بہارٹیکنالوجی

اِسکِل ڈیولپمنٹ پلیسمینٹ پروگرام کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

پٹنہ: آرام دہ، مستقل اور مؤثر ماحول کی تعمیر کے لئے دنیا بھر میں معروف اِنگرسول رینڈ نے آج اپنے اِسکِل ڈیولپمنٹ پروگرام 2018 کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ فنڈ کے تعاون سے شروع کی گئی یہ پہل کمپنی کے کورپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کا ایک حصہ ہے۔ اپنی سی ایس آر پہل کے تحت انگرسول رینڈ (انڈیا) لمیٹڈ اب تک ملک میں مہارت کی ترقی کے لئے تقریبا روپے 1.32 کروڑ مختص کر چکی ہے۔2022 تک 400 ملین لوگوں کو مہارت فراہم کرنے کے حکومت ہند کے نقطہ نظر سے حوصلہ افزائی انگرسول رینڈ اپنی اس پہل کے ذریعے مردوں اور عورتوں کو جی ڈی اے (جنرل ڈیوٹی اسسٹنٹ)، کیوسی آئی (کوالٹی کنٹرول انسپکٹر) اور سی این سی (کمپیوٹرائزڈ نیومیریکل کنٹرولر) مشین آپریٹر میں تربیت فراہم کرے گا۔ تربیتی پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد امیدواروں کو سیکٹر مہارت کونسلوں (ہیلتھ کیئر اور آٹوموٹیو) کے ذریعہ سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ منتخب کردہ کورس قومی مہارت معیار ڈھانچے (این ایس کیوایف) کے مطابق ہوں گے، مہارت کے لئے کارکردگی کی بنیاد پر یہ ڈھانچہ معیاری اور مؤثر نتائج کو یقینی بناتا ہے۔سی این سی مشین آپریٹر اور کیو سی آئی جاب رولس پروگرام کی شروعات سے ہی اس کا حصہ رہے ہیں، مگر جی ڈی اے یا جنرل ڈیوٹی اسسٹنٹ سی جاب رول کو اسی سال کی تربیت میں شامل کیا گیا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں خواتین تربیت میں حصہ لیں اور صحت خدمات کے شعبے میں تربیت یافتہ اور باصلاحیت کارکنوں کی کمی کو دور کیا جاسکے۔ یہ پروگرام نوجوانوں کوروزگار کے لئے اہل بنائے گا۔اس میںسافٹ اسکلس، ڈیجیٹل اورفائنانشیل لرننگ ماڈیولس شامل ہیں۔ فی الحال یہ پروگرام اپنے دوسرے سال میں ہے اور اب تک اس میں تربیت پانے والے 70 فیصد سے زیادہ امیدواروں کو نوکری مل چکی ہے۔ شرکاء ہی نہیں بلکہ آجر بھی اس پروگرام کو خوب پسند کر رہے ہیں۔امر کول، چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر، انگرسول رینڈ انڈیا لمیٹڈ نے کہا، ” بھارت میں سی ایس آر سرگرمیوں کے ذریعے ہم اپنے فائدہ اٹھانے والوں کی زندگی پر مثبت اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے ہم غذائیت سے لے کر تعلیم اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے ذریعہ معاش کے مواقع فراہم کرنے تک ہر پہلو پر کام کرتے ہیں۔ آج ملک میں انڈسٹری کی ضرورت کے مطابق موثر روزگار کے قابل ٹیلنٹ کی کمی ہے اور این ایس ڈی سی کے تعاون سے ہم اسی کمی کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ ”

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close