بین الاقوامی

امریکی پابندیوں کو منسوخ کرنےکی ایران نے عالمی عدالت انصاف میں کی اپیل

واشنگٹن:ایران نے عالمی عدالت انصاف سے درخواست کی ہے کہ وہ امریکہ کے 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد لگائی جانے والی پابندیاں ختم کرے۔ایران کے وکیل محسن محبی نے کہا کہ امریکی کا مقصد ہے کہ وہ ایران کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی طور پر نقصان پہنچائے اور اس نے 1955 میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔توقع ہے کہ امریکہ اپنی سماعت کے دوران یہ موقف اختیار کرے گا کہ لگائی جانے والی پابندیوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب مئی میں ایران پر پابندیاں عائد کی تھیں تو اس کے بعد سے ایران کے معاشی حالات ایک بار پھر مخدوش ہونا شروع ہو گئے تھے۔ملک میں اس وقت بیروزگاری کی شرح 12.5 فیصد ہے جبکہ ماہانہ مہنگائی بڑھ کر دس فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے اور ایرانی ریال ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر نصف حد تک کھو چکا ہے۔ ایران کی پارلیمان نے فیصلہ کیا کہ ملک کے وزیر خزانہ مسعود کرباسیان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے کیونکہ وہ معاشی حالات کو بہتری کی جانب گامزن کرنے میں ناکام رہے ہیں۔واضح رہے کہ 2015 میں امریکہ سمیت چھ ممالک نے ایران سے جوہری معاہدہ کیا تھا لیکن اس سال صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘امریکہ اس معاہدے سے نکل رہا ہے کیونکہ اس کے مرکزی مقاصد پورے نہیں ہوئے جو کہ ایران کو جوہری بم تیار کرنے سے روکنے کے بارے میں تھا۔ ‘خدشہ ہے کہ نومبر میں امریکہ ایران پر پابندیوں میں مزید اضافہ کرے گا جس سے ایران کی تیل کی صنعت اور سرکاری بینک اور دیگر شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔اس معاہدے میں شامل بقیہ ممالک جن میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ وعدے کی پاسداری کریں۔ایران نے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ اس بنیاد پر کھٹکٹھایا ہے کیونکہ دونوں ممالک نے 1955 میں معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق عالمی عدالت انصاف ان دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے تصفیے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ایرانی وکلا کی جانب سے اس عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا جس میں انھوں نے درخواست کی کہ عدالت امریکہ کو حکم دے کہ وہ اس مقدمے کی تکمیل ہونے تک پابندی کے فیصلے کو معطل کرے۔امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ زوردار طریقے سے اپنے موقف کا دفاع کریں گے۔مقدمے کی سماعت چار دن جاری رہے گی اور توقع ہے کہ فیصلہ ایک مہینے کے اندر آجائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close