ہندوستان

ایس سی / ایس ٹی انسداد مظالم ترمیمی بل لوک سبھا میں منظور

نئی دہلی:درج فہرست ذات و قبائل انسداد مظالم قانون کو پرانی شکل میں لانے والا بل لوک سبھا میں آج صوتی ووٹ سے منظور ہو گیا۔سماجی انصاف اور ایمپاورمنٹ کے وزیر تھاورچند گہلوت نے ایوان میں درج فہرست ذات و قبائل ( انسداد مظالم) ترمیمی بل 2018 پر بحث کا جواب دیتے کہا کہ اس بل کے قانون بننے کے بعد دلتوں پر مظالم کے معاملے درج کرنے سے پہلے پولیس کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی اور مجرم کو پیشگی ضمانت بھی نہیں ملے گی۔ ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے، پولیس کی تحقیقات نہیں ہوگی اور پولیس کو اطلاع ملنے پر فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنی ہوگی۔مسٹر گہلوت نے کہا کہ مودی حکومت نے عہدہ سنبھالتے کے وقت پہلے خطاب میں عہدکیا تھا کہ ان کی حکومت غریبوں، پچھڑوں، دلتوں، قبائلیوں کے لئے وقف ہوگی۔ ان چار سال کی مدت میں ایسے متعدد موقع آئے ہیں جن میں اس عہد کی تصدیق ہوتی دکھائی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست کے ذریعے ریزرویشن میں تحفظ یقینی کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس عہد کو بھی دہرایا کہ ریزرویشن کو کوئی نہیں چھین سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں، مودی حکومت نے اس قانون میں ترمیم کی ہے اور 22 کے بجائے 47 جرائم بھی شامل ہیں.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close