ہندوستان

ایس ڈی پی آئی کا چنئی میں واقع سی بی آئی دفتر کا محاصرہ ، 300 سے زائد کارکنان گرفتار

چنئی:سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا تمل ناڈو شاخہ کی جانب سے پارٹی ریاستی صدر محمد مبارک کی قیادت میں رافیل گھوٹالہ کے تعلق سے جانچ کررہے سی بی آئی ڈائرکٹر الوک ورما کی معطلی اور ان کے جگہ میں نئے سی بی آئی ڈائرکٹر ناگیشور رائو کی تقرری کی مخالفت کرتے ہوئے کل یہاں چنئی شاستری بھون کے احاطے میں واقع سی بی آئی دفتر کا محاصرہ کیاگیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر محمد مبارک نے رافیل طیارے کے سودے کو بھارت کا سب سے بڑا دفاعی گھپلہ قراردیا۔ ایس ڈی پی آئی تمل ناڈو ریاستی صدر محمد مبارک نے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے رافیل گھوٹالے کی جانچ کررہے سی بی آئی ڈائرکٹر الوک ورما کوآدھی رات کو معطل کرکے ملک اور ملک کے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ رافیل معاہدہ بلاشبہ ملک کا سب سے بڑا گھپلہ ہے جس کو نریندر مودی حکومت چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی قائم کرکے رافیل معاہدہ کی جانچ کی جانی چاہئے تاکہ اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی بی جے پی حکومت کی سچائی ملک کے عوام سامنے آسکے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں ایس ڈی پی آئی ریاستی نائب صدر امجد باشاہ،ریاستی جنر ل سکریٹری عبدالحمید،ریاستی سکریٹری امیر حمزہ، ریاستی ورکنگ کمیٹی رکن اے کے کریم، سینٹرل چنئی ضلعی صدر، جنرل سکریٹری جنید انصاری، جنوبی چنئی ضلعی صدر محمد سلیم، جنرل سکریٹری انصاری، شمالی چنئی ضلعی صدر نیتاجی جمال اور جنرل سکریٹری پشپا راج،کانجی پورم جنوبی ضلعی صدرتمیم انصاری،جنرل سکریٹری ابوبکر،تروللور مشرقی ضلعی صدرسید احمد اور جنرل سکریٹری باسط اور تروللور مغربی ضلعی جنرل سکریٹری محمد سلیم سمیت 300سے زائد کارکنان نے حصہ لیا۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک ایس ڈی پی آئی لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے گرفتار کرکے بعد میں رہا کردیا گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close