کھیل

ایشین چیمپئنز ٹرافی: خطاب بچانے کے لئے بھارت کو کھیلنا ہو گا سب سے بہترین کھیل

مسقط (عمان):بھارتی مرد ہاکی ٹیم ایشین چیمپئنز ٹرافی کے اپنے پہلے میچ میں جمعرات کو میزبان عمان سے بھڑیگی. موجودہ فاتح کے لئے یہ میچ لے حاصل کرنے کے لحاظ سے کافی اہم ہوگا. ٹیم کا حالیہ مظاہرہ مایوس کن رہا تھا اور ایشیائی کھیلوں میں ٹیم کو صرف کانسی سے ہی مطمئن رہنا پڑا تھا. ایسے میں سلطان کابوس اسپوٹرس کامپلیکس میں ہونے والا یہ میچ بھارت کے لئے اپنے اعتماد کو حاصل کرنے کے نقطہ نظر سے اہم ہے. بھارت کے لئے اس میچ سے پہلے یہ اعداد تسلی بخش ہو سکتا ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان ہوئے گزشتہ میچ میں بھارت نے عمان کو 7-0 سے شکست دی تھی. یہ مقابلہ انڈونیشیا کے جکارتہ میں کھیلے گئے ایشیائی کھیلوں میںہوا تھا. بھارت کے سابق کپتان اور دیش کے سب سے شاندار مڈفیلڈرو میں شمار سردار سنگھ نے ایشیائی کھیلوں کے بعد ریٹائرمنٹ لے لیا تھا. بھارت کو اس ٹورنامنٹ میں مڈفیلڈ میں ان کی کمی بے شک کھلے گی اور دیکھنا یہ ہوگا کہ ٹیم ان کے مقام کی تلافی کس طرح کرتی ہے. کپتان من پریت میں اگرچہ سردار کی جگہ لینا کا مادہ ہے لیکن ان کے لئے یہ ڈبل ذمہ داری نبھانا اور میدان پر توازن برقرار رکھنے کے لئے آسان نہیں ہو گا. پہلے میچ میں اس بات کا اندیشہ نظر آئے گا کہ بھارت کو کہاں کام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بات ٹیم کو کوچ ہریندر سنگھ کو بھی معلوم ہے. کوچ کا بھی خیال ہے کہ پہلا میچ آنے والے میچوں کی تیاری کے لئے اہم ہے. کوچ نے کہا، ” پہلا میچ ہمیں ملیشیا، پاکستان، جنوبی کوریا کے خلاف ہونے والے مشکل پول میچوں کی تیاری کے لئے اپنے آپ کو پرکھنے کا موقع دے گا. ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ٹورنامنٹ کی شروعات بنیادی چیزوں کو درست کرتے ہوئے کریں اور آنے والے میچوں کے لئے لے حاصل کریں. ” ایشیا کپ کے دوران ٹیم میں کافی خامیاں دیکھی گئی تھیں. ابتدائی میچوں میں ٹیم نے آسان مقابلوں میں دنادن گول کئے تھے لیکن اہم مقابلوں میں ٹیم دباؤ میں بکھر گئی تھی. ایک جو مسئلہ سامنے آیا تھا وہ تھا مجموعہ کا. جارحانہ لائن، مڈفیلڈ اور ڈیفنس میں کامل مجموعہ دیکھنے کو نہیں ملا تھا تو وہیں ٹیم کی فنیشنگ اور سرکل کے اندر گیند کو اپنے پاس نہ رکھ پانا بھی ایک بڑا مسئلہ تھا. کوچ کا بھی خیال ہے کہ ٹیم کو اچھا کرنے کے لئے اپنی پرانی غلطیوں سے سیکھنا ہو گا اور غلطیاں کم کرنی ہوں گی. کوچ نے کہا، ” ہم جانتے ہیں کہ ہماری ٹیم بہت اچھی ہے جو دنیا کی کسی بھی ٹیم کو شکست دے سکتی ہے، لیکن کئی بار چیزیں آپ کے مفاد میں نہیں ہوتی ہیں. ٹیم کے لئے یہ ضروری ہے کہ ٹیم اپنی مکمل توجہ 60 منٹ پر لگائے اور دوسری ٹیم کو موقع نہیں دے. ہمیں اس بات کو یقینیی بنانا ہوگا کہ ہم وہ غلطیاں نہ دہرائیں جو ہم نے ایشیائی کھیلوں میں کی تھیں. ” بھارت اپنے دوسرے میچ میں روایتی حریف پاکستان سے 20 اکتوبر کو بھڑیگا.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close