گجرات

ایک لاکھ سے بھی زائد گھروں کی سوغات دے رہاہوں:مودی

گجرات فارنسک سائنسز یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد سے وزیراعظم کا خطاب

سورت:وزیراعظم جناب نریندر مودی نے گجرات فارنسک سائنسز یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو تین دن بعد رکشا بندھن کا مقدس تیوہار ہے، آپ سب مائیں اور بہنیں اتنی بڑی تعداد میں یہاں آئی ہیں، میں آپ سب کا بہت بہت ممنون ہوں۔ رکشا بندھن کا تیوہار اور گجرات میں ایک لاکھ سے بھی زائد کنبوں کو، بہنوں کو ان کے نام سے اپنا گھر ملے ، میں سمجھتا ہوں رکشا بندھن کا اس سے بہتر تحفہ نہیں ہوسکتا۔ رکشا بندھن کے تیوہار سے قبل ان سبھی ماؤں اور بہنوں کو ایک لاکھ سے بھی زائد گھروں کی سوغات دیکر آپ کے بھائی کی حیثیت سے میں انتہائی تشفی و اطمینان کا احساس کررہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ، آج ایک دوسری اسکیم بھی سات سو کروڑ روپئے کی ہے، یہ اسکیم بھی رکشا بندھن کے مقدس تیوہار سے قبل ہماری ماؤوں اور بہنوں کو ہی تحفہ ہے۔ سوغات ہے۔ پانی کی قلت کا بحران سب سے زیادہ کنبے کی ماؤوں اور بہنوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پورے کنبے کیلئے پانی کا انتظام ہمارے گھروں میں آج بھی ہماری ماؤوں اور بہنوں کو کرنا پڑتا ہے اور پینے کا خالص پانی نہ ہونے کے سبب ایک طرح سے گھر اور زندگی بیماری کا گھر بن جاتے ہیں۔ پینے کا صاف پانی کنبے کو متعددامراض سے بچاتا ہے۔وزیرا عظم نے کہا کہ، میں نے اپنی جوانی کے کئی برس قبائلی علاقے میں گزارے ہیں، میں جب دھرم پور سیدم باڑی میں رہتا تھا، ان دنوں میرے دل میں ہمیشہ ایک سوال اٹھتا تھاکہ اتنی بارش یہاں ہوتی ہے، لیکن دیوالی کے بعد دو مہینے سے زیادہ پانی نہیں بچتا اور پھر پانی کیلئے ترسنا پڑتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے اس وقت دھرم پور میں سیدم بور میں اور اس سارے قبائلی علاقے سے، عمر گاؤں سے امبا جی تک بارش زیادہ ہوتی ہے اور سارا پانی ہماری طرف دریا کی طرف اور سمندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ اور سارے علاقے پانی سے محروم ہوجاتے ہیں۔جناب مودی نے کہا کہ، میں جب گجرات کا وزیراعلیٰ تھا، اس وقت ہزاروں کروڑ روپوں کی لاگت سے طے کیا تھا کہ عمرگاؤں سے امباجی تک سارے قبائلی علاقے جو گجرات کے مشرقی سرحد پر واقع ہیں، وہاں ہر گاؤں کو اور ہر گھر کو نل سے پانی ملے ، میں نے یہ خواب دیکھا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close