پنجابہندوستان

امرتسر میں ست سنگ پر حملہ،3ہلاک

پنجاب کے ڈی جی پی نے دہشت گردانہ حملہ قرار دیا،وزیراعلیٰ نے کیا معاوضہ کا اعلان، ذاکرموسیٰ کا ہاتھ ماننے سے انکار

امرتس:پنجاب میں امرتسر کے گاؤں ادلی وال میں اتوار کی صبح نرنکاری ست سنگ ڈیرا پر نامعلوم موٹرسائکل سواروں نے بم پھینک دیا جس میں کم از کم تین افراد ہلاک اور دس دیگر زخمی ہوگئے۔اس حملے کے بعد وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے۔ممبر اسمبلی ڈاکٹر راج کمار ویرکا نے آج بتایا کہ پولیس کی خفیہ محکمہ کی ناکامی کی وجہ سے نرنکاري بھون پر حملہ ہوا ہے۔ حملہ آوروں کو پکڑنے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔موصول اطلاع کے مطابق آج صبح راجہ سانسی کے گاؤں ادلی وال میں واقع نرنکاری ست سنگ ڈیرا پر ست سنگ سماگم چل رہا تھا اور اسی دوران موٹرسائکل سوار تین نامعلوم افراد نے وہاں پر بم پھینک دیا۔اس حملے میں تین افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔زخمیوں کو الگ الگ اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔بم کی جانچ کےلئے فورنسک جانچ ٹیم کو بلایا گیا ہے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس پرمار سنگھ نے آج بتایا کہ صبح راجاسانسی کے گاؤں ادليوال واقع نرنکاري ستسنگ بھون پر ستسنگ کے دوران موٹر سائیکل سوار دو نامعلوم افراد نے بم پھینکا۔اس حملے میں تین لوگوں کی موت اور دس دیگر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو امرتسر کے مختلف اسپتالوں میں داخل کروایا گیا ہے۔ بم کی جانچ کے لئے فورینسک ٹیم کو طلب کیا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق نرنکاری عمارت کے گیٹ پر تعینات خاتون اہلکاروں کو نقاب پوش دہشت گرد پستول دکھا نے کے بعدستسنگ بھون میں بم پھینک کر فرار ہوگئے۔حملے کے بعد علاقے میں سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں ۔ تلاش مہم شروع کر دی گئی ہے۔ بٹالہ واقع نرنکاري بھون کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔سینئر پولیس سپنرنٹنڈنٹ (دیہی)پرمپال سنگھ گاندھی اور پولیس سپرنٹنڈنٹ(ڈی)ہرپال سنگ موقع پر پہنچ کر معاملے کی تفتیش کررہے ہیں۔خیال رہے کہ جموں و کشمیر کےخطرناک دہشت گرد ذاکر موسی اور جیش محمد تنظیم کے دہشت گردوں کو امرتسر میں دیکھے جانے کے بعد گزشتہ تین دنوں سے ریاست میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خفیہ ایجنسیاں بھی کسی دہشت گرد حملے کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں۔اس کے باوجود ریاستی پولس سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے پہلے جالندھر کے مقصودن پولیس تھانہ پر بھی دہشت گرد گرینڈ سے حملہ کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس نے جالندھر کے تعلیمی ادارے سے ذاکر موسیٰ کے چچیرے بھائی سمیت چار طالب علموں کو گرفتار کیا تھا۔ پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سریش اروڑہ نے ادليوال میں نرنکاري بھون پر ہوئے حملے کو ہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔مسٹر اروڑہ نے حملے میں کشمیری جنگجووں کا ہاتھ ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے خلاف ایک دہشت گردانہ حملہ ہے۔ اس حملے کے لئے کسی ایک گروپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور جلد ہی حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس حملے میں کس کا ہاتھ ہے۔ دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی امداد کے لیے اور زخمیوں کو مناسب علاج کے لیے ریاستی حکومت نے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے کی امداد اور زخمیوں کا علاج مفت کروانے کا کیا اعلان کیا ہے۔وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے داخلہ سکریٹری اور ڈی جی قانون وانتظام کو موقع پر پہنچنے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی ڈی جی انٹیلی جنس کو بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر انکوائری تیز کرنے کی ہدایات دی ہے۔وہیں، جائے وقوعہ کا دورہ کر بارڈر رینج کے آئی جی ایس پی ایس پرمار نے بتایا ہے کہ جگہ کے ارد گرد کہیں سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگاہے، جس سے واقعہ کو لے کر کوئی ٹھوس معلومات نہیں مل سکی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس دھماکے میں ذاکر موسی کا ہاتھ نہیں ہے۔دوسری طرف امرتسر حملے کے بعد نرہنکاری مشن نے ملک و بیرون ملک کی سنگت کو پیغام دیا ہے کہ وہ سیاسی بیان بازی سے بچیں اور کسی طرح کی نعرے بازی نہ کریں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close