بہارپٹنہ

اگر اردو نہیں ہوتی تو ہم آزاد ہندستان میں سانس بھی نہیں لے رہے ہوتے: ارتضیٰ کریم

مدارس کی تاریخ بے حد روشن رہی ہے، حال اگرچہ تشویش ناک ہے مگر مستقبل سے مایوسی مناسب نہیں: احمد اشفاق کریم

پٹنہ:مدارس اور اردو کی تابناک تاریخ اور ملک و قوم کے سلسلے سے ان کی بے پناہ خدمات شک و شبہات سے بالاتر ہے۔ اگر کوئی فرد یا طبقہ ہندستان کی تعمیر و تشکیل میں ان اداروں کی خدمات پر سوالیہ نشان لگاتا ہے تو وہ شخص لازمی طور پر تعصبات کی عینک سے دیکھنے کا عادی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندستان میں سیکولرزم اور روادارانہ ماحول یا کثیر لسانی صورت حال کے لیے جس زبان اور جس ادارے کی سب سے پہلے خدمات رہی ہیں، ان میں مدرسہ نظامِ تعلیم اور اردو زبان و ادب کو سرفہرست رکھا جاسکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے اندرونی ماحول کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہیں، ان سے مقابلہ کرنے کے لیے تحقیقی و تنقیدی نقطۂ نظر سے حقائق کو پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
قومی اردو کونسل براے فروغِ اردو زبان کے تعاون سے سیوک فائونڈیشن اور بزمِ صدف انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام منعقدہ بین الاقوامی سے می نار میں مندوبین نے مذکورہ بالا خیالات کا اظہار کیا۔ سے می نار کی صدارت کرتے ہوئے قومی اردو کونسل، نئی دہلی کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ اردو کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہوتی تو ہم آزاد ہندستان میں سانس بھی نہیں لے رہے ہوتے۔ انھوںنے یاد دلایا کہ جنگِ آزادی کے مجاہدین کا سب سے مقبول نعرہ کس زبان سے تعلق رکھتا ہے: انقلاب زندہ باد۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ زبان ہو یا ادارے، ان کو اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انھوںنے اردو کے ساتھ مدارس کے بارے میں یہ بات گوش گزار کرنی چاہی کہ جس طرح ہمارا ماضی شاندار تھا، اس طرح حال روشن نہیں ہے۔ مگر وقت کی تبدیلیوں کا بالاستعاب جائزہ لیے بغیر ہم مستقبل کے خواب نہیں بن سکتے۔ انھوںنے یاد دلایا کہ مدارس کے فارغین میں کیفی اعظمی اور مجروح سلطان پوری جیسے بڑے لکھنے والے اور سنیمامیں نغمہ نگاری کرنے والے لوگ شامل تھے۔ انھوںنے کہا کہ ہم تاریخ کے اس بہترین مقام پر کھڑے ہیں جہاں مستقبل کے لیے نئے خاکے تیار کرسکتے ہیں۔
بین الاقوامی سے می نار کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بزمِ صدف کے ڈائرکٹر جناب صفدر امام قادری ، صدرشعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ نے بتایا کہ اردو اور مدارس کو ایک طویل مدت سے چند مصلحتوں یا تعصبات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اکثر ان کے جواب کے لیے بھی لوگ کوشاں نہیں ہوتے یا صفائی یا وضاحت کا انداز اختیار کرلیتے ہیں۔ جناب قادری کا کہنا تھا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سوالوں کا علمی رخ سے جواب دیا جائے اور یہ بات عام ہو کہ مدارس میں اسی انداز کی تعلیم دی جاتی ہے جو دوسرے اداروں میں مل رہی ہے۔ انھوںنے بتایا کہ اس سے می نار میں یہ موقع فراہم کیا جارہا ہے کہ اردو اور مدارس کے سوال پر کھل کر بحث ہو اور وضاحت کے ساتھ ہر پہلو پر روشنی ڈالی جائے۔
سے می نار کا کلیدی خطبہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے استاد پروفیسر محمد سجاد نے پیش کیا۔ انھوںنے آزادی کے بعد ہندستان کی تعمیر و تشکیل میں اردو زبان اور اردو مدارس کے کردار کے بارے میں اپنے مشاہدات پیش کرتے ہوئے یہ بات واضح کی کہ تیزی سے بدلتے ہوئے وقت کے تناظر میں ہم اسی رفتار سے خود کو نہیں بدل رہے ہیں۔ اردو ادب نے بھی نئی دنیا کے بہت سارے مسئلوں کو انگیز نہیں کیا ہے۔ انھوںنے یونی ورسٹی اور کالجوں سے اردو بزم کی سرگرمیوں کے سلسلے سے مایوسی کا اظہار کیا اور یہ بتایا کہ طلبا کی ذہن سازی اس سے متاثر ہورہی ہے۔ انھوںنے تاریخ سے بہت سارے امثال پیش کیے اور اس بات پر زور دیتے رہے کہ ہمیں ملک و قوم کی تشکیلِ نو پر نئے سرے سے غور کرنا ہے۔ ماضی جتنا شاندار رہا ہے ، اسی طرح مستقبل بھی روشن ہو۔ پروفیسر محمد سجاد نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ اردو بولنے والوں کے بیچ سے اچھے مترجم بھی نہیں پیدا ہورہے ہیں تو بڑے مصنفین اورمفکرین کہاں سے نکلیںگے؟
مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے گفتگو کرتے ہوئے الکریم یونی ورسٹی کے چیرمین ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے ہندستان میں تعلیم کے میدان میں کام کرنے والے افراد سے یہ گزارش کی کہ لوگوں کے اختلافات اور اعتراضات سے حوصلہ پست نہ کریں بلکہ یاد رکھیں کہ اپنی قوم میں سب کچھ گنوا دینے کے بعد اگر آپ کچھ اچھا کرجاتے ہیں، جس میں دیرپائیگی ہو تو دنیا صرف اسے ہی یاد رکھتی ہے۔ انھوںنے طنز کرتے ہوئے یہ کہا کہ آج ہمارے کاموں کاجو تمسخر اڑاتے ہیں، ان شاء اللہ کل وہی ہماری قبر پہ فاتحہ پڑھنے کے لیے آئیںگے کیوںکہ اگر ہم نے کچھ اچھا کیا ہے تو وہ آسانی سے مٹایا نہیں جاسکتا ہے۔ سے می نار میں بزمِ صدف کی چھے تازہ مطبوعات کی رسمِ اجرا کے ساتھ پروفیسر کرمیندو ششرکی مشہور ہندی کتاب ’’بھارتیہ مسلمان: اتیہاس کا سندربھ‘‘ کا بھی اجرا ہوا۔ کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مشہور ہندی مصنف کشن کالجئی نے بتایا کہ کرمیندو ششر نے کس طرح اس کتاب میں حقائق پر مدار رکھا ہے۔ ایک ایک لفظ سے علم ٹپکتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے خونِ جگر صرف کیا ہے۔ جناب صفدر امام قادری نے واضح کیا کہ کرمیندو ششر کی یہ کتاب عام کتابوں میں نہیں ہے، ایسی کتابیں روز روز نہیں لکھی جاتیں۔ انھوںنے کہا کہ آنے والا وقت کرمیندو ششر کو اس عظیم کارنامے کی بدولت یاد رکھے گا۔


سے می نار کا افتتاح آندھراپردیش اسٹیٹ اردو اکیڈمی، وجے واڑا کے چیرمین ڈاکٹر ایس۔ محمد نعمان نے کیا۔ اپنے خطاب میں انھوںنے بتایا کہ ان کے صوبے میں اقلیتی طبقے کے لیے حکومت نے بارہ سو کروڑ کا بجٹ مخصوص کیا ہے اور مدارس اور اردو زبان کے سلسلے سے آندھراپردیش میں کافی کچھ کام ہورہا ہے۔ انھوںنے بہار کی طرف آکر یہاں کی چیزوں کو دیکھا اور یہاں سے واپسی پر وہ کوشش کریں گے کہ اپنے صوبے میں بھی سرگرمی کے ساتھ اردو اور مدارس کے مسائل کو حل کریں۔ بزمِ صدف کے چیرمین شہاب الدین احمد نے اپنے مختصر خطاب میں اس موضوع پر بار بار غور کرنے کے لیے متوجہ کیا ۔ سیوک فائونڈیشن کے چیرمین جناب تنویر عالم نے بہت صاف گوئی سے یہ کہا کہ صرف تاریخ کے بہترین اوراق پلٹتے رہنے سے حال اچھا نہیں ہوجات بلکہ حال کو روشن کرنے کے لیے اس کا بہترین تجزیہ بھی کرنا ہوگا۔ آج جو خطرات نظر آتے ہیں، ان کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہمارا بہت نقصان ہوگا۔ سے می نار کی افتتاحی تقریب میں شمبھو شری واستوا، کرمیندو ششر، انجینئر محمد اسلم علیگ، مولانا حسن رضا خاں اور روزنامہ تاثیر کے مدیر ڈاکٹر محمد گوہر نے بھی خطاب کیا۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر واحد نظیر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی۔
افتتاحی جلسے کے بعد سے می نار کا پہلا موضوعات جلسہ شروع ہوا جس کی مجلسِ صدارت میں مولانا حسن رضا خاں، امتیاز احمد کریمی، احمد جاوید، شوکت حیات اور فاروق احمد صاحبان شامل تھے۔ ڈاکٹر منی بھوشن کمار(کولکاتہ) ، جناب عابد انور(دہلی) اور محترمہ گلشن پروین(مظفر پور) نے اپنے مقالے پیش کیے۔ اس جلسے کی نظامت مولانا رہبر مصباحی نے کی۔دوسرے موضوعاتی جلسے کی مجلسِ صدارت میں مولانا مشہود احمد ندوی قادری، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر محمد اعجاز احمد، جناب محمود شاہد، محمد غفران اور ڈاکٹر محمد زاہد الحق شریک تھے۔ اس جلسے میں محترمہ انبساط امام، محمد حبیب الرحمان، مولانا ولی اللہ قادری، جناب نوراللہ مدنی، ڈاکٹر سرور عالم ندوی، ڈاکٹر جمشید قمر، ڈاکٹر قیصر زماں اور محمد مرشد نے اپنے مقالے پیش کیے اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر تسلیم عارف نے ادا کیے۔ سے می نار کے بعد جناب خورشید اکبر کی صدارت میں ایک بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد ہوا جس میں منصور اعظمی(قطر)، محمود شاہد(کڈپا، آندھراپردیش) کے علاوہ عظیم آباد کے نمائندہ شعرا موجود تھے ، جن میں جناب انور شمیم، جناب طارق متین، جناب افتخار عاکف، جناب عطا عابدی، جناب کاظم رضا، جناب ناشاد اورنگ آبادی، جناب ظفر صدیقی وغیرہ کے اشعار پسند کیے گئے ۔ مشاعرے کی نظامت حیدر آباد سے تشریف فرما ادیب ڈاکٹر محمد زاہد الحق نے کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close