سیاستہندوستان

ای وی ایم اورانتظامیہ پرنظررکھیں:راہل

نئی دہلی: کانگریس صدر راہل گاندھی نے جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں اور 11 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی ہونی ہے، ان ریاستوں کے کانگریسی لیڈروں اور کارکنوں سے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے تک مسلسل ای وی ایم کی نگرانی رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ انتخابات حکام اور ضلع انتظامیہ پر بھی نگاہ رکھنے کو کہا ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی خرابی نہ ہونے پائے۔ ای وی ایم میں کسی طرح کی دھاندلی نہیں کی جاسکے۔کانگریس صدر نے اس کے لئے سات دسمبر کو بھی ایک ٹویٹ کیا تھا۔ذرائع کے مطابق راجستھان کے متعدد علاقوں میں بی جے پی کے امیدوار کے گھر نام نہادای وی ایم مشین پائے جانے (سیکٹر افسر وی ایم مشین لے کر بی جے پی امیدوار کے گھر گیا تھا۔
اس کے علاوہ راجستھان کے ہی باراں ضلع میں کشن گنج اسمبلی حلقہ کے شاہ آباد علاقے میں ایک سیل بند ای وی ایم سڑک پر پڑی ملنے کے بعد فکر مند کانگریس صدر نے پارٹی کے تین اہم رہنماؤں سے بات کی۔ انہیں پانچوں ریاستوں کی پارٹی کارکنوں کو محتاط رہنے کا پیغام دینے کے لئے کہا۔ اس کے لئے ان ریاستوں کی کانگریس کرسیاں اور دیگر عہدیداروں کو تمام ضلع صدور سے رابطہ برقرار رکھنے، آفس میں مسلسل رہنے، فون ہمیشہ چارج رکھنے اور موجودہ رکھنے اور جہاں جہاں بھی ای وی ایم رکھی ہیں، وہاں کارکنوں کوشفٹوں میں نگرانی میں لگانے کو کہا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی خرابی کا خدشہ ہونے پر اس کی شکایت فوری طور پر الیکشن کمیشن، ضلع مجسٹریٹ، پولیس افسر سے کرنے اور ریاست اور مرکز کانگریس ہیڈ کوارٹر میں بھیجنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں اے آئی سی سی رکن انل شریواستو کا کہنا ہے کہ گجرات اسمبلی انتخابات میں جیتتی کانگریس جس طرح سے کچھ – چند سو ووٹوں سے 9 نشستیں ہاری، اس کے بعد پارٹی کو ووٹ کے وقت سے ہی ای وی ایم اور متعلقہ اعلی افسروں پر سخت نگرانی رکھنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ مدھیہ پردیش میں 28 نومبر کو ووٹ کے بعد ساگرکے ضلع مجسٹریٹ دفتر میں ای وی ایم مشینیں دو دن بعد پہنچیں۔ اس پر کانگریس نے ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے شکایت کی تو الیکشن کمیشن نے بتایا کہ وہ مشینیں کورئی انتخابی حلقے میں بیک اپ کے لئے بھیجی گئی تھیں۔
ایم پی، سینئر وکیل اور کانگریس لیگل سیل کے سربراہ وویک تنکھا کا کہنا ہے کہ دو دن پہلے ہی جی او عملہ بتانے والے دو لوگ چھتیس گڑھ میں گرفتار ہوئے ہیں، جو ای وی ایم والے اسٹرانگ روم میں لیپ ٹاپ کے ساتھ گھسے تھے۔
تنکھا کا کہنا ہے کہ چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کئی جگہ مقامی حکام، ملازمین کی طرف سے پارٹی کی طرفداری کرنے کے واقعات سامنے آئیں ہیں۔ بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں سے ای وی ایم مشینیں لے جانے، متعلقہ افسر کے کہیں اور ہونے کی واقعات پیش آئے ہیں۔ ان سب کے پیش نظر ای وی ایم اور انتظامیہ پر نگرانی رکھنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ لہذا کانگریس اعلی کمان نے اپنے کارکنوں سے ای وی ایم اور انتظامیہ پر سخت نگاہ رکھنے کو کہا ہے، اور یہ کوئی غلط نہیں ہے۔ اس سے تو الیکشن کمیشن کو ہی تعاون مل رہا ہے۔ اگر کہیں ای وی ایم میں خرابی کا خدشہ ہوا یا کسی انتظامی افسر کی طرف سے کسی امیدوار یا پارٹی کی طرفداری والی کچھ حرکت کرنے کا اندیشہ ہوا تو اس کی شکایت الیکشن کمیشن اور عدالت کو کی جائے گی۔اس میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
اس سلسلے میں مدھیہ پردیش کے سینئر صحافی سریش مہروترا کا کہنا ہے کہ ای وی ایم کی نگرانی تو ضروری ہے ہی۔ اگر کانگریس، بی جے پی یا کسی بھی پارٹی کے لوگ ای وی ایم اور انتظامی افسران کے انتخابات سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ اگر کسی ریاست میں 5 سے 10 سیٹ میں ہار جیت کا فیصلہ ہونا ہے، کوئی پارٹی اگر 5 سیٹ مزید پاکر حکومت بنا سکتی ہے یا دیگر جماعتوں سے 2 سیٹ مزید پاکر جوڑ توڑ کرکے حکومت بنا سکتی ہے تب وہ تو کسی بھی طرح سے اتنی نشستیں جیتنے کی کوشش کرے گی۔ بہت سے انتخابات میں سننے میں آتا ہی ہے کہ چند سو ووٹ مینج کرکے سیٹ نکال لی گئی۔ لہذاای وی ایم اور انتظامیہ پر سخت نگرانی رکھنا ٹھیک ہی ہے۔بی جے پی ایم پی لال سنگھ بڑودیا کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اور انتظامیہ تو ای وی ایم پر نگرانی رکھتا ہی ہے۔ الیکشن لڑنے والی سیاسی پارٹیاں بھی رکھنا چاہیں تو رکھیں۔ اگر منصفانہ انتخابات ہو رہے ہیں تو اس نگرانی سے کسی کو کوئی پریشانی کیوں ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close