اتر پردیشہندوستان

امام حسینؓ کی محبت قیامت تک رہے گی : مولانا عقیل مصباحی

سید نگر راوت پور میں منایا گیا ذکر شہدائے کربلا کانفرینس

کانپور : حضرت سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہما نے کربلائے معلی کی تپتی ہوئی زمین پر تین دنوں تک بھوکے پیاسے رہتے ہوئے اپنے سر کو کٹاکر اسلام کو بچاکر دنیا کے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ جان جاتی ہے تو چلی جائے لیکن دین اسلام پر آنچ نہیں آنی چاہئے۔ حضرت امام حسین نے 22ہزار کے لشکر کے سامنے تیر و تلوار کے سائے میں بھی آپنے نماز پڑھکر اور مصیبت و پریشانی میں بھی صبر کر کے ہمیںبتا دیا کہ تمہارے سامنے چاہے کتنی ہی مشکلیں کیوں نہ آ جائیں تم صبر اور نماز کا دامن نہیں چھوڑنا ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔ حضرت امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہما نے کربلا میں اپنے ناناجان پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کو پڑھکر یہ بتا دیا کہ میرے نانا جان کو نماز بہت پسند ہے۔ جو میرے ناناجان کا سچا عاشق ہوگا وہ کبھی بھی نماز کو نہیں ترک نہیں کرے گا۔ مذکورہ خیالات کااظہار اہل محلہ سید نگر، راوتپور کے زیر اہتمام منعقدہ ذکر شہدائے کربلا کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کشی نگر سے تشریف لائے حضرت مولانا محمد عقیل مصباحی نے کئے۔
جناب مصباحی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ قران پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جنہیں قتل کیا گیا انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو 1379 سال گزر جانے کے بعد بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی شہادت کو ابھی کچھ ہی سال ہوئے ہیں۔ حضرت امام حسین کی محبت کو بہت لوگوں نے دلوں سے نکالنے کی کوششیں کی مگر وہ ناکام رہے۔ ہمارے دلوں سے امام حسین کی محبت کو کوئی نہیں نکال سکتا۔ کل بھی تھی، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گی۔ یزید کو حق پر جاننے والے اپنے بچوں کا نام یزید کیوں نہیں رکھتے؟ یہی ہمارے امام کی زندہ ٔ جاویدانی کا روشن ثبوت ہے کہ آج بھی ہمارے گھروں میں کوئی نہ کوئی غلام حسین ضرور نظر آئے گا مگر غلام یزید نہیں۔
جلسے کو صفی پور سے تشریف لائے حضرت مولانا سید حسنین بقائی نے بھی خطاب کیا۔
اس سے قبل جلسے کی شروعات تلاوت قران پاک سے مولانا شبنور نے کیا اور بارگاہ رسالت میں قاری غلام قادر، سیف رضا کانپوری نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ جلسے کی صدارت قاضیٔ شہر حضرت مولانا عالم رضا خاں نوری نے اور نظامت مولانا آصف رضا حبیبی نے کی۔
اس موقع پر خاص طور سے مولانا محمد ضیا الرحمٰن قادری، مفتی ثاقب ادیب مصباحی، قاری صغیر عالم، حافظ شہادت حسین برکاتی، محمد ذاکر حسین، حافظ حنیف، حافظ فرقان رضا، آل انڈیا غریب نواز کے قومی ترجمان محمد شاہ اعظم برکاتی، قیوم وارثی، محمد ناصر حسین، محمد کلیم عرف راجو، احمد علی، محمد آصف، محمد احسان، احمد علی راجو، شاہ اعلم، فضل الرحمٰن، ایشان، نیام الحسن وغیرہ لوگ موجود رہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close