ہندوستان

اکیسویں صدی کے مطابق ہو تعلیمی نظام: وینکیا نائیڈو

نئی دہلی:نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے اکیسویں صدی کی ضرورتوں کے مطابق اعلیٰ تعلیمی نظام کے بارے میں پھر سے غور وفکر کرنے اور اس کی تعمیر نو کی ضرورت پر زور دیا۔ آج کریا یونیورسٹی کا آغاز کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ممتاز اداروں کو کسی شخص کو معیاری تعلیم فراہم کرانے کے علاوہ اس کی ہر طرح کی نشو ونما کو یقینی بنانا چاہئے۔نائب صدر نے کہا کہ کریا یونیورسٹی جیسے ادارے، جن کی عالمی پلیٹ فارم پر پہچان بنانے اور شاندار کامیابی حاصل کرنے پر نظر ہوتی ہے، کو ہماری ہر طرح کی ترقی کو تیز رفتار کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔ انھوں نے ایسا نظام تعلیم فراہم کرانے میں سرکاری اور نجی شعبے کے مؤثر تعاون کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ سرکار کو اس سلسلے میں ایک مضبوط سہولت فراہم کرانے والے کا رول ادا کرنا چاہئے اور دوسروں کو سرکار کی کوششوں میں تعاون کرنا چاہئے۔مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے محققوں کی کمی اور پی ایچ ڈی کرنے والے طلبا اور تحقیقی عہدوں پر فائز ہونے والی کی تعداد میں کمی قابل تشویش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان جیسی گھنی آبادی والا ملک، جس کے سامنے غریبی سے لے کر ماحولیاتی گراوٹ تک کے متعدد چیلنج ہیں، اس کا کام بغیر اختراع کے نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو اختراع کے مرکز بن جانا چاہئے۔ نائب صدر نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو ناراضگی، نا امیدی یا بھید بھاؤ کو فروغ دینے والا میدان نہیں بننا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو حصول علم کا ایک مقام، مثبت خیالات کا ایک گہوارہ اور عقل وعلم کی ایک پناہ گاہ ہونا چاہئے۔اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے معیار کے پیش نظر ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی نظام بہت پیچھے ہے۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ 2018 میں بھی ہندوستان کی کوئی یونیورسٹی دنیا کی یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں ٹاپ 100 بہترین یونیورسٹیوں میں بھی کوئی مقام حاصل نہیں کرپائی ہے۔ اس فہرست میں امریکی اور یوروپی یونیورسٹیوں کا ہی غلبہ ہے۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستانی یونیورسٹیوں کو بہت سے مسائل درپیش ہیں، جن میں فنڈ کی کمی سے لے کر ناکافی تعداد میں اساتذہ اور داخلہ لینے والوں کی تعداد میں گراوٹ تک شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ مفید کیریئر کے مواقع کے پیدا ہونے، پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لیے سہولیات کی کمی اور پروفیسروں اور اساتذہ کی موجودہ نسل کے ریٹائر ہونے سے ہمارے اعلیٰ تعلیمی مراکز میں اسٹاف کی زبردست کمی پیدا ہوگئی ہے۔
مسٹر نائیڈو نے کہا کہ سال 2022 تک ہندوستان میں ہنرمند افرادی قوت کی مانگ 700 ملین ہونے کا قیاس ہے اور ہندوستان کو اپنے نوجوانوں اور طلبا کو ایسی ہنرمندی فراہم کرانی چاہئے جس سے کہ روزگار مل سکے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ہمیں نہ صرف اپنی آبادی کا فائدہ حاصل کرنے میں بلکہ ہندوستان کو دنیا کی اسکل کیپٹل بننے میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close