ہندوستان

امن سے ہی خوشحالی ممکن، دونوں عالمی جنگوں سے سبق لے نئی نسل: ممتا

کولکتہ: سال 1942 میں ہوئی دوسری عالمی جنگ کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ پوری دنیا کی خوشحالی امن سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ جمعرات کی صبح وزیر اعلی نے اس بارے میں ٹویٹ کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سال 1942 میں 20 دسمبر کو ہی دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی فضائیہ نے کلکتہ میں اس وقت کی برطانوی حکومت کے وقت بمباری کی تھی۔ اگرچہ کلکتہ میں کسی کی موت نہیں ہوئی تھی لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران دنیا بھر میں بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ میں چاہتی ہوں کہ دونوں جنگ عظیم کی وجہ سے مشکل میں پڑی دنیا کے مسائل سے نئی نسل سبقلے اور پوری دنیا میں امن کو یقینی بنایا جائے۔ امن سے ہی خوشحالی ممکن ہے۔
دوسری عالمی جنگ ایک عالمی فوجی جدوجہد تھی جسمیں تمام عظیم طاقتوں سمیت دنیا کے بیشتر ممالک شامل تھے، جو دو متضاد فوجی اتحادمیں منظم تھے۔ دوست ملک اوردشمن ملک۔ اس جنگ میں 10 کروڑ سے زیادہ فوجی اہلکار شامل تھے ۔ اس کی وجہ سے یہ تاریخکی سب سے بڑی جنگ تھی۔مکمل جنگ کی حالت میںعالمی جنگ کے فریقین نے سول اور فوجی وسائل کے درمیان فرق کو مٹا کر جنگ میں اپنی پوری صنعتی، اقتصادی اور سائنسی صلاحیتوں کو جھونک دیا۔ اس میں سات کروڑ سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے، جن میں سے بیشتر عام شہری تھے۔ لہٰذا اس کو انسانی تاریخ کیسب سے خونریز جنگ کہا جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں مغربی بنگال کے کردار بھی بڑا تھا۔ 1942 میں ہوئی اس جنگ کے دوران ہندوستان انگریزوں کا غلام تھا اور مغربی بنگال کے مدنی پور میں واقعکلائی کنڈا میں رائل ایئر فورس کا بیس کیمپ تھا۔ امریکہ اور برطانیہ کے فوجی ایک ساتھ تھے ۔ اسی لیے جاپان کے خلاف بمباری میں برطانیہ کے جو جنگیطیارے اڑے تھے وہ مغربی بنگال کے ہی مدنی پور میں واقع کالا کنڈ ایئر فورس بیس سے اڑائے گئے تھے. اسی لیے جاپان ایئر فورس نے کولکتہ (اس وقت کلکتہ) اور ارد گرد کے علاقوںپر بھی بمباری کی تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close