بین الاقوامی

امریکا کا چین کے اثرورسوخ کے خلاف اہم اقدام

واشنگٹن: امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو 30 کروڑ ڈالر کی سیکیورٹی امداد جاری کرے گا۔امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھرنوریٹ کا کہنا تھا کہ اس امداد میں سے 29 کروڑو 5 لاکھ ڈالر اس خطے میں سیکیورٹی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس فنڈنگ کی مدد سے بنگلہ دیش، انڈونیشیا، منگولیا، نیپال، فلپائن، سری لنکا، ویت نام اور بحر الکاہل کے جزائر میں ’منصوبوں‘ کو پورا کیا جائے گا۔سنگاپور میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے بحیرہ جنوبی چین میں بیجنگ کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور خطے میں قوانین کی بنیاد پر امن قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔چین اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ تجارتی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو غیر منصفانہ تجارتی نظام ورثے میں ملا ہے جہاں چینی تجارتی سطح پر امریکی ملازمین اور کمپنیوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک روا نہیں رکھ رہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس غیر منصفانہ پالیسی کو ’درست‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ امریکا چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ انڈو پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔حال ہی میں امریکی کانگریس کے دونوں چیمبرز نے ایک دفاعی بل منظور کیا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیتا ہے کہ وہ خطے میں چینی اثر و رسوخ کے خلاف بھارت کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات مضبوط کرے۔مذکورہ بل زور دیا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ شراکت داری سے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اسٹریٹیجک، آپریشنل اور ٹیکٹیکل تعاون کو فعال بنائے گی۔بل میں کہا گیا کہ امریکا کو کثیرالجہتی فریم ورک کے ذریعے سیکیورٹی اہداف حاصل کرنے کی طرف بڑھنا چاہیے، جس میں امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے مابین خطے میں سیکیورٹی کو فروغ دینے اور مشترکہ اقدار اور مفادات کا دفاع کرنے کے لیے چار فریقی مذاکرات شامل ہیں۔
امریکی دفاعی بل ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوجی مداخلت کی سہولیات کو بہتر بنانے، معلومات کے تبادلے اور موزوں ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لیے ’اہم دفاعی پارٹنر‘ کے عہدے کو نافذ کرنے کے لیے اضافی اقدامات اٹھائے۔
مذکورہ بل کے سینیٹ ورژن میں ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے خلیج فارس، بحر ہند، مغربی بحرالکاہل میں بھارت اور امریکا کی اضافی مشترکہ جنگی مشقیں کی جائیں۔
مذکورہ بل میں 2019 کے لیے پاکستان کی سیکیورٹی امداد کو کم کرکے 15 کروڑ ڈالر کردیا گیا ہے جبکہ رواں برس یہ امداد 35 کروڑ ڈالر ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close