پٹنہ

ایس سی ایس ٹی کے ریزرویشن کو کوئی ختم نہیں کر سکتا : نتیش

پٹنہ:وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج مگدھ ڈویژن دلت ، مہا دلت کارکنان کانفرنس کا افتتاح شمع روشن کر کیا ۔ گیا کے گاندھی میدان میں منعقد کانفرنس میں مقامی لیڈران اور عوامی نمائندوں نے وزیر اعلیٰ کا گلدستہ اور شال پیش کر کے خیر مقدم کیا ۔کانفرنس کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس دلت مہا دلت کانفرنس میں آئے لوگوں کا میں استقبال کر تا ہوں ۔ اور اس کامیاب انعقاد کے لیے تمام منتظم کاروں کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ ہمارا عزم ہے انصاف کے ساتھ ترقی ۔ اسکو ذہن میں رکھ کر ہم نے کام کیاہے اور شروع سے ہم نے کو شش کی ہے کہ انصاف کے ساتھ ترقی کا مطلب لوگ سمجھیں ۔ انصاف کے ساتھ ترقی کا مطلب سماج کے ہر طبقہ اور ہر علاقہ کی ترقی ہو ۔ ہر طبقہ کی ترقی کی بات کر تے ہیں تو یہ ذہن میں رکھنا ہے کہ سماج کا جو طبقہ حاشیہ پر ہے ، جو نظر اندازکیا گیا ہے ، حاشیہ پر رہنے والے لوگوں کو مین اسٹریم میں لانا ہے ۔ یہ بات میں نے پہلے دن سے ہی کہی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جب ہم نے اقتدارسنبھالاتھا تو اس وقت 12.5فیصد بچے اسکول سے باہرتھے۔بچوں کو اسکول تک لانے کی کو شش شروع کی اور 22ہزار سے زیادہ نئے اسکول کھولے گئے ۔پرانے اسکولوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کمرے تعمیر کیے گئے ۔ تین لاکھ سے زیادہ اساتذہ کا تقرر کیاگیا ۔ ساڑھے بارہ فیصد بچے اسکول سے باہر تھے ، اس کو لے کر جب سروے کرا یا تو یہ پتا چلا کہ دلت ، مہا دلت اور اقلیتی طبقہ کے بچوں کی تعداد ان میں زیادہ ہے ۔ بچوں کو پڑھانے کے لیے مہادلت ٹولوں میں ٹولہ سیوکوں کو بحال کیا گیا اور ٹولہ سیوک اور تعلیمی مرکز کے تقریبا 30ہزار لوگوں کا انتخاب کیاگیا او ر ان کے توسط سے انہیں اسکول تک پہنچایا گیااور اب 1فیصد سے بھی کم بچے اسکول سے باہر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہت لوگوں کانظریہ ہے کہ زور زور سے بول دو ۔ کام کچھ نہیں کر نا ہے ۔تخمینہ لگا لیا جائے پہلے کیا ہو تا تھا ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی ہاسٹل کی بہتر طریقہ سے تعمیر کرائی گئی اور قدیم ہاسٹلوں کو بھی نئے سرے سے تعمیر کرایا جارہا ہے ۔ تمام اسکولوں اور ہاسٹلوں میں اجابت خانہ کابھی بہتر انتظام کیا جارہا ہے ۔طلبا و طالبات کو 15کلو غلہ میں سے 9کلو چاول اور 6کلو گیہوں ہاسٹلوں میں ہی پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے اور انہیں فی ماہ 1000 روپے دینے کافیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں کافی کام کیے گئے ہیں ۔ مہا دلت وکاس مشن کی تشکیل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دشرتھ مانجھی جی کو اپنی کرسی پر بیٹھا یا اور ان کے نام پر کوشل وکاس منصوبہ شروع کیا ۔ تمام مہادلت ٹولوں میں کمیونٹی سینٹر اور ورک شیڈ کی تعمیر کی شروعات کی ۔اور اب تک ساڑھے تین ہزار سے زیادہ کی تعمیر ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مہادلت وکاس مشن کے ذریعہ جو کام مہادلتوں کی ترقی کے لیے کیے جارہے ہیں وہ سارا کام ایس سی ، ایس ٹی کے لیے بھی کیے جائیں گے ۔ ہم نے اقتدار سنبھالا تھاتو درج فہرست ذاتوں کو بھی گرام پنچایتوں میں ریزرویشن نہیں تھا۔ اس کے بعد بھی کچھ لوگوں کو صرف بولنے کی عادت ہے ۔2005 کے نومبر میں اقتدار میںآئے اور 2006میں گرام پنچایت کے انتخاب میں ایس سی ، ایس ٹی کے لیے ریزر ویشن کا انتظام کیا ۔ اور خواتین کے لیے 50فیصد ریزر ویشن کا انتظام کیا ۔ ریزرویشن نافذ ہونے کے بعد ان کا وقار بڑھا ہے۔ ہمارے غریب کنبوں کی خواتین میں بیداری آنی چاہئے اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا کام کر ناچاہئے کہ گھر کو چلانے کے لیے پیسے آجائیں ۔ خود امدادی گروپ کی تشکیل کی۔جیویکا کی شروعات کی ، جس کے آٹھ لاکھ سے زیاد گروپ بن چکے ہیں اور 10لاکھ کا نشانہ ہے ۔83لاکھ کنبے اس سے جڑچکے ہیں ۔ سب سے زیادہ غریب کنبے اس سے جڑے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم جو کام کر تے ہیں اس میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کر تے۔سات عزائم کے توسط سے جو کام کیا اس کا فائدہ سب کو مل رہا ہے۔ گرلس ہاسٹل سبسڈی منصوبہ چلایا جارہا ہے ۔ بی پی ایس سی کے ابتدائی امتحان پاس کر نے والے ایس سی ، ایس ٹی اور انتہائی پسمادہ طبقہ کے امیدواروں کو 50ہزار روپے اور یو پی ایس سی کا ابتدائی امتحان پاس کر نے والے ایس سی ، ایس ٹی اور انتہائی پسماندہ طبقہ کے امید واروں کو ایک لاکھ روپے فائنل امتحان کی تیاری کے لیے د ہے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی سماج کے جن نو جوانوں میں کاروبار کی صلاحیت ہے اور اگر صنعت لگانا چاہتے ہیں تو ایسے نوجوانوں کی مدد کر نے کے لیے 500 کروڑ روپے کا وینچر کیپٹل فنڈ بنا یا گیا ہے ۔ اسٹارٹ اپ کے تحت کی جانے والی مدد میں 20فیصد ایس سی اور 2فیصد ایس ٹی کے لیے ریزرو ہے ۔نئے منصوبہ کے تحت ایسے کارو باریوں کو 10لاکھ کی مدد ریاستی حکومت کے ذریعہ دی جائے گی ۔ جس میں پانچ لاکھ کی سبسڈی ہوگی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین کے مطالبہ پر ہم نے شراب بندی نافذکی، جس کاسب سے زیادہ فائدہ غریبوں کو مل رہا ہے ۔ لوگ اپنی گاڑھی کمائی کابڑا حصہ شراب پینے میں خر چ کر دیتے تھے۔کچھ لوگوں کی ذہنیت گڑبڑی کر نے کی ہو تی ہے ایسے لوگوں پر کارروائی ہو رہی ہے ۔ شراب بندی کے بعد اس میں بڑا بدلاؤ آیا ہے اور اب ہو رہی بچت سے ان کے زندگی کے طور طریقہ میں سدھار دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شراب بندی کے بعد جو کنبے شراب کی یا اس سے متعلق کام میںلگے تھے ، ویسے کنبوں کو نشانزد کر کے مسلسل روزگار کے لیے سرکاری منصوبے چلائے جارہے ہیںانہیں گروپ سے جوڑ کر متبادل روزگار کے لیے راغب کیا جار ہا ہے۔ ایسے متبادل روزگار کر نے والے 35سے 40 لوگوں کے اوپر ایک شخص کو لگا یا گیا ہے ۔ تاکہ وہ بہتر ڈھنگ سے کام کر تے رہیں ۔ متبادل روزگار کے لیے60 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک کی مدد دی جائے گی ۔ متبادل روزگار شروع کر نے سے 7ماہ تک ایک ہزار روپے فی ماہ سرکار کی جانب سے دیا جائےگا ۔ جو کنبے جانکاری نہ ہو نے کی وجہ سے منصوبوں کا فائدہ حاصل نہیں کر پائے انہیں مسلسل روزگار منصوبہ کے تحت فائدہ دیا جائےگا ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے اندرا رہائش منصوبہ تھا اب وزیر اعظم رہائش منصوبہ گرامین ، ہو گیا ہے ۔ کئی لوگوں کا منصوبہ میں نام آنے کے باوجود زمین نہیں ہو نے کے سبب فائدہ نہیں مل پارہاہے ۔ ایسے لوگوں کو 60ہزراروپے زمین خرید کے لیے مہیا کرائے جارہے ہیں ۔ ہم نے یہ بھی طے کیا ہے کہ 1996کے پہلے اندرا رہائش کے تحت تعمیر کے گئے مکانات جو اب خستہ حالت میں ہیں ،ویسے کنبوں کو نشان زدکر کے وزیر اعلیٰ رہائش منصوبہ کے تحت 1.20لاکھ روپے دیے جارہے ہیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close