سیاست

انتخابی سیاست آئندہ سال انقلابی کروٹ لینے جارہی ہے: کانگریس

نئی دہلی:غریبوں ، کسانوں، مزدوروں، ملازمت پیشہ لوگوں ،چھوٹے اور درمیانے بیوپاریوں اور نفرت کی سیاست سے بیزار حلقوں کے ووٹ 2019 میں بی جے پی کو نہیں ملیں گے۔اس استدلال کے ساتھ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے ملک کی انتخابی سیاست آئندہ سال انقلابی کروٹ لینے جارہی ہے ۔پارٹی کے اعلی ذرائع نے اس اندیشے کو مسترد کر دیا کہ2014 میں ایک سے زیادہ گھپلوں کے شور اور روایتی حکومت بیزاری کو خوش کن وعددوں کے ذریعہ کیش کرنے والی بی جے پی 2019 میں فرقہ وارانہ صف بندی کا انتخابی فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جائے گی کیونکہ رات دن صنعت کاروں کی جیبیں بھرنے کی مبینہ سیاست کر کے موجودہ حکمراں پارٹی نےسماج کے ایک بڑے طبقے کو ناخوش کردیا ہے۔ذرائع نے کہا کہ اگر بی جے پی فرقہ وارانہ صف بندی کا انتخابی فائدہ اٹھانے کی سوچ رکھتی ہے تو یہ ملک کے ووٹروں کی توہین ہے ۔ ہندستانی عوام جذباتی ضرور ہیں لیکن ان کے جذبات کو کوئی بھی کھلم کھلا منفی طریقے سے کیش نہیں کر سکتا۔پچھلے چار برسوں میں لوگ کافی کچھ دیکھ چکے ہیں۔ دوٹوک فرقہ ورارانہ خطوط پرانتخابی دوڑ میں شامل بی جے پی کو حکمراں این ڈی اے کے دفاع کے لئے کم سے کم 280 سیٹوں کی ضرورت ہو گی جو موجودہ منظر نامے میں اسے نہیں ملنے جارہی ہیں۔ اگر پارٹی 230 تک قدم بڑھانے میں کسی طور کامیاب ہوبھی گئی تو مسٹر مودی این ڈی اے کا انتخاب نہیں رہ جائیں گے۔
آئندہ عام انتخابات کے لئے مہا گٹھ بندھن کو ماضی میں کانگریس کے خلاف اپوزیشن کی انتخابی مفاہمت سے مختلف اور پر امن بقائے باہم کے رخ پر ناگزیر قرار دیتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ کانگریس ایک بار پھر ملک کے حق میں تاریخی کردار ادا کرنے جارہی ہے تاکہ خارجی محاذ پر مضبوط اور مستحکم ہندستان داخلی سطح پر بھی منظم اور مربوط رہے۔
ذرائع نے کہا کہ اس بار چونکہ وزیر اعظم کے عہدے سے زیادہ اہمحکومتی تبدیلی کو یقینی والا الیکشن ہے اس لئے انتخابی سوچ کو کسی شخصیت تک محدود نہیں رکھا گیا۔ مابعد انتخابات قائدانہ انتخاب کے مرحلے سے بھی اتحاد کامیاب گزرے گا۔اپوزیشن اتحاد کی کوشش ابتدائی بات چیت سے حکمت عملی مر حلے میں داخل ہو جانے کے بعد ترنمول رہنما ممتا بنرجی اور بی ایس پی سپریمو مایا وتی کے علاوہ پی چدمبرم بھی متوقع امیداور بن کر ابھرے ہیں۔ ماضی میں بھی وی پی سنگھ، دیوگوڑا یہاں تک کہ منموہن سنگھ کا انتخابمابعد الیکشن ہی عمل میں آیا تھا۔واضح رہے کہ قبل ازیں کانگریس کی وکنگ کمیٹی مسٹر راہل گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر پیش کر چکی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close