اسلامیات

آہ رے ۔۔۔۔ہماری بے حسی ؟

تو رازِ کن فکاں ہیں اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا،
خودی کا رازداں ہوجا،خدا کا ترجماں ہوجا
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا،محبت کی زباں ہو جا
ترے علم ومحبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نوا کوئی
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھناہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
اے لوگوجو ایمان لائے ہو!اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلے کرآئے توتحقیق کر لیا کروکہ کہیں تم کسی گروہ کو لاعلمی سے کوئی نقصان (نہ)پہنچادوپھرجوکچھ تم نے کیاہواُس پرپشیمان ہو جاؤ۔(سورہ۔الحجرات۔آیت۔6)
ارشاد نبویﷺ ہے: ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پھیلا دے‘‘(صحیح مسلم)
فاسق کی خبر پر اعتماد نہ کرو اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہو جائے کوئی حرکت نہ کرو ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہدی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گذرو تو اصل اس کی پیروی ہو گی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے اسی آیت کو دلیل بنا کر بعض محدثین کرام نے اس شخص کی روایت کو بھی غیر معتبر بتایا ہے جس کا حال نہ معلوم ہو اس لئے کہ بہت ممکن ہے یہ شخص فی الواقع فاسق ہو گو بعض لوگوں نے ایسے مجہول الحال راویوں کی روایت لی بھی ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں فاسق کی خبر قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے اور جس کا حال معلوم نہیں اس کا فاسق ہونا ہم پر ظاہر نہیں۔ اس مسئلہ کی پوری وضاحت سے صحیح بخاری شریف کی شرح میں کتاب العلم میں موجود ہے(فالحمد للہ)
تحقیق باب تفعیل کا مصدر ہے۔جس کے معنی چھان بین اورتفتیش کے ہیں۔
انگلش میں اس کے لیے Research کا لفظ استعمال ہوتاہے۔Re کے معنی ہیں دوبارہ اور Search کے معنی ہیں تلاش کرنا،Research کے معنی ہوئے دوبارہ تلاش کرنا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
کہ ہم سفر کے لیے روانہ ہوئے راستہ میں ایک شخص کو پتھر لگا جس سے اس کا سر پھٹ گیا، اس کو احتلام ہوا اس نے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم مجھے تیمم کی اجازت دیتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں ہم تیرے لیے تیمم کی کوئی گنجائش نہیں پاتے؛ کیونکہ تجھے پانی کے حصول پر قدرت حاصل ہے لہٰذا اس نے غسل کیا اور مر گیا جب ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں نے اس کو ناحق مار ڈالا، اللہ ان کو ہلاک کرے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہ تھا تو ان کو پوچھ لینا چاہیے تھا؛کیونکہ نہ جاننے کا علاج معلوم کر لینا ہے، اس شخص کے لیے کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر کپڑا باندھ کر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارا بدن دھو ڈالتا۔‘‘
(الخطابی،حمد بن محمد،ابو سلیمان،معالم السنن شرح سنن ابی داؤد،حلب،المطبعۃ العلمیۃ1351ھ،جلد۱،صفحہ۔104)
علامہ ابوسلیمان الخطابی(م388ھ)اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:
میں کہتا ہوں اس حدیث سے معلوم ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر علم کے فتوی دینے کی وجہ سے ان کی مذمت کی اور ان کے لیے وعید بیان کی ا س طریقے پر کہ ان کے لیے بد دعا کی اور گناہ میں ان کو اس کا قاتل قرار کردیا۔‘‘چونکہ بغیر تحقیق کے یہ فتوی ٰ دیا گیا تھا؛ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں سخت کلمات کہے۔
چند سال سے اس ملک کے ٹیلیویژن چینلز پر تعلیم کے نام پر سفید جھوٹ پر مبنی پروگرام چلائے جا رہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ جب یورپ میں یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں تو مسلم بادشاہ تاج محل اور شالامار باغ بنا رہے تھے۔ان چینلز یا پروگرامز میں اگر کوئی سمجھ بوجھ والا آدمی بیٹھا ہوتا تو اسکو سمجھنے میں یہ مشکل نہیں آتی کہ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئی، وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نا تھیں۔پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوتے ہیں۔دوسری کسی ملک کی مضبوط معاشی اور اقتصادی حالت، اس قدر مضبوط کے وہاں کے حکمران شاندار عمارات تعمیر کرنے کا خرچ برداشت کر سکیں۔معاشی حوالے سے ہندوستان بالعموم مسلم ادوار اور بالخصوص مغلیہ دور (اکبر – عالگیر) میں دنیا کے کل GDP میں اوسطاً 25% فیصد حصہ رکھتا تھا. در آمدات انتہائی کم اور برآمدات انتہائی زیادہ تھیں اور آج ماہر معاشیات جانتے ہیں کہ کامیاب ملک وہ ہے جس کی برآمدات زیادہ اور درآمدات کم ہوں. سترویں صدی میں فرانسیسی سیاح فرانکیوس برنئیر ہندوستان آیا اور کہتا ہے کہ ہندوستان کے ہر کونے میں سونے اور چاندی کے ڈھیر ہیں. اسی لئے سلطنت مغلیہ ہند کو سونے کی چڑیا کہتے تھے.
اب تعمیرات والے اعتراض کی طرف آتے ہیں. فن تعمیر کی جو تفصیلات تاج محل، شیش محل، شالامار باغ، مقبرہ ہمایوں، دیوان خاص وغیرہ وغیرہ میں نظر آتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ انکے معمار جیومیٹری کے علم کی انتہاؤں کو پہنچے ہوئے تھے. تاج محل کے چاروں مینار صرف آدھا انچ باہر کی جانب جھکائے گئے تاکہ زلزلے کی صورت میں گرے تو گنبد تباہ نہ ہوں. مستری کے اینٹیں لگانے سے یہ سب ممکن نہیں، اس میں حساب کی باریکیاں شامل ہیں. پورا تاج محل 90 فٹ گہری بنیادوں پر کھڑا ہے. اس کے نیچے 30 فٹ ریت ڈالی گئی کہ اگر زلزلہ آئے تو پوری عمارت ریت میں گھوم سی جائے اور محفوظ رہے. لیکن اس سے بھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا شاہکار دریا کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کنارے اتنی بڑی تعمیر اپنے آپ میں ایک چیلنج تھی، جس کے لئے پہلی بار ویل فاونڈیشن (well foundation) متعارف کرائی گئی یعنی دریا سے بھی نیچے بنیادیں کھود کر انکو پتھروں اور مصالحہ سے بھر دیا گیا، اور یہ بنیادیں سینکڑوں کی تعداد میں بنائی گئی گویا تاج محل کے نیچے پتھروں کا پہاڑ اور گہری بنیادوں کا وسیع جال ہے، اسطرح تاج محل کو دریا کے نقصانات سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا. عمارت کے اندر داخل ہوتے ہوئے اسکا نظارہ فریب نظر یعنی (Optical illusion) سے بھرپور ہے. یہ عمارت بیک وقت اسلامی، فارسی، عثمانی، ترکی اور ہندی فن تعمیر کا نمونہ ہے. یہ فیصلہ کرنے کے لئے حساب اور جیومیٹری کی باریک تفصیل درکار ہے. پروفیسر ایبا کوچ (یونیورسٹی آف وینیا) نے حال میں ہی تاج محل کے اسلامی اعتبار سے روحانی پہلو واضح (decode) کئے ہیں.اور بھی کئی راز مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں. انگریز نے تعمیرات میں (well foundation) کا آغاز انیسویں صدی اور (optical illusions) کا آغاز بیسویں صدی میں کیا. جب کے تاج محل ان طریقہ تعمیر کو استعمال کر کے سترھویں صدی کے وسط میں مکمل ہو گیا تھا. آج تاج محل کو جدید مشین اور جدید سائنس کو استعمال کرتے ہوئے بنایا جائے تو 1000 ملین ڈالر لگنے کے باوجود ویسا بننا تقریباً ناممکن ہے. ‘ٹائل موزیک’ فن ہے، جس میں چھوٹی چھوٹی رنگین ٹائلوں سے دیوار پر تصویریں بنائی جاتی اور دیوار کو منقش کیا جاتا ہے. یہ فن لاہور کے شاہی قلعے کی ایک کلومیٹر لمبی منقش دیوار اور مسجد وزیرخان میں نظر آتا ہے. ان میں جو رنگ استعمال ہوئے، انکو بنانے کے لئے آپ کو موجودہ دور میں پڑھائی جانے والی کیمسٹری کا وسیع علم ہونا چاہئیے. یہی حال فریسکو پینٹنگ کا ہے، جن کے رنگ چار سو سال گزرنے کے باوجود آجتک مدہم نہیں ہوئے. تمام مغل ادوار میں تعمیر شدہ عمارتوں میں ٹیرا کوٹا (مٹی کو پکانے کا فن) سے بنے زیر زمین پائپ ملتے ہیں. ان سے سیوریج اور پانی کی ترسیل کا کام لیا جاتا تھا. کئی صدیاں گزرنے کے باوجود یہ اپنی اصل حالت میں موجود ہیں. مسلم فن تعمیر کا مکمل علم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور موجودہ دور کے سائنسی پیمانوں پر ایک نصاب کی صورت تشکیل دیا جائے تو صرف ایک فن تعمیر کو مکمل طور پر سیکھنے کے لیے پی ایچ ڈی (phd) کی کئی ڈگریاں درکار ہوں گی. کیا یہ سب کچھ اس ہندوستان میں ہو سکتا تھا، جس میں جہالت کا دور دورہ ہو اور جس کے حکمرانوں کو علم سے نفرت ہو؟؟ یہ مسلم نظام تعلیم ہی تھا جو سب کے لئے یکساں تھا، جہاں سے بیک وقت عالم، صوفی، معیشت دان، طبیب، فلسفی، حکمران اور انجینئر نکلتے تھے. شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ ہوں یا جھانگیر ہو یا استاد احمد لاہوری ہو، یہ سب مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی تعلیمی نظام میں پروان چڑھے، اسی لئے ان سب کی سوچ انسانی مفاد کی تھی.
مول ڈیورانٹ مغربی دنیا کس مشہور ترین مورخ اور فلاسفر ہے. وہ اپنی کتاب story of civilization میں مغل ہندوستان کے بارے میں لکھتا ہے: ”ہر گاوں میں ایک اسکول ماسٹر ہوتا تھا، جسے حکومت تنخواہ دیتی تھی. انگریزوں کی آمد سے پہلے صرف بنگال میں 80 ہزارا سکول تھے. ہر 400 افراد پر ایک ا سکول ہوتا تھا. ان ا سکولوں میں 6 مضامین پڑھائے جاتے تھے. گرائمر، آرٹس اینڈ کرافٹس، طب، فلسفہ، منطق اور متعلقہ مذہبی تعلیمات. ” اس نے اپنی ایک اور کتاب A Case For India میں لکھا کہ مغلوں کے زمانے میں صرف مدراس کے علاقے میں ایک لاکھ 25 ہزار ایسے ادارے تھے، جہاں طبی علم پڑھایا جاتا اور طبی سہولیات میسر تھیں. میجر ایم ڈی باسو نے برطانوی راج اور اس سے قبل کے ہندوستان پر بہت سی کتب لکھیں. وہ میکس مولر کے حوالے سے لکھتا ہے ”بنگال میں انگریزوں کے آنے سے قبل وہاں 80 ہزار مدرسے تھے”. اورنگزیب عالمگیر ؒکے زمانے میں ایک سیاح ہندوستان آیا’ جس کا نام الیگزینڈر ہملٹن تھا، اس نے لکھا کہ صرف ٹھٹھہ شہر میں علوم و فنون سیکھانے کے 400 کالج تھے. میجر باسو نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہندوستان کے عام آدمی کی تعلیم یعنی فلسفہ، منطق اور سائنس کا علم انگلستان کے رئیسوں حتیٰ کہ بادشاہ اور ملکہ سے بھی زیادہ ہوتا تھا. جیمز گرانٹ کی رپورٹ یاد رکھے جانے کے قابل ہے. اس نے لکھا ” تعلیمی اداروں کے نام جائیدادیں وقف کرنے کا رواج دنیا بھر میں سب سے پہلے مسلمانوں نے شروع کیا. 1857ء میں جب انگریز ہندوستان پر مکمل قابض ہوئے تو اس وقت صرف روحیل کھنڈ کے چھوٹے سے ضلع میں، 5000 اساتذہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے.” مذکورہ تمام علاقے دہلی یا آگرہ جیسے بڑے شہروں سے دور مضافات میں واقع تھے. انگریز اور ہندو مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم کا عروج عالمگیرؒ کے زمانے میں اپنی انتہا کو پہنچا. عالمگیر ؒنے ہی پہلی دفعہ تمام مذاہب کے مقدس مذہبی مقامات کے ساتھ جائیدادیں وقف کیں. سرکار کی جانب سے وہاں کام کرنے والوں کے لئے وظیفے مقرر کئے. اس دور کے 3 ہندو مورخین سجان رائے کھتری، بھیم سین اور ایشور داس بہت معروف ہیں. سجان رائے کھتری نے ”خلاصہ التواریخ”، بھیم سین نے ”نسخہ دلکشا” اور ایشور داس نے ”فتوحات عالمگیری” لکھی. یہ تینوں ہندو مصنفین متفق تھے کہ عالمگیر نے پہلی دفعہ ہندوستان میں طب کی تعلیم پر ایک مکمل نصاب بنوایا اور طب اکبر، مفرح القلوب، تعریف الامراض، مجربات اکبری اور طب نبوی جیسی کتابیں ترتیب دے کر کالجوں کے نصاب میں شامل ہوئی تاکہ اعلیٰ سطح پر صحت کی تعلیم دی جا سکے. یہ تمام کتب آج کے دور کے MBBS نصاب کے ہم پلہ ہیں. اورنگزیب سے کئی سو سال پہلے فیروز شاہ نے دلی میں ہسپتال قائم کیا، جسے دارالشفاء کہا جاتا تھا. عالمگیر نے ہی کالجوں میں پڑھانے کے لیے نصابی کتب طب فیروزشاہی مرتب کرائی. اس کے دور میں صرف دلی میں سو سے زیادہ ہسپتال تھے.
تاریخ سے ایسی ہزاروں گواہیاں پیش کی جا سکتی ہیں. لاہور کے انارکلی مقبرہ میں موجود ہر ضلع کی مردم شماری رپورٹ ملاحظہ ضروری ہے۔. ہر ضلع میں شرح خواندگی 80% سے زیادہ ملے گی جو اپنے وقت میں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ تھی، لیکن انگریز جب یہ ملک چھوڑ کر گیا تو صرف 10% تھی. بنگال 1757ء میں فتح کیا اور اگلے 34 برسوں میں سبھی ا سکول و کالج کھنڈر بنا دیئے گئے. ایڈمنڈ بروک نے یہ بات واضح کہی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مسلسل دولت لوٹی جس وجہ سے ہندوستان بدقسمتی کی گہرائی میں جاگرا. پھر اس ملک کو تباہ کرنے کے لئے لارڈ کارنیوالس نے 1781ء میں پہلا دینی مدرسہ کھولا. اس سے پہلے دینی اور دنیاوی تعلیم کی کوئی تقسیم نہ تھی. ایک ہی مدرسہ میں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا، فلسفہ بھی اور سائنس بھی. یہ تاریخ کی گواہیاں ہیں۔لیکن اشتہار و پروگرام بنانے والے جھوٹ کا کاروبار کرنا چاہے تو انہیں یہ باطل اور مرعوب نظام نہیں روکتا۔
اگر دہلی جانے کا اتفاق ہو اور ان تعمیرات کا مشاہدہ کیا جائے، یقین کیجئیے کہ ان عمارات کے سحر سے نکلنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ فخر اور حیرانی ہوتی ہے کہ ان ادوار میں مشین کا وجود نا ہونے کے باوجود ایسے شاہکار تعمیر کرنا ناممکن لگتا ہے۔ لاہور میں مغلیہ فن تعمیر پر کبھی نظر دوڑائیے، انجینئرنگ کے کارناموں پر محو حیرت رہے گے کیونکہ جب یورپ یونیورسٹیاں بنا رہا تھا تو یہاں وہ تعلیمات عام ہو چکی تھیں. لیکن یہ موجودہ ظالم نظام جہاں ہمیں اپنی اعانت کے لئے اپنا کلرک بناتا ہے وہاں ہماری عظیم تاریخ کو بھی مبہم بناتا ہے.”آج مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہیں ذرائع ابلاغ (Media) کا پروپیگنڈا پوری طرح برباد کر چکا ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ۔اور جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ کہا وہ اپنا ٹھکانہ آگ جہنم میں بنا لے۔
(صحیح بخاری، کِتَابُ العِلْمِ،بَابُ اِثم من کذب علی النبی ﷺ،حدیث نمبر:110)
ہمارے اکابرین کے ناموں کو تبدیل کیا کردیا گیا ،ان کے ایجادات کو اپنا نام دیا گیا ۔جس قوم کو شہدا علی الناس کا خطاب حاصل ہے وہی بے راہ روی کاشکار ہے۔
جابر بن حیان (پیدائش: 721ء— وفات: 25 دسمبر 815ء) کثیر الجامع شخصیت، جغرافیہ نگار، ماہر طبیعیات، ماہر فلکیات اور منجم تھا۔ تاریخ کا سب سے پہلا کیمیادان اور عظیم مسلمان سائنس دان جابر بن حیان جس نے سائنسی نظریات کو دینی عقائد کی طرح اپنایا۔ دنیا آج تک اسے بابائے کیمیا کے نام سے جانتی ہے۔ اہل مغرب ’’Geber‘‘نام تبدیل کردیا ۔ جابر بن حیان کو کیمیا کا بانی مانا جاتا ہے۔ وہ کیمیا کے تمام عملی تجربات سے واقف تھا۔جابر بن حیان نے اپنے علم کیمیا کی بنیاد اس نظرئیے پر رکھی کہ تمام دھاتوں کے اجزائے ترکیبی گندھک اور پارہ ہیں۔ مختلف حالتوں میں اور مختلف تناسب میں ان دھاتوں کے اجزائے ترکیبی ملنے سے دیگر دھاتیں بنیں۔ ان کے خیال میں دھاتوں میں فرق کی بنیاد اجزائے ترکیبی نہیں بلکہ ان کی حالت اور تناسب تھا۔ لہذا معمولی اور سستی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنا ممکن تھا۔ ان میں مشاہدہ ذہانت لگن اور انتھک محنت کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔
جابر قرع النبیق نامی ایک آلہ کے موجد تھے جس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ میں کمیائی مادوں کو پکایا جاتا اور مرکب سے اٹھنے والی بخارات کو نالی کے ذریعہ آلہ کے دوسرے حصہ میں پہنچا کر ٹھنڈا کر لیاجاتا تھا۔ یوں وہ بخارات دوبارہ مائع حالت اختیار کر لیتے۔ کشیدگی کا یہ عمل کرنے کے لیے آج بھی اس قسم کا آلہ استعمال کیاجاتا ہے۔ اس کا موجودہ نام ریٹارٹ ہے۔
ایک دفعہ کسی تجربے کے دوران میں قرع النبیق میں بھورے رنگ کے بخارات اٹھے اور آلہ کے دوسرے حصہ میں جمع ہو گئے جو تانبے کا بنا ہوا تھا۔ حاصل شدہ مادہ اس قدر تیز تھا کہ دھات گل گئی۔ جابر نے مادہ کو چاندی کے کٹورے میں ڈالا تو اس میں بھی سوراخ ہو گئے۔ چمڑے کی تھیلی میں ڈالنے پر بھی یہی نتیجہ نکلا۔ جابر نے مائع کو انگلی سے چھوا تو وہ جل گئی۔ اس کاٹ دار اور جلانے کی خصوصیت رکھنے والے مائع کو انہوں نے تیزاب یعنی ریزاب کا نام دیا۔ پھر اس تیزاب کو دیگر متعدد دھاتوں پر آزمایا لیکن سونے اور شیشے کے علاوہ سب دھاتیں گل گئیں۔ جابر بن حیان مزید تجربات میں جٹ گئے۔ آخر کار انہوں نے بہت سے کیمیائی مادے مثلاً گندھک کا تیزاب اور ایکوار یجیا بنائے۔ حتٰی کہ انہوں نے ایک ایسا تیزاب بنایا جس سے سونے کو بھی پگھلانا ممکن تھا۔
جابر بن حیان نے مادّے کو عناصر اربعہ کے نظریے سے نکالا۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے مادّے کی تین حصّوں میں درجہ بندی کی۔ نباتات، حیوانا ت اور معدنیات۔ بعد ازاں معدنیات کو بھی تین حصّوں میں تقسیم کیا۔ پہلے گروہ میں بخارات بن جانے والی اشیاء رکھی اور انہیں ”روح” کا نام دیا۔ دوسرے گروہ میں آگ پر پگھلنے والی اشیاء مثلاً دھاتیں وغیرہ رکھیں اور تیسرے گروہ میں ایسی اشیاء رکھیں جو گرم ہوکر پھٹک جائیں اور سرمہ بن جائے۔ پہلے گروہ میں گندھک،سنکھیا،نوشادر وغیرہ شامل ہیں۔
جابر بن حیان نے کیمیائی مرکبات مثلاً کاربونیٹ،آرسینک،سلفایئڈ اور الکحل کو خالص تیار کیا ہے۔ انھوں نے الکحل، شورے کے تیزاب یانائٹرک ایسڈ اور نمک کے تیزاب یا ہائیڈروکلورک ایسڈ اور فاسفورس سے دُنیا کو پہلی بار روشناس کرایا اس کے علاوہ انھوں نے دوعملی دریافتیں بھی کیں۔ ایک تکلیس یا کشتہ کرنا یعنی آکسائیڈ بنانا اور دوسرے تحلیل یعنی حل کرنا۔ جابر بن حیان کیمیاکے متعدد اُمور پر قابلِ قدر نظری و تجرباتی علم رکھتا تھا۔ کیمیا کے فن پر اس کے تجربات بہت اہم ہیں۔اس کے علاوہ لوہے کو زنگ سے بچانے کے لیے لو ہے پر وارنش کرنے، موم جامہ بنانے، خضاب بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔ اس کے علاوہ فولاد کی تیاری، پارچہ بافی ،چرم کی رنگائی اور شیشے کے ٹکڑے کو رنگین بنانا وغیرہ۔اورکئی نام ہیں جو تاریخ میں گم ہو گئے ہیں یا تو ان کے نام بدل دئے گئے یا انہیں بھلادیا گیا،اور سب سے بڑھ کر ہم نے بھی ان کی کوئی تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی۔اور سارے اکابرین میں ایک بات یکساں ہیں کہ سب حامل قرآن تھے۔
رہِ منزل میں سب گم ہیں مگر افسوس تویہ ہے
امیر کارواں بھی ہے انہیں گم کردہ راہوں میں

(ماخوذ۔تفہیم القرآن۔تفسیر ابن کثیر۔مولانا عقیدت اللہ قاسمی صاحب اور مولانا مہر الدین صاحب،اور دیگر مضامین سے )

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close