سیاست

آلوک ورما کے خلاف اقدام ،مودی حکومت کا تحقیقاتی ایجنسیوںکو نشانہ بنانے کا ایک حصہ۔ ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی ( پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے سی بی آئی میں چل رہے تنازعہ او ر سی بی آئی کے خلاف بی جے پی حکومت کی منصوبہ بند کارروائی پر اپنے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہارکیا ہے۔اس ضمن میں جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ ملک کی بڑی ایجنسی سی بی آئی(CBI) میں جو چونکا دینے والا تنازعہ چل رہا ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ملک میں سیاستدان اور بڑے کاروباری گھرانوں کے درمیان گہرے اور مفاد پرستانہ تعلقات قائم ہیں۔ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ سی بی آئی تنازعہ سے ملک میں انصاف، سچائی اور جمہوریت پرگہری چوٹ لگی ہے۔ این ڈی اے حکومت بدعنوانی کو ختم کرنے کے جھوٹے دعوی کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی اور اب وہ اپنے جھوٹے دعوی کو سچا ثابت کررہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناگیشورا رائو کو عبوری چیف کے طور پر تقرر کرنا اور سی بی آئی کے دو بڑے افسران کو آدھی رات کو چھٹی پر بھیج دینا تنازعہ کا حل نہیں ہے۔انہوں نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس پورے تنازعہ کو حکومت نے سی بی آئی افسران کے آپسی جھگڑے سے تشبیہ دے رہی ہے کیونکہ آلوک ورما کے رافیل سودے کی جانچ سے حکومت کو کافی دھچکا لگا ہے۔ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ آلوک ورما کے خلاف اقدام مودی حکومت کا تحقیقاتی ایجنسیوں کو نشانہ بنانے کا ایک حصہ ہے اگر حکومت سی بی آئی پر بھی حاوی ہونے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ ملک کی قانون کی حکمرانی کیلئے تابوت کا آخری کیل ثابت ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close