بلاگمضامین

اچھی شخصیت و خوبصورت آواز کا سنگم محمد رفیع

اللہ پاک نے اپنی اس کائینات میںبے شمار انسان ایسے پیدا کیئے جو اس کی طرف سے عطا کردہ بے مثال خوبیوںو اوصاف کی بدولت رہتی دنیاتک کچھ ایسے مختلف و منفرد کام انجام دے گئے جن کے چلتے آج بھی لوگوں کے دلوں میں وہ زندہ ہیں۔
اسی طرح اچھی ومیٹھی آواز بھی خدا کی طرف سے عطا کردہ ایک بیش قیمت تحفہ ہے ۔ویسے جب ہم آواز کی دنیا کے اچھے گلوکاروں کی بات کرتے ہیں توبے شک ایک نام جو ہمیں سب سے اوپر سرِ فہرست نظر آتا ہے وہ نام ہے معروف بالی وڈ پلے بیک سنگر محمد رفیع صاحب کا۔
گیت ہو یا غزل ،قوالی ہو یا نعت ،شبد ہو یا پھربھجن رفیع صاحب نے ہر طرح کی موسیقی میں اپنی آواز کا کچھ ایسا لوہا منوایاکہ آج موسیقی کو بھی ان پہ ناز ہے۔
بے شک رفیع صاحب کو ہم سے جدا ہوئے تقریباً چار دہاکے گزر چکے ہیں لیکن اسکے باوجود انکی آواز کا جادو آج بھی چاہنے والوں کے ذہن و دل پہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جب کبھی ریڈیو پہ انکا کوئی گیت نشر ہوتا ہے اور سامعین کے کانوں تک پہنچتا ہے تو گویا رفیع صاحب کی آواز ایک طرح سے کانوں میں شہد گھولتی اور دل کو سکون پہنچاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے بلا کل ویسے ہی جس طرح آج سے سات دہاکے پہلے ہوا جادو جگاتی تھی یعنی آج بھی سامعین انکے سدا بہار گیت سن کر روح میں بلا کی تازگی و شادابی محسوس کرتے ہیں۔
محمد رفیع کی پیدائیش24دسمبر1924 کوہندوستان میں امرتسر کے نزدیکی گائوں کوٹلہ سلطان سنگھ میں ایک عام و سادھارن پریوار میں ہوئی ۔آپ کے والد حاجی علی محمد ایک نیک صفت انسان تھے۔محمد رفیع اپنے چھ بھائیوں میں سے دوسرے نمبر پہ تھے۔رفیع صاحب کو بچپن میں سبھی لوگ’’ پھیکو ‘‘کے نام سے پکارتے تھے ،آپ نے شروعاتی تعلیم اپنے گھر میںہی حاصل کی اوراسکے بعد گائوں کے اسکول میں صرف دوسری جماعت تک ہی پڑھائی حاصل کر سکے کیوںکہ بچپن سے ہی آپ کو گانے شوق تھا اس لیے پڑھائی میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔اسکا خلاصہ کرتے ہوئے رفیع ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ میری عمر کوئی دس بارہ سال رہی ہوگی کہ گائوں میں ایک سوالی فقیر مانگنے کے لیے آیا کرتاتھا ۔وہ بہت ہی خوبصورت آواز میں ایک گیتـ’جگ والا میلہ یارو تھوڑی دیر دا‘ گایا کرتا تھا ۔اسی گیت کو دہراتے ہوئے وہ اس فقیر کاپیچھا کرتے ہوئے بہت دور نکل جاتے تھے۔ایک مرتبہ اس فقیر نے رفیع صاحب سے کہاتھا تو ایک دن بہت بڑا گلوکار بنے گا اور زمانے بھر میں اپنا اوراپنے ماں باپ کا بڑا نام روشن کریگا۔
اسی بیچ رفیع کے والد 1935میں لاہور چلے گئے جہاں انھوں نے بھٹّی گیٹ کے قریب نور محلاں میں ایک مردوں کے لیے حجاّم کی دکان سیلون کھولا۔
رفیع کے بڑے بھائی محمد دین کے ایک دوست عبدالحمید نے لاہور میں رفیع کے ٹیلنٹ کو پہچانتے ہوئے اسکو گانے کے لیے مذید تلقین و ریاض کرتے رہنے پہ زور دیا ۔عبدالحمید نے ہی بعد میں رفیع کے پریوار کے بزرگوں کو رفیع کوممبئی بھیجنے کے لیے رضا مند کیا۔
رفیع نے پہلی بار 13 سال کی عمر میں کے ۔ایل ۔سہگل کی موجودگی میں لاہور میں تب گیت گایا جب اسپیکر کی لائیٹ چلی جانے کی وجہ سے، سہگل صاحب نے گانے سے منع کر دیا تو وہاں پہ موجود بھیڑ کو انتظامیہ کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تو اسٹیج پہ رفیع صاحب کو جب سامعین کے روبہ رو کیا گیا تو جیسے ہی آپ نے گانا شروع کیا تو پنڈال میں ایک دم خاموشی چھا گئی اور جمع لوگ پوری توجہ سے ننھے رفیع کو سننے لگے۔
اس کے بعد 1941 رفیع صاحب نے شیام سندر کے ساتھ گیت گایا۔اس گانے کے بو ل تھے’’ سوہنئے نی ہیریئے نی‘‘جو زینت بیگم کے ساتھ لاہور میں ایک پنجابی فلم ــ’’گل بلوچ ‘‘ کے لیے گایا گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی انکا بطور گلوکار ی کے سفر کاآغاز ہوگیا۔اس دوران محمد رفیع کو آل انڈیا ریڈیو لاہور نے اپنے لیے گانے کی دعوت دی گئی۔
1944 میں رفیع صاحب ممبئی چلے آئے انھوں نے عبدالحمید کے ساتھ ممبئی کے بھیڑ بھرے بھنڈی بازار میںایک کمرہ کرائے پہ لیکر رہنا شروع کیا، شاعر تنویر نقوی نے محمد رفیع کو فلم پروڈیوسر عبدالرشید ڈائیریکٹر محبوب خان اور اداکار نذیر وغیرہ سے ملوایا۔
محمد رفیع جو کہ اپنے مختلف گانوں کو طرح طرح کے انداز میں گانے کے لیے مشہور تھے انھوںنے شاستری ںنغموں سے لیکردیش بھگتی کے گیت ،اداس گیت سے لیکر رومانس بھرے گیت ،غزل،بھجن اور قواّلی سبھی قسم کے گیتوں کو اپنی آواز کے سانچے میں ڈھالتے ہوئے رہتی دنیا تک زندہ جاوید کر دیا۔انکو مختلف فلمی اداکار وں کی آواز کے ساتھ ملتی جلتی آواز میں گانے کی خدا داد صلاحیت حاصل تھی۔اپنی اسی خوبی کے چلتے 1950سے 1970کے درمیان رفیع ہندی فلم جگت میں سب سے زیادہ مانگ والے ڈیمانڈگ گلوکار تھے۔دلیپ کمار سے لیکر امیتابھ بچن تک ہر چھوٹے بڑے اداکا ر کے لیے رفیع نے اپنی پلے بیک آواز مہیا کروائی ۔ رفیع کے مرنے کے بعد ایک دفع’’ یاہو‘‘ اداکار شمی کپور نے کہا تھا کہ آج انکی آواز چلی گئی ہے اور وہ گونگے ہوگئے ہیں۔
محمد رفیع عام طور پر ہندی کے گیت گانے کے لیے مشہور تھے ۔جس پہ انکو کمال کی مہار ت حاصل تھی انھوںنے کئی دیگر زبانوں مین بھی گیت گائے ان میں آسامی۔کوکنی،بھوجپوری،اڑیا،پنجابی بنگالی، مراٹھی ،سندھی،کنّڑ ،گجراتی ، تیلگو،مگاہی ،میتھلی اور اردووغیرہ شامل ہیں۔
ہندوستانی زبانو کے علاوہ انھوںنے انگریزی ،فارسی،عربی،ڈچ وغیرہ میں بھی بڑی مہارت کے ساتھ پورا پوار انصاف کرتے ہوئے نغمے گائے جو آج بھی انکے مہان گلوکار ہونے کی شہادت دے رہے ہیں ۔
ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا ،کہ وہ دوسری زبانوں میں اتنی خوش اسلوبی سے کیسے گا لیتے ہیں۔تو انھوں نے کہا کہ وہ پہلے دوسری بھاشا کے گیتوں کو اردو میں لکھ لیتے ہیں،اس کے بعد پوری ریہرسل کرتے ہیں پھر اس گیت کو گاتے ہیں۔
اپنے 35سالہ کیرئیر میںرفیع صاحب نے قریب 26000 گیت گائے۔
اتنے بے شمار گیت گانے کے باوجود رفیع صاحب کس قدر سادہ طبیعت کے مالک تھے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ایک بار فلم نصیب کا مشہور گیت ’’چل چل میرے بھائی‘‘ امیتابھ بچن کے ساتھ ریکارڈ کرواکر آئے تو گھر آتے ہی اپنے پریوار کے ممبران سے بولے کے آپکو پتا ہے کہ آج میں کس مہان ایکٹر کے ساتھ گیت گاکر آرہا ہوں پھر خود ہی بولے امیتابھ بچن کے ساتھ۔ حالاںکہ اس وقت رفیع صاحب کا قد خود اتنا زیادہ بلند تھا کسی بھی بڑے اداکار کو ان کے ساتھ گانے میں فخر محسوس ہو تا ہوگا۔
اسی طرح کشور کمار کے ساتھ انکے رشتوں کو لیکر میڈیا والے آئے دن کچھ نہ کچھ ایسا لکھتے رہتے تھے جس سے قارئین کو ایسا لگتا تھا کہ ان میں کافی زیادہ ان بن اور کھٹاس ہے لیکن ایسا نہیں تھا کیوںاتفاق سے اگر کسی سٹوڈیو میں رفیع اور کشور دا کی ریکارڈنگ ایک ہی دن ہوتی تو دونوں میں جوبھی ریکارڈنگ پہلے کروا لیتا تو وہ بیٹھ کر دوسرے کا انتظار کرتا اور پھر دونوں جب ملتے تو گھنٹوں آپس میں باتیں کرتے ۔
ایک بار فلم ـ’’امر اکبر اینتھونی‘‘ کی مشہور قوالی جو کہ رشی کپور کے اوپر فلمائی گئی تھی اسکی ریکارڈنگ کے بعد رفیع نے منموہن ڈیسائی سے کہا کہ اس میں ایک سین جو امیتابھ پر فلمانا ہے اس کے لیے ’’ تو اکبر میرا کی جگہ تیرا نام نہیں ہے ‘آنا چاہیئے تھا۔ اسی بیچ رفیع صاحب لندن چلے گئے تو بعد میں جب منموہن دیسائی کو اس بات کا احساس ہوا تو انھوں نے رفیع صاحب کو فون کیا کہ آپ اس ایک لائین کو دوبارہ ریکارڈ کروا جا ئیں تو انھوں نے کہا کہ میں تو لندن میں ہوں آپ کشور کمار سے اس ایک لائین کی ریکارڈکروا لیں ۔لیکن منموہن دیسائی نے معزرت چاہی کہ کشور کمار میرے کہنے سے شاید نہ آیئں تو رفیع صاحب نے سیدھا کشور کمار کو فون کیا اور تمام ماجرہ سمجھایا تو کشور کمار فوراً اس ایک لائین کی ریکارڈنگ کروانے کے لیے سٹوڈیو آئے تو وہ ایک لائین فلم میں قوالی کے دوران امیتابھ بچن پہ فلمائی گئی ہے۔
رفیع صاحب بہت کم بولتے تھے اور طبیعت میں نرمی گویا کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔اگر کوئی آپ کے گانے کی تعریف کرتا شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر کہہ دیتے کہ یہ اوپر والے کی بخشش ہے اور میری ماں کی اور فقیر بابا کی دعائوں کا ثمر ہے ۔آپ نے اپنے بچوں کو مارنا تو دور کبھی ڈانٹا بھی نہیں تھا ہاں اگر بچوں میں کسی غلطی یا کوتاہی کو دیکھتے تو اپنی بیوی کے ذریعے سے اسے دور کروا دیتے ۔آپ فلمی پارٹیوں میں بہت کم جاتے تھے ۔ شادی بیاہ یا کسی دوسری تقریب میں اگر مجبوری میں جانا بھی پڑتا توشمولیت فرما کر یعنی اپنی شکل دکھا کر فوراًواپس آجاتے۔آپ کو کھانے میں پالک گوشت، دال گوشت اور آلو گوشت بے پسند تھا کھانے میں میٹھا بہت پسند کرتے شوگر کی وجہ سے اگر گھر والے میٹھا سے پرہیز کرنے کو کہتے تو پھر بھی آپ یہ کہہ گھروالوں سے میٹھا لے لیتے کہ چلو سنت تو ادا کر لینے دیں۔
ایک بار کسی اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی ،کہ کسی شہر میںکسی مجرم کو پھانسی دی جانا تھی تو اس سے اسکی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے بتانے سے انکار کردیا جب بار بار اصرار کیا گیا تو اس مجرم نے کہا کہ وہ رفیع صاحب کا گیت
’’او دنیا کے رکھوالے ،،سن درد بھرے میرے نالے ۔
جیون اپنا واپس لے لے ،جیون دینے والے۔
پھر کیا تھا جیل میں ٹیپ ریکارڈ کا انتظام کیا گیا اور اس کے بعد سزا کے حکم کی تعمیل کی گئی۔
رفیع صاحب کے سپر ہٹ نغموں کچھ اس طرح سے ہیں۔جیسے کہ ’’یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں‘‘ ’’کیا ہوا تیرا وعدہـ،‘‘ ’’او دنیا کے رکھوالیــ‘‘ ’’ دل دیا درد لیا‘‘ ’’لکھے جو خط تجھیــ‘‘ ’’اے محبت زندہ باد‘‘ ’’چاہوں میں تجھے ‘‘ ’’آدمی مسافر ہے‘‘ ’’میرے دشمن تو میری دوستی کوترسے‘‘ ’’یہ ذلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا‘‘ ’’جان جانی جنا دھن ‘‘ پردہ ہے پردہـ‘‘ ’’ نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر پیار کی دنیا میں‘‘ ’’میں جٹ یملا پگا دیوانہـ‘‘ ’’پتھر کے صنم ‘‘ بابل کی دعائیں لیتی جا‘‘ ’’چودھویں کا چاند ہو‘‘ ’’ وقت سے دن اور رات‘‘ ’’جگ والا میلہ یارو تھوڑی دیر دا‘‘ ’’چٹّے دند ہنسنوں نہیوں رہندے‘‘ ’’دانا پانی کھچ لیاوئندہ ‘‘ اور دھارمک شبد ’’ متر پیارے نو حال مریداں دا کہنا‘‘ ’’نانک نام جہاز ہے‘‘ ’’دکھ بھنجن تیرا نام ‘‘ ’’میں تیرے در پہ آیا ہوں‘‘ ’’یا خدا سوئی قسمت جگا دے ہر مسلماں کو حاجی بنادے‘‘ وغیرہ بے شمار ہٹ گیت ہیں۔
رفیع صاحب کو چھ فلم فیئر اور ایک نیشنل ایوارڈ ملا۔1967 میں ٓپ کو حکومتِ ہند کی جانب سے پدم شری سے نوازہ گیا ۔
آخر کا ر آواز کی دنیا کا یہ عظیم فنکارو ستارہ حاجی محمد رفیع 31 جولائی 1980کو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ممبئی ایک ہسپتا ل میں شب قریب دس بج کر بیس پر اس جہانِ فانی کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے الودع کہہ گیااور ساتھ ہی موسیقی کی دنیا میں ایک ایسا خلاء پیدا کر گیا جس کی تلافی ہونا ممکن نہیں ۔بے شک موسیقی سے محبت کرنے والوں کو انکی کمی ہمیشہ کھلتی رہے گی۔شاید اس بات کا احساس رفیع صاحب کو بھی تھا تبھی تو انھوں نے ایک گیت میں کہا تھا کہ
تم مجھے یوں بھلا نہ پائو گے
جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے
سنگ سنگ تم بھی گن گنائو گے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close