کے قابل بنایا جہاں سے دھیرے دھیرے گاڑیوں کو نکالاجا رہا تھا ۔ دن کے تقریبا گیارہ بجے امارت شرعیہ کا یہ وفد مقامی رہبروں کے ہمراہ الوا ضلع ارنا کولم سے تقریبا ڈیڑھ سو کیلو میٹر دو ر اڈکی ضلع کے تریم باڑی پہونچا ۔ وہاں جو ہولناک منظر دکھائی دیا اس نے ہمارے ہوش اڑا دے ، سیلاب کی اس تباہ کاری کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے ۔تیس چالیس گھروں پر مشتمل بستی کا نام و نشان مٹ چکا تھا ، پہاڑوں سے طوفانی رفتار سے گرتی ہوئی چٹانوں اور پانی کے خوفناک ریلے نے مکینوں کے ساتھ مکانوں کو بھی نہیں بخشا تھا۔وہاں پر ایک بھی مکان سلامت نہیں بچا تھا ، بلکہ جن زمینوں پر مکانات قائم تھے اب اس زمین کا نام و نشان باقی نہیں تھا ، وہاں پر طوفانی رفتار سے پانی بہہ رہا تھا، راستہ بھی ٹوٹ گیا تھا، سرکاری گاڑیاں پتھر لاد لاد کر روڈ پر ڈال رہی تھیں اور جے سی بی سے سڑک برابر کی جا رہی تھی تا کہ دونوں کنارے کے لوگ ادھر سے ادھر آ جا سکیں۔کچھ مکانات اونچائی پر تھے جن کا کچھ حصہ ٹوٹ گیاتھا، گھر کے تمام اثاثے پانی میںبرباد ہو گئے تھے ،اور مکانوں میں ۲۔۲ فٹ کیچڑ جمع ہو گیا تھا ، وہاںپر کچھ وردی پوش مقامی رضا کار بھی نظر آئے جو ان مکانوں سے مشینوں کے ذریعہ کیچڑ اور ملبے صاف کر رہے تھے ۔درجنوں لوگ اس آفت ناگہانی میں لقمۂ اجل ہو چکے تھے ،جو لوگ زندہ بچے تھے ان کی حالت بھی قابل رحم تھی ، گھر بار لٹنے اور اپنوں کے بچھڑنے کا غم ان کی آنکھوں سے عیاں تھا ، ان کی زبان ہم نہیں جانتے تھے نہ ہماری زبان سے وہ آشنا تھے مگر ان کی آنکھیں ان کے اوپر آئی تباہی کو چیخ چیخ کر بیان کر رہی تھیں ، تباہی کی یہ تصویر دیکھ کر ہماری آنکھیں اشک بار ہو گئیںاور دل دہل گئے ، اللہ تعالیٰ سے ان مصیبت زدگان کو مصیبت سے نجات دلانے اور انہیں از سر نو زندگی شروع کرنے کاحوصلہ و ہمت اور وسائل غیب سے فراہم کرنے کی دعا کی ۔وہاں سے مقامی رہبران کی رہنمائی میں ایک ڈیڑھ کیلو میٹر آگے کریم بن کے علاقے میں گئے وہاں کے حالات کا بھی جائزہ لیا ، وہاں پر چار مکان تھے ،لینڈ سلائڈنگ سے دو مکان تو پوری طرح زمین بوس ہو گئے تھے، دومکانوں کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا تھا ، کچھ سلامت تھا، ان مکانوں کے مکین بچے ہوئے حصے کو قابل رہائش بنانے کی جدو جہد میں لگے ہوئے تھے ، وہاں سے پھر واپس تریم باڑی آئے ، ظہر کا وقت ہو گیا تھا ، مسجد اونچائی پر تھی اور حیرت انگیز طور پر مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہونچا تھا ، مسجد سے متصل عقب کی پہاڑی سے پھسل کر گرے ہوئے بڑے بڑے پتھر دیکھ کر انداز ہ ہو ا کہ بس کچھ ہی بالشت کے فاصلے سے مسجد کی حفاظت اللہ تعالی نے کی ۔ ظہر کی نماز کے بعد مقامی لوگوں اور ہمارے ساتھ گئے تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں کا مشورہ ہوا ، مقامی ذمہ داروں نے محی الدین جمعہ مسجد تھڈیم پاڈو ، ضلع اڈکی کے لیٹر پیڈ پر ہمیں ان تیس لوگوں کے ناموں کی فہرست پیش کی جن کے مکان پوری طرح سے دریا برد ہو گئے اور مکان کے نیچے کی زمین تک سلامت نہ بچی ۔ ان لوگوں کے نام یہ ہیں ۔محمد جلیکل،صبیرویلاپرمبل ، محمد چینٹو، یوسف کوٹیویلل، نواس ویلو پیرمبل ، حمید الیا کل، عبد العزیز الیاکل،نیباز پٹھیکوزیٹ، انیش ایلامہوریتھیٹ، ساجی کوچو پرامبل ، سنتوش ایرا تھوروتھیٹ، سندھو گریش، انیش پلاو یلاویٹل ، جوزف ایلامباسیریٹ،رادھا کرشنن ، نوبل ایروپ، اشرف کولوتھنکل،ابراہیم الیاکل، جانسن پاسٹر، جمی ڈرائیور، بیجو واسو دیوان، سبھاش اٹاکل ، شوبھن، کریم الیچیرا ٹیکل ، بشیر مودین پرامبل ، گیری ، سکامرین نائر ویٹیجل، ہری، شیجا اپوس اور شیلیجا ، وفد کے ارکان ان میں سے کچھ لوگوں سے ملے اور انہیں تسلی و تشفی کے کلمات کہے ، جس کو ہمارے رہبروں نے ملیالم زبان میں ترجمہ کر کے ان کو بتایا، مشورے کے دوران ہم نے مقامی ذمہ داروں سے پوچھا کہ ان بیچاروں کی کس طرح مدد کی جا سکتی ہے ،مقامی لوگوں نے بتایا کہ ابھی تو ان کے پاس زمینیں بھی نہیں ہیں ، اس لیے جب تک ان کے لیے سرکار سے متبادل زمینوں کا نظم نہیں ہو جا تا باز آبادکاری ان کی ممکن نہیں ہے ۔یہ لوگ کسی طرح شامیانوں اور کیمپوں کی شکل میں عارضی رہائش کا نظم کیے ہوئے ہیں ، لیکن ان کے پاس زندگی گذارنے کے اسباب و اثاثے نہیں ہیں، وفد سے مقامی لوگوں نے وعدہ کیا کہ وہ ان کی بنیادی ضروریات کی فہرست جلد ہی وفد کو فراہم کر دیں گے ، وفد نے ان چیزوں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی اور تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں کو اس کی ذمہ داری دی کہ وہ فوری طور پر ان لوگوں کو دوبارہ زندگی شروع کرنے کے لیے جو ضروری سامان ہیں ان کی فہرست فراہم کریں تاکہ ان چیزوزں کا انتظام ان لوگوں کے لیے کیا جا سکے ۔ان کے ناموں سے اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ مختلف مذاہب کے لوگوں کی ملی جلی آبادی تھی ،اس میں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم ہندو برادران وطن اور عیسائی متاثرین بھی ہیں ، وفد نے بلا تفریق مذہب ان سبھی متاثرین کی حتی الامکان مدد کا فیصلہ کیا ہے۔اس طرح عصر کی نماز سے پہلے ہمارا قافلہ وہاں سے واپس ہوا ، عصر اور مغر ب کی نمازیں راستے میں پڑھیںعشاء سے قبل الجامعۃ الکوثریہ پہونچے جہاں وفد کا قیام ہے ، جناب مولانا ابراہیم صاحب و دیگر ذمہ داران مدرسہ کو دن بھر کی کار گذاری سنا ئی اور مشورہ کیا ، مشورہ سے طے پایا کہ کل مورخہ ۴؍ ستمبر کو مالا پورم ضلع کا دورہ کیا جائے ، یہ ضلع مسلمانوں کی کثیر آبادی والا ہے ، اور یہاں بھی لینڈ سلائڈنگ اور پانی کے طوفانی ریلے کہ وجہ سے بھاری تباہی ہوئی ہے ، ان شاء اللہ کل فجر کی نماز پڑھ کرما لا پورم جانے کا ارادہ ہے ، مالا پورم بھی الوا سے تقریبا ڈیرھ پونے دو سو کیلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔آگے کے احوال کل واپسی پر آپ لوگوں کے گوش گذار کروں گا ان شاء اللہ ۔دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مصیبت زدہ لوگوں کو جلد از جلد مصیبت سے نکالیں ۔ ساتھ ہی تمام اہل خیر سے گذارش ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر کیرل کے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے امارت شرعیہ کے ریلیف فنڈ میں زیادہ سے زیادہ تعاون کریں تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کر سکیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close