سیاست

این آر سی، بینک گھوٹالہ، رافیل سودا جیسے مسائل پر تحریک چلائی جائے گی: کانگریس

نئی دہلی:کانگریس این آر سی کے غلط نفاذ، رافیل طیارہ سودے میں گڑبڑی ، بینک گھوٹالے، کسانوں کے مسائل اور بے روزگاری جیسے مسائل پر ملک گیر عوامی تحریک شروع کرے گی اور سڑک سے پارلیمنٹ تک حکومت کو گھرےگي۔ کانگریس کی سب اعلی پالیسی ساز یونٹ ورکنگ کمیٹی کی آج یہاں پارٹی صدر راہل گاندھی کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ تحریک شروع کرنے کے وقت کے بارے میں پارٹی کی ریاستی اور ضلع یونٹوں کے ساتھ بات چیت کر کے جلد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ کانگریس کی کمان سنبھالنے کے بعد مسٹر راہل گاندھی نے گزشتہ ماہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی تشکیل نو کی تھی۔ راہل گاندھی کی صدارت میں ورکنگ کمیٹی کی یہ دوسری میٹنگ تھی۔ آج کی میٹنگ تقریبا ساڑھے تین گھنٹے جاری رہی۔ اجلاس میں سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی موجود نہیں تھیں۔ سی ڈبلیو سی کے اجلاس کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری اشوک گہلوت اور میڈیا انچارج رنديپ سنگھ سورجےوالا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں آسام میں قومی شہری رجسٹر ( این آر سی) کا آسام معاہدے کی روشنی میں عمل درآمد، رافیل سودے اور بینکوں کے گھوٹالوں سمیت معیشت کی بگڑتی صورتحال، بے روزگاری اور کسانوں کے مسائل پر جامع بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو عوام کے درمیان لے جانے کے لئے عوامی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔مسٹر اشوک گہلوت نے کہا کہ اجلاس میں یہ بات بھی رکھی گئی کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات تک ہر ماہ ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کی جائے گی۔ اس میں انتخابات سے متعلق حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس ضمن میں ورکنگ کمیٹی جو بھی فیصلہ کرے گی اس کو زمین کی سطح پر نافذ کیا جائے گا۔ کمیٹی کے یہ اجلاس ایک طرح سے عام انتخابات کی تیاری کے پس منظر میں کئے جائیں گے۔ مسٹر سورجےوالا کے مطابق ورکنگ کمیٹی نے کہا کہ این آر سی کی تیاری کے پورے عمل میں تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کیا جانا چاہئے اور اس مسئلے کا حل آسام معاہدے کے تحت کیا ہونا چاہئے۔ اس عمل میں ہر شہری کو انصاف ملنا چاہئے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) این آر سی کا استعمال ملک میں سماجی تانا بانا کوتوڑنے کے لئے کر رہی ہے لیکن کانگریس اسے ایسا نہیں کرنے دے گی۔ بی جے پی اس مقصد میں کامیاب نہ ہو اس کے لئے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے جدو جہد جاری رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ آسام معاہدہ اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے وقت ہوا تھا اور معاہدے سے تمام فریق متفق تھے، اس لئے اس کی روشنی میں این آر سی کے عمل کو مکمل کیا جانا چاہیے۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ آسام میں مسٹر ترون گوگوئی کی قیادت والی حکومت نے مئی 2016 تک این آر سی کے عمل کو 80 فیصد تک مکمل کر لیا تھا۔ کانگریس کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کانگریس حکومت کے وقت 2005 سے 2013 کے درمیان 82728 غیر ملکی شہریوں کو واپس بھیجا گیا جبکہ مودی حکومت نے گزشتہ چار سال کے دوران صرف 1822 بنگلہ دیشیوں کو واپس بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے یہ بات پارلیمنٹ میں کہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ ورکنگ کمیٹی میں رافیل طیارہ سودے میں بے ضابطگی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع نرملا سيتامر کی طرف سے طیاروں کی قیمت نہیں بتانے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کا خیال تھا کہ مسٹر مودی کے پاس طیاروں کو مہنگی شرح پر خریدنے کے معاملے میں ٹھوس جواب نہیں ہے ، اسی لئے قیمت نہیں بتائی جا رہی ہے۔
سرکاری کمپنی کو اس سودے سے باہر رکھنے اور ایک پرائیویٹ کمپنی کو اس میں شامل کرنے، خریداری میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور قیمتیں چھپانے کے معاملے پر بھی کمیٹی میں تبادلہ خیال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے بینک گھوٹالوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ بینک گھوٹالہ کرکے ہزاروں کروڑ روپے لے کر فرار ہونے والے لوگوں کے بارے میں جو انکشافات آئے دن ہو رہے ہیں، ان پر بھی اجلاس میں سنجیدہ بات چیت ہوئی ۔ اس میں پنجاب نیشنل بینک میں ہزاروں کروڑ روپے کا گھوٹالہ کرنے والے میهل چوکسی اور ان کی کمپنی کے بارے میں جو حقائق سامنے آئے، اس کے باوجود انہیں کیسے بیرون ملک فرار ہونے دیا گیا اس پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی اور اس کو بھی عوام کے درمیان لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔
مسٹر سورجےوالا نے کہا کہ ورکنگ کمیٹی میں بے روزگاری کے مسئلے پر بھی بحث ہوئی ہے کہ کس طرح سے نوجوانوں کے ساتھ وعدہ خلافی کی گئی ہے۔ معیشت کی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی بحران اور کسانوں کے مسائل پر بھی پارلیمنٹ سے سڑک تک جدوجہد کرنے پر تمام رہنماؤں نے اتفاق ظاہر کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close