پٹنہ

اوپیندر کشواہا نےدہی والے بیان پر دی صفائی

پٹنہ: رالوسپا صدر اوپیندر کشواہا کے دہی والے بیان پر بہار میں سیاسی ہنگامہ مچ گیا ہے۔ان کے اس بیان پر آر جے ڈی نے جہاں کہا ہے کہ وہ جلد مہاگٹھبندھن کا حصہ ہوں گے بس تاریخ مقرر ہونی باقی ہے۔ تو وہیں جے ڈی یو نے ان کے بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ كکب تک کھیر اورٹھیکوآ کی سیاست کریں گے۔ انہیں اپنی منشا صاف کر دینی چاہئے۔ اس پر کشواہا نے اپنے بیان پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کسی پارٹی کو لے کر یہ بات نہیں کی۔
آر جے ڈی نے کہاکھیر بن کر تیار ہے:
اوپیندر کشواہا کے بیان پر آر جے ڈی لیڈر بھائی ویریندر نے کہا کہ اوپیندر کشواہا جلد ہی مہاگٹھبندھن کا حصہ ہوں گے۔کھیر بنانے کی جہاں تک بات ہے کشواہا نے صاف اشارہ کر دیا ہے کہ وہ این ڈی اے میں کتنے بے چینی میں ہیں، انہوں نے کہا کہ کھیر تیار ہے بس اس میں پنچ میوہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔
جے ڈی یو نے کہا کھیراور ٹھیکوآ کی سیاست سے باہر نکلیں:
کشواہا کے بیان پر جدیو لیڈر اشوک چودھری نے کہا کہ یہ ذات پات کی سیاست كکب تک چلے گی؟ انہوں نے کہا کہ ذات کی بنیاد پر اب سیاست کرنے کی بجائے لوگوں کو ترقی کی سیاست کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ اپنی منشا پوری نہیں ہونے کے سبب لوگ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔پتہ نہیں ان کی منشا کیا ہے؟
ناگمنی نے کہا ذات آج بھی ہے ضروری
اس کا جواب دیتے ہوئے رالوسپا کے ایگزیکٹو چیئرمین ناگمنی نے کہا کہ ملک میں یا بہار میں اب بھی ذات کی بنیاد پر ہی سیاست کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اقتدار چاہئے تو ذات اہم فیکٹر ہے، آج بھی لیڈر اپنی ذات سےہی پہچانا جاتا ہے۔ اشوک چودھری کے بیان پر ہم توجہ نہیں دیتے۔ جو کچھ بھی ہو اب این ڈی اے میں سیٹوں کی تقسیم جلد سے جلد ہو جانی چاہئے۔
میری باتوںکی غلط تشریح کی گئی :
وہیں، ان بیان بازی کے درمیان اوپیندر کشواہا نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کسی پارٹی کو جوڑ کر کوئی بیان نہیں دیا۔ میں نے بیان سماج مفاد میں دیا ہے۔ میرے بیان کی صحیح تشریح کی جانی چاہئے۔ میں معاشرے میں نفرت پھیلانے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میرا یہ ماننا نہیں کہ لالو کے سائے کو لات لگاو۔ این ڈی اے کی تمام اتحادی اہم ہیں۔ سب کے اتحادسے ہی این ڈی اے مضبوط ہے۔
جیتن مانجھی نے کہا اوپیندر کشواہا کر رہےہیں دو کشتیوں کی سواری:
ان کے اس بیان پر ہم کے رہنما جیتن مانجھی نے کہا کہ اوپیندر کشواہا کو دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔اگر وہ مہاگٹھبندھن میں آنا چاہتے ہیں تو کھل کر بولیں۔لیکن اگر وہ سی ایم عہدے کی چاہت لے کر مہاگٹھبندھن میں آنا چاہتے ہیں تو یہاں اس کی کوئی ویکینسی نہیں ہے۔یہاں وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار تیجسوی یادو ہیں۔
جانیے کیا کہا تھا اوپیندر کشواہا نے:
پٹنہ میں بی پی منڈل کی پیدائش تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا نے کہا کہ اگر يدونشیوں (یادو) کے دودھ میں كشوشی (کشواہا) کا چاول مل جائے تو دنیا کی سب سے زیادہ مزیدار کھیر تیار ہوگی۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے برہمن لیڈر شنکر جھا آزاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ چینی پٹکیں اور دلت لیڈر بھودیو چودھری اس میں تلسی ڈالیں گے۔
انہوں نے اسے اور واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھیر تب تک مزیدار نہیں ہوگی جب تک اس میں چھوٹی ذاتوں اور دبے کچلے سماج کاپنچ میوہ نہیں پڑے گا۔ یہی سماجی انصاف کی حقیقی تعریف ہے۔ اوپیندر کشواہا کے مطابق یہ مساوات بنے تو ریاست کا اقتدار آسانی سے مل جائے۔ کانفرنس میں کشواہا کو وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار بنانے کا مطالبہ بھی کیاگیاتھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close