بہارسیمانچل

آپ کے اتحاد پر مسائل کا حل موقوف ہے :امیر شریعت

بتیا:سماجی برائیاں خود رو گھاس کے مانند ہیں، اس کے لئے کسی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن گلاب کی خوشبو سے معطر ہونے کیلئے محنت ومشقت کرنی پڑتی ہے، اسلئے اگر مسلمان نظم واتحاد کے ساتھ خرابیوں کو دور کرنے کی تدبیریں نکالیں اور اس کیلئے جد وجہد شروع کردیں تو انشاء اللہ ہمارا سماج صاف ستھرا اور مثالی سماج بن سکتاہے، اس کیلئے ہم سب کو رضاکارانہ طریقے سے محنت کرنی پڑے گی، یہ باتیں مفکر اسلام شیخ طریقت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت فیوضہم امیر شریعت امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھار کھنڈ وجنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ و سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیرنے دوروزہ خصوصی اجلاس کے موقع پر یتیم خانہ بدریہ بتیا ضلع مغربی چمپارن میں علماء مدارس ،ائمہ مساجد اور سماجی شخصیات کے ایک بڑے اجلاس سے کیا ، یہ اجلاس امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام ۱۸؍نومبر کو منعقد ہواجس میں سینکڑوں سرکردہ اور متعدد ملی اصحاب نے شرکت کی اس موقع پر شرکاء اجلاس نے اپنے اپنے علاقوں کے ملی مسائل ، بے دینی وغربت ، معاشی و تعلیمی پسماندگی کی نشاندہی کی توان مسائل کے حل پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت امیرشریعت مدظلہ نے فرمایا کہ آپ کے اتحاد پر ہمارے مسائل کا حل موقوف ہے ، جن معاملات کو ہم سب مل جل کر حل کرسکتے ہیں ، انہیں حل کریں گے اور جو معاملات حکومت اور قانونی راہ سے حل ہوںگے، انہیں قانونی طور پر حل کیاجائے گا، مثلاً قبرستان کی گھیرابندی یا اردو یونٹ کے سرکاری اسکولوں میں اردو پڑھانے والے اساتذہ کی بحالی کا مسئلہ ہو، ایسے مقامات کی نشاندہی کرکے تفصیلات فراہم کریں، ہم سب لوگ باہمی تعاون سے کوشش کریں گے۔ حضرت امیر شریعت نے یہ بھی فرمایا کہ جو سماجی برائیاں پنپ رہی ہیں صحیح بات یہ ہے کہ اس میں ہم سب کی کوتاہی رہی ہے کہ ہم نے دین کی صحیح باتیں ان تک پہونچانے میں کوتاہی برتی ہے، اگر ابتداء سے ذہن سازی کرتے اور دین کی خدمت انجام دیتے تو شاید معاملہ یہاں تک نہیں پہونچتا، لیکن پھر بھی ہم کو حالات سے مایوس نہیں ہوناہے اور مل جل کر ہمت وحوصلہ سے خیر وبھلائی کے کاموں کو انجام دیناہے۔
ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ بہت سی قیمتی رائیں آئیں انشاء اللہ اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، جن مسلم علاقوں میں دینی تعلیم کا کوئی نظام نہیں ہے، پہلے اس آبادی سے متصل مسلم آبادیوں کے لوگوں کو اس کیلئے فکر مند ہوناچاہئے اور انہیں کوشش کرنی چاہئے ، بصورت دیگر وہاں کی رپورٹ تیار کرکے بھیجیں ہم لوگ اس پر توجہ دیںگے، جو مدرسے قائم ہیں اور ان کا کوئی رجسٹریشن نہیں ہواہے انہیں سرکاری طورپر رجسٹرڈ کروالیاجائے، ناظم امارت شرعیہ نے لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ ایک شرعی حق ہے، اس کیلئے ہمارے ائمہ وعلماء کو اپنی خطبات کا موضوع بنائیں۔ازیں قبل مولانا مفتی محمدشمشاد رحمانی استاذ حدیث دارلعلوم وقف دیوبند نے اسلام کے اجتماعی نظام پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اسلام کی بنیادی روح ہے، اللہ نے مسلمانوں کو ایک امام اور ایک امیرشریعت کے ماتحت متحد ومنظم زندگی گذارنے کی تعلیم دی، اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں جو امیر شریعت عطاء کی ہے وہ علم و فضل ، زہدو تقویٰ اور ہمت وحوصلہ میں ممتاز ہیں ، حضرت امیر شریعت عالی نسب بزرگ شخصیت ہیں ہم سب لوگ سمع وطاعت کے جذبہ کے ساتھ ان کی اطاعت کریں اور امارت شرعیہ کو قوت پہونچائیں۔ اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے کہاکہ حضرت امیر شریعت کی دعوت پر ہم لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں انشاء اللہ آپ کے گراں قدر أثرات کی روشنی میں حضرت کے احکام اور پیغام کو سنیںگے اور عمل کریںگے۔اس موقع پر خواتیں کا بھی خصوصی اجتماع ہوا جس میں حضرت امیر شریعت نے فرمایاکہ جب عورت دیندار، مہذب اور سائستہ ہوتی ہیں تو ان کی گود میں پرورش پانے والے بچے دیندار اور صالح ہوتے ہیں ، اس لئے عورتوں کو زیورتعلیم سے آرستہ ہوناچاہئے ، ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ بہت سی عورتیں محدثہ اور عالمہ ہوئی ہیں جن سے لوگ دین سیکھاکرتے تھے اور مستفیض ہوتے تھے ۔
مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ نے عورتوں کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں سے واقف کرایا اور انہیں خدا رسیدہ خاتون بننے کی تلقین کی ۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مولانا مفتی محمد شمشاد رحمانی صاحب نے اسلام نے عورتوں کو جو عزت اور احترام کا مقام دیاہے، کتاب وسنت کی روشنی میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس دوروزہ اجلاس میں مختلف علماء کرام، ائمہ عظام اور سماجی خدمت گاروں کے گراں قدر تأثرات آئے اور باہمی مشورے سے ان مسائل کو حل کرنے پر غور کیاگیا ۔ اس اجلاس کو کامیاب اور بامقصد بنانے میں اجلا س کے کنوینر قاضی نثار احمد قاسمی قاضی شریعت امارت شرعیہ مدرسہ اسلامیہ بتیا ، نیز مجلس استقبالیہ کے اراکین اور شہر بتیا کے ذمہ دار اصحاب اور قرب وجوار کی سرکردہ شخصیات نے بڑی جد وجہد کی جس کے خوشگوار اثرات محسوس کئے گئے ، اس اجلاس میں امارت شرعیہ کے اہل علم کا قافلہ جس میں قاضی عبد الجلیل صاحب قاسمی قاضٰ شریعت امارت شرعیہ ، مولانا قمر انیس صاحب قاسمی،مولنا رضوان احمد ندوی، مولانا ممتاز صاحب اور مبلغین امارت شرعیہ نے شرکت کی ،بعد نماز مغرب اجلاس عام ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ، اس موقع پر ضلع مغربی چمپارن کے مختلف حلقوں سے لوگوں نے حضرت امیر شریعت کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلہ رحمانی سے روحانی نسبت حاصل کی۔اخیر میں حضرت امیر شریعت نے اپنے دست مبارک سے یتیم خانہ بدریہ بتیا کے دارالاقامہ کے جدید تعمیر کا سنگ بنیاد بھی رکھاگیا اور اس کے بعدیہ اجلاس آپ کی پرسوز دعاء کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close