کالمز

آسیہ کا معاملہ ۔۔کچھ تو پردہ داری ہے۔۔۔۔۔؟


اے ایمان والو! عدل کے علمبردار بنو، اللہ کیلئے اس کی شہادت دیتے ہوئے اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل نہ کرو۔ یہی تقویٰ سے قرب تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اس سے باخبر ہے۔(سورہ مائدہ آیت۔8)
بیشک جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ رکھنے والے نہیں ہیں۔(سورہ۔الحجرات۔آیت۔4)
اس سورہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ان میں سے اکثر بیعقل ہیں پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ چاہیے تھا کہ آپ کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے۔ نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی پھر حکم دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ یہ آیت حضرت اقرع بن حابس تمیمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کا نام لے کر پکارا یا محمد! یا محمد! (ﷺ)آپﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا تو اس نے کہا سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا تعریف کرنا بڑائی کا سبب ہے اور میرا مذمت کرنا ذلت کا سبب ہے آپ نے فرمایا ایسی ذات محض اللہ تعالیٰ کی ہی ہے۔ بشر بن غالب نے حجاج کے سامنے بشر بن عطارد وغیرہ سے کہا کہ تیری قوم بنو تمیم کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ کچھ عرب جمع ہوئے اور کہنے لگے ہمیں اس شخص کے پاس لے چلو اگر وہ سچا نبی ہے تو سب سے زیادہ اس سے سعادت حاصل کرنے کے مستحق ہم ہیں اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے پروں تلے پل جائیں گے میں نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ لوگ آئے اور حجرے کے پیچھے سے آپ کا نام لے کر آپ کو پکارنے لگے اس پر یہ آیت اتری حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی،(ابن جریر)حضرت عوفی فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے سامنے بولنے سے منع کر دیا گیا مجاہد فرماتے ہیں کہ جب تک کسی امر کی بابت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ فرمائیں تم خاموش رہو حضرت ضحاک فرماتے ہیں امر دین احکام شرعی میں سوائے اللہ کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے تم کسی اور چیز سے فیصلہ نہ کرو، حضرت سفیان ثوری کا ارشاد ہے کسی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پہل نہ کرو۔یہ معاملہ ان حضرات کے ساتھ پیش آیا جو رضی اللہ عنہ ورضو عنہ کی شان سے مزین ہیں،اور ہمارا کیا حال ہے؟اللہ بہتر جانتا ہے۔
مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ نورین بی بی پنجاب کے ضلع ننکانہ کے ایک گاؤں اِٹاں والی کی رہائشی تھیں جو لاہور سے تقریباً 50 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔2009 میں اسی گاؤں میں فالسے کے ایک باغ میں آسیہ بی بی کا گاؤں کی چند عورتوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کے دوران مبینہ طور پر انھوں نے پیغمبرِ اسلام ﷺ کے خلاف ‘تین توہین آمیز’ کلمات کہے تھے۔
جون 2009 ء میں شیخوپورہ کے گاؤں اِٹانوالی(پاکستان) کی ایک عیسائی خاتون نے مسلمان خواتین کے ساتھ مباحثہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی شان میں نازیبا زبان استعمال کی …
گستاخی کے ارتقاب کے بعد اہل علاقہ سراپا احتجاج بن گئے.اسی علاقے کی معزز شخصیات نے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اس کیس کو شیخوپورہ کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں لے گئے۔ جہاں گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے دوسری جانب مجرمہ آسیہ معلونہ نے بھی سیشن جج کے سامنے اپنی طرف سے کی گئی گستاخی کو تسلیم کیا جس پر اس عیسائی خاتون کو ’’نومبر 2010 میں سیشن جج نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے اس گستاخ عورت کو 295C قانون کے تحت سزا موت سنا دی.اس مقدمے کے مدعی ننکانہ صاحب کی مسجد کے امام قاری محمد سالم تھے۔اس خاتون کے شوہر ’’اسحاق مسیح‘‘ نے فیٓصلہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو ’’لاہور ہائی کورٹ‘‘ میں چیلنج کرے گا … ایک ماہ کا گزرنا تھا کہ ’’گورنر پنجاب سلمان تاثیر‘‘ نے فیصلہ کیا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو وہ ’’صدارتی معافی کے اختیار‘‘ کو استعمال کروانے کے لیے صدر آصف علی زرداری سے اس عیسائی گستاخ خاتون کی معافی کے لیے اپیل کرے گیں…
اس دوران لاہور ہائی کورٹ نے اس معافی کی اپیل پر سٹے آرڈر دیا … اور اس عیسائی گستاخ خاتون کے خلاف ڈسٹرکٹ کورٹ شیخوپورہ کے جج ’’محمد نوید اقبال‘‘ کے فیصلے کو برقرار رکھا … اور اس عیسائی گستاخ خاتون کو ’’کوٹ لکھ پت جیل لاہور کے 8×10 کے دیتھ سیل میں ڈال دیا گیا…
سلمان تاثیر اپنی گورنری کااثر و رسوخ استعمال کر کے جیل میں اس گستاخ لعینہ سے ملاقات کرنے پہنچ گئے ،اور وہاں پریس کانفرنس میں یک طرفہ بات کرتے ہوئے میڈیا کی موجودگی میں اسے مکمل طور پر تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی جس کی وجہ سے میڈیا پر اس معاملے پر بحث و مباحثہ ہونے لگا اور عوام کی جانب سے بھی شدید ردعمل آنے لگا اور گورنر پنجاب علمائے اکرام کے فتووں پر بدزبانی کی اور دور حاضر کے علماؤں کا مذاق اڑایا۔جس کے نتیجے میں 4 جنوری 2011 کو کوہسار مارکیٹ اسلام آباد میں سلمان تاثیر کے ڈیوٹی گارڈ 26 سالہ ملک ممتاز قادری نے AK-47 کا پورا بریسٹ اسکے جسم میں اتار دیا … دوسری جانب’’وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی‘‘ جس نے معلونہ پر مقدمے کے اندراج میں شروع میں شدید مداخلت کی جس کی بنا پر اس وزیر کو اس کے گھر کے باہر گمنام لوگوں نے قتل کر دیا۔
16 اکتوبر 2014 میں ایک بار پھر اس عیسائی خاتون کی اپیل کو مسترد کر دیا گیا …20 نومبر2014 کو صدر پاکستان کو پھر معافی کی اپیل کی گئی۔ 24 نومبر 2014 کو اسحاق مسیح نے پھر اپنی بیوی کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا … اور 22 جولائی 2015 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس عیسائی خاتون کی سزائے موت کی سزا تب تک معطل کر دی جب تک اپیلوں کا فیصلہ نہیں آ جاتا …
26 مارچ 2016 میں دوبارہ ہائی کورٹ میں اپیل کی سماعت مقرر ہوئی۔ 13 اکتوبر 2016 کو تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا … اسی صبح اسی بینچ کے جج ’’جسٹس اقبال حمید الرحمٰن‘‘ نے اس کیس کی سماعت سننے سے انکار کر دیا۔
اس خاتون کو بچانے کے چکر میں ایک گورنر پنجاب سلمان تاثیر موت کے منہ میں چلے سگئے۔
’’آسیہ مسیح‘‘کو بچانے میں ایک وفاقی وزیر موت کے منہ میں چلے گئے۔ ’’آسیہ مسیح‘‘ ملعونہ کے خلاف ممتاز قادری نے پھانسی کا پھندا قبول کر لیا اور سلمان تاثیر اسکے ہاتھوں مارے گئے.
تین لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن توھین رسالتﷺ کے قانون 295-c کے تحت ایک ثابت شدہ گستاخ لعینہ کو تا حال پھانسی نہ دی جا سکی۔واہ رے نئے علم کے پاسبان؟
بین الاقوامی این جی اوز، بڑے بڑے پادری فرانس کے پاپ دوم رومن کیتھولک ساری کمیونٹی ایک فالسے کی کاشت کاری پر مزدوری کرنے والی لعین گستاخ خاتون کو بچانے کیلئے شروع سے لیکر اب تک سرگرم ہیں لیکن حکومتی مشینری بالکل مفلوج ہو گئی ہے۔جس ملک کو اسلام کے نام پر بنایا گیاتھا اب اسی ملک میں غیر اسلامی کام سب سے زیادہ ہو رہے ہیں۔ وکلا کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب سپریم کورٹ نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت کسی مقدمے کی سماعت کی ہو۔
8 اکتوبر 2018 کو چیف جسٹس ثاقب نثارصاحب کی قیادت میں 3 رکنی بینچ آسیہ مسیح ثابت شدہ گستاخ ملعونہ کی اپیل کی سماعت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔31 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر آسیہ بی بی کے خلاف کیس خارج کرنے اور ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔
اللہ خیر کرے۔؟ رہائی پہ عیسائی مشنریاں پولیٹیکل اسائلم دلوا کر اس کو یورپ لے جائیں گی،اور اس خاتون کو ہیرو بنا کر الحاد پھیلانے کا کام لیا جائے گا … (اللہ خیر کرے)
یہ اس مظلوم قانون کی داستان کا صرف ایک باب ہے کہ ایک ملزمہ ملعونہ نے خود تسلیم کیا کہ اس نے توھین کی اور ظاہر وہ عدلیہ کے ریکارڈ میں ھے اور پھر بھی رہا،واہ رے پڑھے لکھے لوگ،ایسی تعلیم
پر اللہ کی لعنت جو توہین رسالتﷺ پر بھی خاموش ہے،اور اپنے دنیاوی آقا کو خوش کرنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ناموس کا سودا کرنے میں دریغ نہیں کرتی۔ ۔کیا حکومت پاکستان مزید ممتاز قادری پیدا کرنا چاہتی ہے؟اگر ایسا ہوتا رہا تو ان شاء اللہ تعالی اور ممتاز قادری پیداہونگے۔
آسیہ کے معاملے میں رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ آسیہ بی بی کو رہا کرے، جبکہ موجودہ پوپ فرانسس نے آسیہ بی بی کے گھر والوں سے ملاقات کی تھی۔
24 فروری 2018 کو آسیہ بی بی کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے خلاف اٹلی کے شہر روم میں سینکڑوں افراد کولوسیئم تھیئٹر کے سامنے جمع ہوئے۔ اس دوران اس قدیم عمارت کو سرخ رنگ میں رنگ دیا گیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ایشیاپیسیفک ڈائریکٹر ڈیوڈ گرفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ ‘یہ سنگین ناانصافی ہے۔ آسیہ بی بی پر شروع میں فردِ جرم ہی عائد نہیں کرنی چاہیے تھی، سزائے موت دینا تو دور کی بات ہے۔’اس کے علاوہ امریکہ محکمہ خارجہ نے بھی کئی بار اس کیس کا ذکر کیا ہے۔
اگر آسیہ بی بی نے گستاخی کی ہے تو ان کی سزا صرف موت ہے،اگر وہ بے گناہ ہیں تو اسلامی قوانین مظلوم کے ساتھ انصاف حکم دیتاہے۔
(ماخوذ۔تفسیر ابن کثیر۔بی بی سی لندن کی رپوٹ اور دیگر مضامین سے۔)

Show More

ریاض فردوسی

محمد ریاض الدین فردوسی ابن محمد شرف الدین قادری(ریٹائرڈ وائرلیس آپریٹر۔پٹنہ۔۔۔پولیس بہار)۔سکہ ٹولی عالم گنج ڈاکٹر ضیاء الہدى لین۔نزد سکہ ٹولی مسجد پٹنہ۔7۔بہار۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close