ادبادب وثقافتبلاگ

امیر خسرو اور ان کے موضوعات کی عصری معنویت

امیر خسرو نے مضمون آفرینی کے کچھ ایسے جلوے اپنی شاعری میں بکھیرے ہیں جن کی بنیاد پر ان کی تخلیقی جلال آمیزی کو پرکھا جا سکتاہے

صفد امام قادری
ہندستانی ادبیات و ثقافت کے نقطۂ نظر سے امیرخسرو سے بڑی کوئی شخصیت تاریخ کے دفینے سے نہیں نکلی۔ شبلی نے ایرانی شعرا سے موازنہ کرتے ہوئے ہمہ جہت تخلیقی کردار کی شناخت میں خسرو کو فردوسی، سعدی، انوری، حافظ،عرفی اور نظیری پر فوقیت دی ہے کیوںکہ خسرو بہ یک وقت غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی گوئی کے ساتھ ساتھ نثر نگاری کی مختلف اصناف اور ہندوی میں دادِ سخن دے رہے تھے۔ وہ صرف شاعر نہیں تھے، درباری بھی تھے۔ وہ صوفی اور مورخ تو تھے ہی ، گیت سنگیت کے بڑے گہرے راز داں بھی تھے۔ ہر چند تہذیب و تمدن کے اشتراک کا عمل عمومی نہیں تھا مگر نسلی اعتبارسے وہ خود ترک اور ہندی مٹی کی آمیزش سے بنے ہوئے تھے؛ اس لیے وہ آج سے سات صدی پہلے مذہبی سماج کے سامنے مشترکہ کلچر کی بنیاد گڑھنے میں کامیاب ہوئے۔ شعر یا زندگی میں وہ عاشق بھی نظر آتے ہیں حالاںکہ ان کی صوفیانہ شخصیت کی ہر کوئی قسم کھاتا ہے۔ وہ طبقۂ اشراف کے سب سے بڑے تہذیبی نمائندے کی حیثیت سے امتیاز رکھتے ہیں اور فارسی شعر و ادب میں لاکھوں اشعار پیش کرنے کی وجہ سے فارسی زبان وادب میں سکۂ رائج الوقت بن چکے ہیں مگر طبیعت کی آزاد اڑان انھیں ہندوی کی بانہوں تک پہنچا دیتی ہے جہاں نئی نئی صنفوں کی ایجاد اور اظہار کے انوکھے پیمانوں کی تشکیل سے ایک نئی لسانی صورت حال پیدا ہوتی ہے اور نتیجے کے طور پر اردو اور ہندی زبانیں وجود میں آتی ہیں۔
بڑی شخصیات کے لیے یہ بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ ان کے کس پہلو کو سب سے اہم قرار دیا جائے؟امیر خسرو کے سلسلے سے قصیدہ ، مثنوی اور غزل جیسی اصناف میں ان کی عظیم خدمات پر ایک عالم نثار ہے ۔ قصائد اور مثنویات کی عظمت اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ امیر کا جس صنفِ سخن سے دلی معاملہ رہا، وہ غزل کے علاوہ کوئی دوسری شے نہیں ۔ وہاں وہ شاعر سے زیادہ درباری نظر آتے ہیں مگر یہاں دل کے معاملات سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح ان کا ہندوی سے بھی معاملہ رہا جہاں وہ اندرونِ قلب کی جانی انجانی تمام لہروں کو سامنے آنے کے مواقع دیتے ہیں۔ یہاں تفریحِ طبع اور غیر اشرافیت کے نمونے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایسی تحریریں پیش کررہے ہیں جیسی اس سے پہلے نہیں کرسکے تھے۔ ہندوی کلام کے نمونوں پر آج کی تاریخ میں بحث کرنا تحقیقی شواہد کے ساتھ بہت مشکل ہے مگر یہاں بھی غزلوں کے جو نمونے خسرو کے نام سے منسوب دستیاب ہیں، وہاں شعر گوئی کی کوئی ایسی نئی دنیا نظر آتی ہے جیسی ہم نے کہیں دیکھی نہیں۔ اس لیے خسرو کی غزلیہ شاعری کے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے فارسی اور ہندوی دونوں نمونوں کو ایک ساتھ پرکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ غزلیاتِ خسرو کے فارسی دفتر بے حد حجیم ہیں جب کہ ہندوی نمونے انگلیوں پر گننے کے برابر ہیں۔ یہ بھی خوب کہ فارسی کلام مستند اور معتبر اور ہندوی درجۂ استناد سے گرا ہوا، امتدادِ زمانہ سے تحریف و الحاق گزیدہ۔
غزل کی صنفی پہچان واضح کرتے ہوئے نقادانِ کرام یہ واضح کرتے ہیں کہ یہاں مضامین کی کوئی قید نہیں اور نہ کسی سلسلۂ خیال کی لازمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی سے غزل کا انتشار اور ریزہ خیالی کے اوصاف سکہ بند تنقید کا حصہ بنے۔ امیر خسرو نے خود اپنی مثنویوں میں موضوع سے بھٹکنے کی اپنی عادت پر روشنی ڈالی ہے۔ [قران السعدین]اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا مزاج غزل کے لیے موزوں تھا مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خسرو مثنوی اور قصائد جیسی اصنافِ سخن کے تربیت یافتہ تھے جہاں خیالاتِ مسلسل اور ترتیب و تنظیمِ گفتگو بنیاد کا پتھر ہیں۔ اس عہد میں خسرو کی فارسی یا ہندوی غزل ان دو غیر روایتی اور متضاد صفات کی یکجائی کی وجہ سے اولاً باعثِ توجہ رہی ہوگی۔ نغمگی اور موسیقیت اس پر اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غزلوں میں خسرو کی کامیابی کی ایک بنیاد ان کی زبان کی وہ سادگی ہے جس کی موجودگی میں انھوںنے یکساں قدرت کے ساتھ ہر طرح کے خیالات اور مضامین کو اپنی غزلوں میں پیوست کرکے دادحاصل کی ہے۔ فارسی غزلوں کے سامنے اردو غزلیں تو حقیقت میں ایک اسلوبیاتی نگارخانہ ثابت ہوتی ہیں جہاں خسرو اپنے فن کی اس وقت بلندی پر ہوتے ہیں۔اسی انوکھے اسلوب نے خسرو کی غزلوں میں سیاسی ، سماجی، مذہبی ، مجتہدانہ ، تاریخی، مشرکانہ اور نہ جانے کتنے مضامین کو شامل کرکے غزلیاتِ خسرو کو ایک ایسا آئینہ خانہ بنادیا ہے جہاں پہنچے بغیر ہم سات سو برس پرانے ہندستان کی تہذیبی و ثقافتی کیفیتوں کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ نئی باتیںاور مضامین تلاش کر لینا عام شعرا کا کام نہیں۔ امیر خسرو نے مضمون آفرینی کے کچھ ایسے جلوے اپنی شاعری میں بکھیرے ہیں جن کی بنیاد پر ان کی تخلیقی جلال آمیزی کو پرکھا جا سکتاہے۔ دیوانِ چہارم میں جس چار اندازکے کلام کی خود خسرو نے وضاحت کی ہے، ان کے بیان کے اسلوب پر توجہ دیں تو خسروکی اختراعانہ شان پہ یقین لانا پڑتا ہے ۔یہ ایسا شاعر ہے جو الگ الگ دور میں بہ ترتیب مٹی، پانی، ہوا اور آگ کی صفات سے اپنے کلام کی پہچان کرنے کی کوشش کی ہے۔ زندگی اور کائنات کے عناصر سے خسرو نے اپنے کلام کی صفات ترتیب دی ہیں۔ چار عناصر انسان کی بنیاد ہیں۔ کہنے کا یہ مطلب ہوا کہ خسرو اپنے کلام میں ایک تکمیلیت کا دعویٰ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔خسرو کو سبک شناسی کی روایت میں پہچاننے کی کوشش کیجیے تو یہ کہنا بے شک آسان ہے کہ خسرو سبک ہندی کے بنیاد گزار شعرا میں ہیں۔ اگر وہ نہ ہوتے تو اس اندازِ شعر کو شاید ہی پہلے ایران میں قبول کیا گیا ہوتا۔سبک خراسانی اور سبک ایرانی سے بھی امیر خسرو نے فیض حاصل کیا تھا۔ورنہ غزل کی طرف وہ خصوصی توجہ نہ پیدا ہوئی ہوتی۔ شاید امیر خسرو کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہوا کہ سبک ہندی میں دقّتِ خیال، ندرتِ بیان، فلسفہ طرازی اور معنی آفرینی کے اوصاف سنگِ میل قرار پائے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد کے عہد میں سبک ہندی کا وہ فطری رنگ پورے طور پر قائم نہ رہ سکا اور ایک حلقہ زبان و بیان کے گورکھ دھندے میں الجھ کر رہ گیا۔
امیر خسرو کی غزلیات کے سلسلے سے گفتگو کی بنیادہر چند ان کی فارسی شاعری ہی کو ہونا چاہیے مگر ان کے ہندوی کلام سے اس اسلوبِ جلیل کی شناخت میں مزید استحکام عطاکرنے کی غرض سے ان کی غیر مستند سہی مگر ہندوی متن سے استفادہ ایک کارِ لازم ہے۔ اس سلسلے سے ان کے نام منصوب وہ مشکور کلام غور و فکر کا حصہ بننا چاہیے جس کا متن فارسی اور ہندوی سے تیارہوا ہے اور جسے ڈاکٹر اسپرنگر کے حوالے سے مختلف مورخین اور محققین نے مختلف دستاویزات میں نقل کیا ہے۔ تذکرہ ’ مخزنِ نکات‘(سالِ تکمیل ۱۷۵۴ء) اور ’مجموعۂ نغز‘(سالِ تکمیل ۱۸۰۶ء) سے اسپرنگر نے استفادہ کیا تھا۔ مگر ہر جگہ اس کے متن میں تحریفات موجود ہیں۔ استناد کے سخت اصولوں پر اسے پرکھیں تو بہت سارے سوالات کچھ اس انداز سے قائم ہو جاتے ہیں کہ امیر خسرو کے بیش تر ہندوی کلام سے گلوخلاصی ہی مناسب معلوم ہوتاہے۔امیر خسرو کے چار فارسی دواوین کے مقابلے نامستند ہندوی کلام کی بساط ہی کیا مگر ان کی شاعرانہ شخصیت کی شناخت اور ان کے عقیدت مندوں کی نئی نئی جماعتیں ان ۷۰۰؍ برسوںمیں اس طرح سامنے آئیں جس کی وجہ سے ان کے ہندوی کلام سے صرفِ نظر کرنا مشکل ہے۔ اٹھارھویں صدی سے ہندستانی معاشرے میں فارسی کے مقابلے اردو زبان نے جس طرح اپنی مرکزیت قائم کی ہے اس کا بھی یہ تقاضا ہے کہ ہم امیر خسرو کے فارسی کلام کی اہمیت اور افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے ہندوی کے نا مستندسرماے کو بھی قابل ِ غور سمجھیں۔n
(مضمون نگار کالج آف کامرس پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں)

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close