بہارپٹنہ

اپنی مثبت سوچ اورطاقت کا استعمال سماج کی ترقی کے لیے کیجئے :وزیر اعلیٰ

پٹنہ:وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار آج لکھی سرائے ضلع کے تحت 9عدد عوامی استعمال اور ترقیاتی آبپاشی منصوبہ کا سنگ بنیاد ریمورٹ کے توسط سے نیم پلیٹ کی نقاب کشائی کی ۔ اس موقع بر لکھی سرائے ضلع کے سوریہ گڑھ کے پاس قائم مڈل اسکول مانک پور میں منعقد عوامی پروگرام کے سلسلہ میں بنائے گئے اسٹیج پر آبی وسائل محکمہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری جناب ترپراری شرن نے گلدستہ اور مومنٹو پیش کر کے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا ۔ مقامی لیڈران اور عوامی نمائندوں نے وزیر اعلیٰ کا پگڑی ، تیر ، شال اور پھول مالا سے شایان شان استقبال کیا ۔پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج 92کروڑ 59 لاکھ 97ہزار روپے کی لاگت سے ٹوٹل 9آبپاشی منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ، جسے تقریبا 23905 ہیکٹئر یعنی 1لاکھ بگہہ زمین کی آبپاشی کی سہولت کا فائدہ ہو گا ۔ اس کے لیے میں آبی وسائل محکمہ کے وزیر اور اس سے منسلک افسران کو مبارک باد دیتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقہ میںبہنے والی ندیوں کا استعمال آبپاشی کے طور پر کر نے کے لیے آج ان منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ۔ جن پر ایک ہفتہ کے اندر کام شروع ہو جائیگا ۔ کیونکہ 15ماہ کے اندر ان منصوبوں کا کام پوراکر نے کانشانہ متعین کیاگیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ آبی وسائل محکمہ کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کر کے الگ الگ جوابدہی سونپی گئی ہے ۔ تقسم کے بعد ایک ٹکڑے کو آبپاشی کا کام ، دوسرے کو سیلاب پرقابو پانے اور تیسرے کو ان دونوں کے کام کی مانیٹرنگکر کے کا ذمہ سونپا گیا ہے ۔ اس کے بعد تیزی سے گام آگے بڑھ رہا ہے اور مجھے بڑی خوشی ہے کہ آبپاشی کے ذرائع زیادہ ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہار کاایک بڑا حصہ سیلاب متاثر ہے ،اس کو قابو کر نے کے لیے بھی محکمہ جاتی کو شش زیادہ رہتی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آبی وسائل محکمہ کی تقسیم سے پہلے سیلاب کو قابو کر نے میں ہی زیادہ محکمہ جاتی افسران لگے رہتے تھے ۔ اس لیے آبپاشی کے منصوبوں پر وقت پر عمل نہیں ہو پاتاتھا ، جس کے سبب رقم میں اضافہ کر نا پڑتا تھا ۔ لیکن محکمہ کی تقسیم کا ہی نتیجہ ہے کہ کئی آبپاشی کے منصوبوں کو پوراکیا گیا جو بہت وقت سے چلے آرہے تھے ۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مارچ 2020تک آج جن منصوبوں کا سنگ بیناد ہوا ہے اس کا کام مکمل ہو جائیگا ۔ انہوں نے کہاکہ کام وقت پر پورا ہو جائے گا تو ہم لوگ ہی اس کا افتتاح کریں گے اس سے ہمیں تسلی ہو گی ۔ بہار کی آبادی کا 76فیصد لوگ اپنی زندگ کے گزربسر کے لیے زراعت پر ہی منحصر ہیں ۔ زراعت کا مطلب غلہ پیدا کر نے سے لے کر ماہی پروری ، مویشی پروری ، پھل کی کھیتی ، سبزی کی پیداوار جیسے دیگر کئی چیزوں سے ہے ۔ ا ن تمام حلقوںمیںکافی کام کیاگیا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 24نومبر 2005کو ہم نے بہار کا اقتدار سنبھالا۔ اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے میٹنگ بلائی تھی جس میں زراعت کے ماہرین ، پیداوار پر پرزنٹیشن دے رہے تھے ۔ زراعت کے ایک ماہر نے اس میٹنگ میں پرزنٹیشن دیتے وقت میری طرف دیکھتے ہوئے بولے کر بہار کی پیداوار پورے ملک میں سب سے کم ہے ۔ اسی وقت ہم نے کہا کہ آئندہ سال بہار کی پیداوار دیکھ لی جائے گی ۔ چونکہ ان کو پتہ نہیں تھا کہ بہار میں ایگریکلچر روڈ میپ پر کام ہو رہا ہے ۔ بہار میں پہلا ایگریکلچر روڈ میپ 2008-2012 اور دوسرا ایگریکلچر روڈ میپ 2012-2017 کے لیے بنا یا گیا تھا اور اب تیسرا روڈ میپ 2017-2022چل رہا ہے ، پہلے ایگریکلچر روڈ میپ پر عمل درآمد کا نیتجہ ہے کہ دھا ن ، گہیوں اور مکہ کی پیداوار میں قومی سطح پر بہار اوپر جاچکا ہے اور کچھ حلقوں میں دھان کی پیدا وار اتنی زیادہ ہوئی کہ بہار نے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس کے لیے بہار کو انعاس بھی دیاجاچکا ہے۔سبزی کے پیداوار میں اس ملک میں بہار تیسرے مقام پر ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زراعت کے لیے سینچائی کے ساتھ ساتھ سڑک کی بھی ضروت ہے تاکہ پیدا وار کو بازار میں آسانی سے پہنچا یاجاسکے ۔ اس سے کسانوں کو مناسب قیمت ملے گی ۔ وزیر اعظم دیہی سڑک منصوبہ کے علاہ وزیر اعلیٰ گرام رابطہ منصوبہ اور ٹولہ سمپرک منصوبہ کے توسط سے بہار کے ہر گاروں اور ٹولوں کو پکی سڑک سے جوڑا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے 3800 کروڑ روپے کی لاگت سے سڑک تعمیرات محکمہ کی سڑکوں کی طرح گرامین سڑکوں کے رکھ رکھائو کے لیے ایک نئی پالیسی بنائی گئی ہے ۔ اس منصوبہ کی شروعات ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دو سال کے اندر بہارمین کوئی بھی سڑک اب خراب حالت میں ن ہیں رہے گی اور اس کے بعد بھی کبھی خراب نہیں دیکھے گی ۔
چاہے سڑک کسی بھی منصوبہ سے ہی کیوںنہ بنی ہو ۔ بہار میں خواہش مندر لوگوں کو ہر گھر تک بجلی کا کنکشن پہنچایا چکا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 9جولائی 2015کے ایک پروگرام میں عورتوں نے شراب بندی کا مطالبہ کیاتھا ہم نے شراب بندی لاگو کر دیا ۔اس موقع پر انہوں نے عاملی ہیلتھ تنظیم ڈبلو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق بتا یا کہ دنیامیں ہو نے والی موت میں 5.3فیصد موت شراب پینے کے سبب ہواکر تی ہے ۔ پوری دنیا میں 20 سے 39فیصد لوگ میں 13.5فیصد نوجوانوں کی موت شراب کے سبب ہو تی ہے اسلیے آپ تمام لوگ ہوشیار رہیں اور پورے عزم کے ساتھ شراب بندی کے کام مین لگے رہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کمسنی میں شادی اور جہیزکی روایت پر روک کا ، لڑکیوں کے لیے سائیکل اور پوشاک منصوبہ کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بھڑکاکر جھگڑا لگانے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ آپ ان کے بہکاوے میں نہ آئیں ۔ سماج میں محبت ، بھائی چارہ کا ماحول قائم رکھتے ہوئے ابنی طاقت کا استعمال ریاست کی ترقی اور سماج کی ترقی پر کیجئے ۔
پروگرم کو نائب وزیر اعلیٰ جناب سشل کمارمودی ، پانی وسائل کے وزیر جناب راجیور نجن سنگھ ، دیہی ترقیات اور پارلیمانی امور کے وزیر جناب شرون کمار ، لیبر وسائل کے وزیر جناب وجئے کمار سنہا ، ممبر پارلیامنٹ جناب آر سی پی سنگھ ، ممبر اسمبلی جناب پرہلاد یادو ، اور پانی وسائل محکمہ کے اڈیشنل چیف سکریٹری جناب ترپوراری شرن نے خطاب کیا ۔
اس موقع پر ممبر قانون سازکونسل جنار سنجے پرساد ، لکھی سرائے کے ضلع پریشد صدر جناب راماشنکر سنگھ ، بی جے پی ضلع صدر دیوانند ساہو ، ایل جے پی ضلع صدر جناب دھوری پاسوان ، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری جناب منش کمارورما ، مونگیر کمشنر جناب اشوک کمار پال ،سمیت کئی شخصیات آبی وسائل محکمہ کے سینئر افسران ، انجینئر اور مقامی لوگ موجود تھے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close