کھیل

ایسے کیسے ورلڈکپ کی تیاری ہو گی؟

جنوری 2018 میں پاکستان نے نیوزی لینڈ سے پانچ ون ڈے میچز کی ایک سیریز کھیلی۔ اس سیریز میں سرفراز احمد پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے مگر پاکستان وہ سیریز پانچ صفر سے ہار گیا۔

اس کے بعد پاکستان نے جولائی 2018 تک کوئی ون ڈے سیریز نہیں کھیلی۔ اس بیچ پی ایس ایل ہوئی۔ ویسٹ انڈیز سے ایک ہنگامی ٹی ٹونٹی سیریز کھیلی۔ آئرلینڈ سے ایک اور انگلینڈ سے دو ٹیسٹ میچز کھیلے۔ سکاٹ لینڈ سے ٹی ٹونٹی سیریز اور پھر پچھلے ہفتے کا سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ ہوا۔

جب دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے ٹیم کا اعلان ہوا تھا تو ٹیم مینیجمنٹ کا کہنا تھا کہ سکواڈ ورلڈکپ کی تیاریوں کو ذہن میں رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔ ستم ظریفی کہ پانچ میچز میں ہی واضح ہو گیا کہ ورلڈکپ کی تیاریاں کس حد تک پختہ ہیں۔

دورۂ برطانیہ کے لیے جب سکواڈ کا اعلان ہوا تو ایک بار پھر یہی نعرۂ مستانہ سننے کو ملا کہ ورلڈکپ کی تیاریاں مدنظر تھیں سو سکواڈ ایسا تشکیل دیا گیا کہ ان لڑکوں کو انگلش کنڈیشنز کا تجربہ ہو سکے۔

تجربے کی حد تک تو بات درست تھی مگر یہ کوئی بزرجمہر ہی بتا سکتا ہے کہ تین ٹیسٹ اور دو ٹی ٹوئنٹی کھیل کر ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری کیسے ہو سکتی ہے؟

پچھلے ہفتے پاکستان سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ جیت کر محیرالعقول ریکارڈ کا مالک بن گیا۔ سرفراز متواتر نو سیریز جیتنے والے پہلے کپتان بن گئے۔ ٹی ٹوئنٹی کی نمبرون رینکنگ مزید مستحکم ہو گئی۔ بہت خوب، مگر اگلے سال کے ون ڈے ورلڈکپ کی تیاری میں یہ سب کہاں کام آئے گا؟

جنوری کے بعد اب جولائی میں کہیں خدا خدا کر کے ایک ون ڈے سیریز پاکستان کے ہاتھ آئی مگر خوبیٔ قسمت کے کیا کہنے، پاکستان ورلڈکپ کی تیاری کے لیے اس ٹیم کے مقابل کھڑا ہے جو اپنے پستہ معیارات کے سبب ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی بھی نہ کر سکی۔

تس پہ بھی موقوف رہتا تو کچھ برا نہ تھا مگر زمبابوے کرکٹ کے مضمحل اعصاب بھی آڑے آنا تھے کہ پانچ سٹار پلئیرز بھی دستیاب نہ ہو پائے اور صرف گھرداری بچانے کے لیے انڈر 19 سے مانگ تانگ کر 11 کھلاڑی پورے کیے گئے اور پاکستان کو ورلڈکپ کی تیاری کا ’سنہری‘ موقع بہم پہنچا دیا گیا۔

حسب توقع پاکستان اس ٹیم کے خلاف بھی پوری قوت سے اترا جسے آدھی سے نمٹنا بھی دقیق ہوتا۔ اور عین توقع کے مطابق پہلے ہی میچ میں انگشت بدنداں مارجن سے فتح یاب ہو گیا۔ کواکب یہی بتاتے ہیں کہ پاکستان باقی چاروں میچ بھی ایسی ہی دھوم دھام سے جیت جائے گا۔

سوال صرف اتنا ہے کہ اگر سال کی اب تک منعقدہ ون ڈے سیریز صرف دو ہوں، ایک میں پاکستان وائٹ واش ہوا ہو، دوسری میں پاکستان نے وائٹ واش کیا ہو، ایک میں مقابلہ ورلڈ کلاس ون ڈے ٹیم سے ہو، دوسری میں مقابلہ ورلڈکپ سے محروم ٹیم سے ہو تو ایسے میں ریاضیاتی فارمولوں کے تحت ورلڈکپ کی تیاری کا تازہ ترین سٹیٹس کیا ہو گا؟

پاکستان کا یہ سکواڈ ورلڈ کلاس پلئیرز پہ مشتمل ہے۔ اس کی سب سے خاص بات نوجوان لڑکے اور ان کا فائٹنگ سپرٹ ہے جو دنیا بھر کو حیران کر کے چیمپئنز ٹرافی لے اڑتا ہے۔ طے صرف یہ کرنا ہے کہ اسے کیسی ٹیم کے خلاف کھلانا ہے؟

کیا اسے ایسی اپوزیشن کے خلاف کھیلنا ہے جو سٹریٹیجی کے طوطے اڑا کر گیم بنا دے یا پھر ایسی اپوزیشن جو 35 اوورز میں ہی اونے پونے پویلین لوٹ جائے؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close