بہارپٹنہ

ایس سی ، ایس ٹی کو مضبوط بنانے کا عہد کریں

ایس سی ڈیولپمنٹ اجلاس ’سنکلپ سے سامرتھ‘ پروگرام سے وزیراعلیٰ کا خطاب

پٹنہ:وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج ادھیویشن بھون میں ایس سی :ڈیولپمنٹ اجلاس ’سنکلپ سے سامرتھ‘ پرورگرام کا شمع روشن کر کے افتتاح کیا ۔ اس موقع پر منعقد پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ہی کے دن سال 1956 میں بابا صاحب ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر نے بودھ مذہب اپنا یا تھا ۔ آج ایس سی ، ایس ٹی کے فروغ کے لیے ایسا عہد کریں کہ انہیں مضبوط بنا یاجا سکے ۔ پروگرام منعقد کر نے والوں کو اس بات کے لیے مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے کل سے اس موضع پر کافی بات چیت کی ہے اور آج بہت سے لوگوں نے تفصیل کے ساتھ باتوں کو رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرشنن صاحب نے بھی اپنی بات رکھی ہے ۔ یہ ریٹائریڈ نوکر شاہ ہیں ۔ لیکن اس عمر میں بھی کافی سرگرم ہیں اور محروم طبقہ کو مین اسٹریم میں جوڑنے کے لیے کو شاں رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے انعقاد سے لوگوں میں انٹریکشن ہو تا ہے ۔ اس بحث کے بعد آپ لوگو ںپٹنہ میمورنڈم تیار کیا ہے اور مجھے آج سونپا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شروع سے ہی اعتماد انصاف کے ساتھ ترقی پرہے ۔ حکومت میں آنے کے بعد سے ہی انصاف کیساتھ ترقی کے کام میں ہم لگے ہیں ۔ سماج کے ہر طبقہ، ہر علاقے کے لیے کام کررہے ہیں ۔حاشیہ پر رہ رہے لوگوں کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے کئی منصوبے چلائے جارہے ہیں ۔ تمام علاقہ میں ترقی کا مطلب ہے کہ ہر شہر ، گائوں کے ساتھ ساتھ ٹولوں کی ترقی ہو۔ پختہ سڑکوں سے نہ صرف گائوں اور سڑکوں کو ہی نہیں جوڑا جا رہا ہے ، بلکہ ٹولوں کو بھی جوڑا جارہا ہے، تاکہ بہتر آمدورفت کا تمام لوگ فائدہ اٹھاسکیں ۔ ہر گھر تک پکی گلی نالی کی تعمیر ، ہر طبقہ اور ہر علاقہ کے لیے ہے ۔ ترقی کا یہی ہمارا نظر یہ ہے ۔ اسی نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد جب یہ سروے کرایا تو پتہ چلا کہ 12.5 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں جو زیادہ تر مہادلت اور اقلیتی طبقہ کے ہیں ،ان سب کے علاوہ ٹولا سیوک اور تعلیمی مرکز کے تقریبا 30ہزار لوگوں کی بحالی کی گئی اور انہیں اسکول تک پہنچا یا گیا ۔ مہا دلت طبقہ کو نشانزد کر کے حکومت کے منصوبہ کا فائدہ پہنچانے کے لیے 10ہزار وکاس متر بحال کیے گئے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ درج فہرست ذات و قبائل طلبا ہاسٹل کی بہتر طریقہ سے تعمیر کرائی گئی اور قدیم ہاسٹلوں کو بھی نئے سرے سے بنایا جا رہا ہے ۔تمام اسکو ل اور ہاسٹلوں میںاجابت خانہ کے بہتر انتظام کیا جار ہا ہے ۔ طلبا ،طالبات کو 15کلو غلہ میں سے 9کلو چاول اور 6کلو گیہوں ہاسٹلوں میں ہی پہنچا دیا جائے گا اور فی ماہ 1000 روپے بھی ملیں گے ۔ وزیر اعلیٰ ایس سی ، ایس ٹی کاروباری منصوبہ کے تحت کارو باریوں کو فروغ دینے کے لیے 10لاکھ روپے کی ، جس میں 5لاکھ روپے سبسڈی کی شکل میں اور باقی پانچ لاکھ روپے بغیر سود قرض کی شکل میں مہیا کرایاجائے گا ۔ کاروبار کر نے والوں کی ٹریننگ کے لیے بھی مدد لی جارہی ہے ۔ بی پی ایس سی کے ابتدائی امتحان میں پاس کر نے والے ایس سی ، ایس ٹی اور انتہائی پسماندہ طبقہ کے امید واروں کو 50ہزار روپے اوریوپی ایس سی کے ابتدائی امتحان میں پاس کر نے والے ایس سی ، ایس ٹی اور انتہائی پسماندہ طبقہ کے امید واروں کو100000لاکھ روپے فائنل امتحان کی تیاری کے لیے دیئے جائیں گے ۔ پہلے سے بھی پبلک سروس کی تیاری کے لیے دلت ، پسماندہ ، انتہائی پسماند کو بھی ٹریننگ کا انتظام کرایا جاتا رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم رہائش منصوبہ گرامین کے مستفیضوں جن کے پاس اپنی زمین نہیں ہے انہیں ریاستی حکومت باس کی زمین خریدنے کے لیے 60ہزار روپے کی مدد کر رہی ہے ۔ پرانے اندرا رہائش جو خستہ حالت میں ہیں ، انہیں وزیر اعلیٰ رہائش منصوبہ کے تحت نئے رہائش بنا نے کے لیے ایک لاکھ 20ہزار روپے کی مدد دی جارہی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گرام پریوہن منصوبہ کے تحت 4سے 10لوگوں کی صلاحیت والی سواری کے لیے ہر گرام پنچایت سے 5لوگوں کو جس میں ایس سی ، ایس ٹی کے 3لوگ اور انتہائی پسماندہ طبقہ کے 2 لوگوں کو گاڑی خرید نے کے لیے ریاستی حکومت ایک لاکھ روپے تک کی مدد رقم مہیا کرائے گی ۔ اس سے لوگوں میں روزگار پیدا ہو گا اور آمدورفت میں بھی سہولت ہو گی ۔ انہوں نے کہاکہ خواتین اختیار کاری کے لیے کئی کارگر قدم اٹھائے گئے ہیں ۔ خواتین کو پہلے پولیس میں اور بعد میں تمام سرکاری ملازمت میں 35فیصد ریرزر ویشن دیا گیا ہے ۔اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری میں 50فیصد ریزرویشن دیاگیاہے ۔

پنچایت راج اداروں اور میونسپل کارپوریشن کے انتخاب میں خواتین کو 50فیصد ریزر ویشن دیا گیاہے ۔جب تک نصف آبادی مستحکم نہیں ہو کی تب تک سماج مضبوط نہیں ہوگا ۔ جب تک خواتین و مرد میں مساوات نہیں ہو گا تب تک سماج آگے نہیں بڑھے گا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میڈل کلاس کے بعد بچیاں آگے پڑھیں اس کے لیے نویں کلاس کی بچیوں کے لیے سائیکل منصوبہ کی شروعات کی گئی ۔ لڑکیاں پوشاک پہن کر سائیکل چلاتے ہوئے گروپ میں جب اسکول جانے لگیں تو لوگوں کی ذہنیت بدلی اور سماجی ماحول میں بڑابدلائو آیا ۔ لڑکیوں میں خود اعتمادی بڑھی ، سائیکل منصوبہ کی شروعات کے وقت نویں کلاس جانے والی لڑکیوں کی تعداد جہاں 1لاکھ 70ہزار تھی ، آج ان کی تعداد 9لاکھ پہنچ چکی ہے ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ چاہے جتنا بھی ترقی کر لیں لیکن ترقی کا حقیقی فائدہ اسی وقت ملے گاجب سماجی برائیاں دور ہوںگی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 9جولائی 2015 کو مہیلا ویکاس نگم کے خواتین اختیارکاری کے پروگرام میں کچھ عورتوں کے مطالبہ پر ہم نے مکمل شراب بندی کو لاگو کیا ۔لوگ اپنی گاڑھی کمائی کا بڑا حصہ شراب پینے میں خرچ کر دیتے تھے اور پی کر جھگڑا کر تے تھے خانگی ماحول بہت ہی خراب رہتا تھا ۔اس کامنفی اثر بچوں اور عورتوں پر پڑتا تھا ۔شراب بندی کے بعد اس میں بڑا بد لائو آیا ہے اور اب ہورہی بچت سے ان کی زندگی میں خوشحالی آئی ہے ۔ شراب بندی سے غریب ، غربا کو بہت فائدہ ہوا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جیویکا آٹھ لاکھ خود مدد گروپ کی تشکیل کی گئی ہے جس سے 83لاکھ کنبے منسلک ہیں اور دس لاکھ خود مدد گروپ بنا نے کا ن شانہ ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج مجھے ’’پٹنہ میمورنڈم‘‘سونپا گیا ہے اور ساتھ ہی جناب پی ایس کرشنن کے ذریعہ روڈ میپ بھی سونپا گیا ہے ۔ اس سے چیزوں کو جاننے اور سمجھنے کاموقع ملے گا ۔ہم لوگ کام کررہے ہیں اور آگے بھی کر تے رہیںگے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج تکنیک کا غلط استعمال بھی ہو رہا ہے اور سماج میں شدت پسندی اور نفرت کا ماحول کچھ لوگ پیدا کررہے ہیں ۔ اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔جب تک نفرت کا ماحول رہے گا ترقی کا مناسب فائدہ نہیں مل سکے گا ۔ سماج میں پیا ر، محبت اور بھائی چارہ کا ماحول قائم کر نے کے لیے ہم سب کو کام کر نا ہو گا ۔ لوگوں کو اپنے حقوق کے متعلق بیدار رہنا ہے اور اسے حاصل کر نا ہے ۔ہم لوگ خدمت کے تئیں سپرد ہیں اور آئندہ ان کے لیے کام کر تے رہیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بابا صاحب نے بودھ مذہب کو اپنا یا تھا۔بودھ کا پیغام امن اور عدم تشدد کا تھا ۔ وہ نفرت کے حامی نہیں تھے ۔ ہم لوگ با با صاحب کے پیغام کا احترام کر نے کے لیے پابند عہد ہیں ۔ اپنے اندر خود حکمرانی کا جزبہ پیدا کریں ۔ محبت سے رہیں اور ماحول کے تحفظ کے لیے لگے رہیں ۔سماج کے سب سے متاثر شخص کے درد کو دور کر نے کا ہم لوگ عہد لیں ، جس سے انہیں قوت حاصل ہو ۔
وزیر اعلیٰ کا خیر مقدم ڈکی کے کارگزار قومی صدر پدم شری روی کمار نا را نے گلدستہ ،شال اور مومنٹو پیش کر کے کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے پروگرام کی شروعات با با صاحب امبیڈکر اور گاندھی جی کی تصویر پر اپنا خراج عقیدت پیش کیا ۔ وزیر اعلیٰ کو پٹنہ میمورنڈم اور روڈ میپ جناب پی ایس کرشنن نے سونپا ۔
پروگرام کو سابق تعلیم کے وزیر و ممبر قانون ساز کونسل اشوک چودھری ، کارگزار قومی صدر ڈکی پدم شری روی کمار نا را،سابق سیکریٹری بھارت سرکار جناب پی ایس کرشنن ، رکن ایجوکیشن پالیسی بھارت سرکار پروفیسر آر ایس کر لی ، وائس چانسلر پاٹلی پترا یونیورسٹی پروفیسر جی سی آر جیسوال ، جے این یو کے پروفیسر راجیش پاسوان ، سینٹر فار سوشل اکیوٹی اینڈ انکلوسن دہلی کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر محترمہ اینی امیلا ، پرنسپل اے این کالج پروفیسر ایس پی شاہی نے بھی خطاب کیا ۔
اس موقع پر ممبر اسمبلی جناب راجیودانگی ، ممبر قانون ساز کونسل جناب دلپ چودھری ، شہری کاونسل کے سابق جنرل سیکریٹری جناب اروند کمار عرف چھوٹو سنگھ سمیت دیگر عوامی نمائندے اور ڈکی کے دیگر ارکان و شخصیات موجودتھیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close