بین الاقوامی

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

واشنگٹن:امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد رپبلکن پارٹی ایوان بالا میں اپنی اکثریت برقرار رکھے گی لیکن ان کی حریف ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان میں آٹھ سال بعد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو کہ صدر ٹرمپ کے لیے مستقبل میں کافی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔صدارتی انتخاب 2020 میں ہونے ہیں لیکن ان وسط مدتی انتخابات کو ان کی صدارت کے دو سال پر ایک ’ریفرینڈم‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔امریکی نیٹ ورک سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد کوئی خطاب نہیں کریں گے لیکن ان کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک سطر کی مبارک باد کا پیغام سامنے آیا ہے۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر نیٹ ورک سی بی ایس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان وہ 23 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی جس کی انھیں ایوان زیریں میں برتری حاصل کرنے کے لیے ضرورت ہے۔اس جیت کی مدد سے ڈیموکریٹکس صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کروا سکتے ہیں۔امریکہ میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 سیٹوں پر انتخابات تھے اور ان میں خواتین امیدواروں نے خاص طور پر بہت عمدہ کارکردگی دکھائی۔ کئی ماہرین نے ان انتخابات کو خواتین کا سال قرار دیا ہے۔
کانگریس کے ایوان بالا میں صدر ٹرمپ کی پارٹی کی اکثریت قائم رہنے کی توقع ہے جہاں ان کو اس وقت 51-49 سے برتری حاصل ہے۔
انتخابات میں اہم لمحہ اس وقت آیا جب انڈیانا میں ری پبلکن پارٹی کے مائیک براؤن نے وہاں کے ڈیمو کریٹ جو ڈونیلی کو شکست دے دی۔
ٹیکسس میں موجودہ گورنر ٹیڈ کروز نے اب تک نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے ابھرتے ہوئے رہنما بیٹو او رورکے کو شکست دے دی۔ادھر ڈیموکریٹس کی جانب سے سینیٹر جو مانچن اور ببو مینیڈیز نے اپنی اپنی ریاستوں میں سخت مقابلے کے بعد جیت حاصل کر لی۔
وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی 435 نشتوں، سینٹ کی ایک تہائی نشتوں کے علاوہ کئی گورنروں اور ریاستی قانون ساز اداروں کی نشتوں پر انتخابات ہوئے ہیں۔امریکی ایوان نمائندگان اور سینٹ میں رپبلکن پارٹی کو برتری حاصل ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنی طاقت کو بچانے کے لیے رپبلکن پارٹی کے امیدواروں کے لیے سرتوڑ الیکشن مہم چلائی ہے اور ایک دن میں کئی کئی ریاستوں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔ انھوں نے آخری روز تین مختلف ریاستوں میں تین ریلیوں سے خطاب کیا۔ صدر ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پچھلے دو برسوں میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ سب داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔
سابق صدر براک اوباما بھی ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدواروں کے حق میں مہم چلانے میدان میں اترے۔ انھوں نے ایک ریلی سے ِخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں امریکہ کا کردار داؤ پر لگا ہوا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close