مضامین

بابری مسجد قضیہ کا فیصلہ عدلیہ کرے گی,دھرم سبھا نہیں

بابری مسجد قضیہ اور اراضی کا معاملہ عدلیہ کے زیر غور ہے اور فیصلہ کے منتظر تمام ہندوستانی ہیں عدالت کے سامنے کیا دشواری ہے کیا دقتیں ہیں یہ تو ہماری عدلیہ کے ججز جانتے ہیں لیکن ایسے وقت میں سیاسی ہنگامہ آرائی کرنا شرپسند عناصر کا دھرم سبھا کرنا ملک کی جمہوریت کے ساتھ کھلے عام کھلواڑ ہے۔
شیوسینا بجرنگ دل وغیرہ کے کارکنان ایودھیا میں جمع ہوکر پر تشدد نعرے بلند کیے اور جس طرح کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی وہ ملک کے امن پسند باشندگان کے لئے یقینا قابل حیرت ہے۔ اس ہنگامہ آرائی کے پیچھے بی جے پی حکومت کی وعدہ خلافی کارفرما ہے یا پھر 2019ء کے انتخابات کی تیاری کی ابتدا ہے ۔جبکہ مودی حکومت کچھ ہی مہینوں میں اپنی معینہ مدت پوری کرنے والی ہے اور جس وکاس کا نعرہ دے کر وہ اقتدار میں آئی تھی اور جتنے حسین و خوبصورت وعدےکیے گئے تھے اور جو سہانے خواب دکھائے گئے تھے ان میں سے کوئی بھی وعدہ زمین پر نہیں اتر سکا اور کوئی بھی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔اور اسی خوف کی وجہ سے مرکزی حکومت ہراساں اور لرزہ براندام ہے۔
بہرکیف ملک میں وکاس کا کوئی کام ہوا ہو یا نہ ہوا ہو مگر مہنگائی کا وکاس تو ضرور ہوا ملک میں تشدد اور منافرت میں ضرور ترقی ہوئی۔ نوٹ بندی کر کے ملک کی معیشت شیرازہ ضرور بکھیردیا گیا کالا دھن واپس تو نہیں لایا جاسکا لیکن سفید دھن کو کالا ضرور کیا گیا اور بینکوں کے کروڑوں روپے لے کر مودی بھکت افراد بآسانی ہجرت کر گئے۔بے روزگاری کی شرح میں پہلے سے ضرور بڑھ گئی اور بے روزگاری کا وکاس ہوا نوٹ بندی کے قہر سے چھوٹے چھوٹے کاروبار بند ہو گئے مزدور غریب افراد کی تھالیاں خشک ہو گئیں ان سب عیوب و نقائص کے ستر پوشی کے لیے اور ڈوبتی کشتی کو منجدھار سے نکالنے کے لیے رام نام کے سوا دوسرا کوئی ہتھکنڈہ ہے بھی تو نہیں۔یہ تو شکر ہے خدا کا کہ حفاظتی انتظامات نہایت سخت تھے اور اتنا لوگ پہنچ نہیں سکے جتنی تعداد کی پیش گوئی تھی ورنہ کیا ہوتا یہ تو وقت ہی بتاتا۔
اسی درمیان ہماری جماعت کے کچھ بے لگام کٹھ ملا مسجد منتقلی کی وکالت احادیث کی روشنی میں کرتے نظر آرہے ہیں اور بلا وجہ اپنے افکار و نظریات پیش کر مسلمانوں کو ذہنی کشمکش میں مبتلا کیے ہوئے ہیں حالانکہ انہیں ہوش کا ناخن لینے کی سخت ضرورت ہے جبکہ مکمل معاملہ ملک کی سب سے بھروسے مند عدالت کے حوالے ہے تو اپنے توازن کو برقرار رکھیں اور دماغی دیوالیہ پن کے شکار نہ ہوں. جو تنظیمیں مقدمہ لڑ رہی ہیں ان کے قدم سے قدم ملانے کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کریں ورنہ گوشہ نشینی اختیار کریں اس میں آپکی اور پورے ملک کی فلاح و صلاح مضمر ہے.
انتخاب کے ایام جوں جوں قریب ہوتے ہیں ملک کی سبھی پارٹیاں ضمیر فروش مسلمانوں کی تلاش میں سرگرداں ہوجاتی ہیں اور انہی کے سہارے پوری قوم کو بلیک میل کرتی ہے.
اس لیے نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے اور افواہوں سے بچنے کی ضرورت ہے.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close