متھلانچل

آلودگی پر کنٹرول اور ماحولیات کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری :وی سی ؍سنجے سراؤگی

گورب شالی دربھنگہ کے زیر اہتمام سائیکل ریلی کاانعقاد ، بڑی تعداد میں شریک ہوئے لوگ

دربھنگہ :کامیشور سنگھ احاطہ میں گورب شالی دربھنگہ کے زیراہتمام منعقد سائیکل ریلی کاافتتاح فیتا کاٹ کر اور جھنڈی دکھاکر للت نرائن متھلایونیورسیٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سریندر کمار سنگھ اور شہری ایم ایل اے سنجے سراؤگی نے کیا ۔ پروگرام کے بارے میں وائس چانسلر پروفیسر سریندر کمار سنگھ نے کہاکہ گورب شالی دربھنگہ کے ذریعہ آـثار قدیمہ اور ماحولیات کے مد نظر ایک مہم چلائی گئی ہے۔ یہ قابل تعریف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہمارا جو بھی ماضی ہے چاہے وہ کسی عمارت کی شکل میں ہو یا ماحولیات کی شکل میں دونو ںکی حفاظت ضروری ہے ۔ اگر ان دونوں کی ہم حفاظت نہیں کرتے ہیں تو ماضی کے ساتھ ساتھ پوری دنیا ختم ہوجائے گی ۔ آج پوری دنیا ماحولیات کے تئیں متفکر ہے ۔ اس سے نپٹا ہماری ذمہ داری ہی نہیں بلکہ سماجی طور پرفریضہ بھی ہے ۔ شہری ایم ایل اے سنجے سراؤگی نے کہا کہ ماحولیات کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ بڑھتی آلودگی ، آلودہ ہوتے پانی اور گھٹتے جنگل کی وجہ سے زمین پر سانس لینا بھی مشکل ہورہا ہے ۔ ۸۰ فیصد بیماریاں آلودگی کی وجہ سے ہورہا ہے ۔ بے تحاشاپیڑوں کی کٹائی ، آلودگی پھیلانے والی گاڑیو ںکا استعمال اور پالی تھین کا کثرت سے استعمال اس کیلئے ذمہ دار ہیں ۔ انہو ںنے ’’ گورب شالی دربھنگہ ‘‘ کو ایسے اہتما م کیلئے مبارک باد دیا او رکہا کہ مستقبل میں ایسے کام ہونے چائیے جس سے لوگو ںمیں ماحولیات کے تئیں پیغام پہنچے ۔ سائیکل ریلی میں ایم ایل ایس ایم کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ویدیاناتھ جھا ، پراوکٹر ڈاکٹر اجے ناتھ جھا بھی ریلی میں سائیکل چلاتے نظرآئے ۔ پروگرام میں کئی کالجوں کے این ایس ایس طلباء اور کھلاڑیوں نے حصہ لیا ۔ ریلی یونیورسیٹی کامیشور نگر سے شروع ہو کر دربھنگہ اسٹیشن ہوتے ہوئے دربھنگہ ٹاور اور دوبارہ یونیورسیٹی پہنچ کر ختم ہوئی ۔ ریلی کے کو آرڈینٹر منیش راج نے بتایا کہ اس طرح کے پروگرام آئندہ بھی کئے جائیں گے ۔ سماجی رکن سنجے کمار سنگھ کلین دربھنگہ اور گرین دربھنگہ پر مبنی پروگرام کومدد دینے کی ضرورت ہے ۔ گورب شیل دربھنگہ کے راہل کمار ، سنتوش کمار چودھری ، کلپ راج ناگونشی ، روی کمار ، کمار ابھیشیک ، دیواکر ، پرکاش بندھو ، مدھوکر ، نیرج انشو ، دپیش انکت ، پرنس ، کیشو وغیرہ موجود تھے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close