اتر پردیشہندوستان

بابری مسجد کے انہدام کی 26 ویں برسی منائی گئی

اجودھیا:اترپردیش کے ضلع اجودھیا میں سخت سیکورٹی بندوبست کے درمیان جمعرات کو بابری مسجد کے انہدام کی 26 ویں برسی پورے امن و امان کے ساتھ گذر گئی۔اس موقع پر مسلم تنظیموں نے اسے ’’یوم سیاہ‘‘ و ’’یوم غم‘‘ کے طور پر یاد کیا تو وہیں ہندو تنظیموں نے ’’سوریہ دیوس‘‘ و’’ وجے دیوس‘‘ کے طور پر اسے منایا۔اجودھیا میں ملسم تنظیموں نے اپنے کاروبار کو بند رکھا اور مسجدوں میں نماز ادا کرنے کے بعد بابری مسجد کے دوبارہ تعمیر کی اجتماعیں دوائیں کی گئیں وہیں ہندوتنظیموں نے متنازعہ زمین پر رام مندر کی تعمیر کے لئے اسے سوریہ دیوس کے طور پر منایا۔سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ جوگیندر کمار نے یواین آئی کو بتایا کہ سیکورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان ہندو تنظیموں نے اپنے سوریہ دیوس اور مسلم تنظیموں نے یوم غم منایا ۔ اس دوران اجودھیا میں حالات معمول کے مطابق رہے اور آمدو رفت معمول کے مطابق جاری رہا۔ کسی بھی تنظیم نے متنازعہ احاطے تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن روز کی طرح آج بھی اس احاطے کی دیدار کے لئے بڑی تعداد میں لوگ آئے۔انڈین یونین مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر نجم الحسن غنی کی صدارت میں ایک روزہ احتجاجی مظاہرہ گاندھی پارک میں منعقد کیا گیا۔ داکٹرغنی نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت معمولی بات نہیں ہے۔ مسجد کے ساتھ ہی 6 دسمبر 1992 کو ہندوستانی قانون کو بھی شہید کیا گیا۔ مسجد گرائے جانے کے وقت اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ بابری مسجد وہیں بناکر دیں گے لیکن 26 سالوں کے گذرجانے کے بعد بھی ملک کے کسی وزیر اعظم نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔وہیں دوسری جانب آل انڈیا ہندو سماج نے سریو کے پانی کو اپنے ہاتھوں میں لیکر مندر کی تعمیر کا عزم کیا۔ وشو ہندو پریشد نے بھی جہاں سوریہ دیوس نہ منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن آج وی ایچ پی کے دفتر میں ایک کمرے میں ہی سوریہ دیوس منایاگیا جس میں رام جنم بھومی نیاس کے صدر منی رام دا چھاونی کے مہنت نرتیہ گوپال داس سمیت اجودھیا کے سنت اور رام بھکت موجود تھے۔انڈین یونین مسلم لیگ نے کہا کہ بابری مسجد وہیں بناکر مسلمانوں کو دیں اور ساتھ ہی اس گھناونی حرکت کے قصواروں پر مقدمہ چلا کر سخت سے سزا دی جائے۔ جس طرح سے ہندوستان میں سینکڑوں مندر مغل بادشاہوں نے ہندو بھائیوں کو بنا کر دیا ہے اسی طرح سے مسجد بھی بنانی چاہئے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اجودھیا کے مشہور ہنومان گڑھی اور دیگر مندروں کو مغل بادشاہوں نے بنا کر دیئے ہیں۔اس موقع پر’’وعدہ نبھاو، بابری مسجد بناؤ‘‘ کے نام سے صدر جمہوریہ کے نام ایک میمورنڈم بھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دیا گیا۔ مسلم مقررین کا کہنا تھا کہ مندر مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا مسلم سماج احترم کرے گا ۔ انہوں نے اجودھیا میں منافرت پھیلانے والے اورعدالت کا فیصلہ آنے تک بابری مسجد کے سلسلے میں قابل اعتراض تبصرہ کرنے والے لیڈروں پر سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اجودھیا میں داخلے پر پابندی لگائی جائے۔بابری مسجد کے فریق حاجی محبوب کے رہائش پر بابری مسجد کی یوم شہادت پرمنعقد ایک جسلے میں مسلم مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ مندر مسجد کا تنازعہ اب عدالت کے ذریعہ ہی حل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قانون یا آرڈیننس لاکر مندر کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ ہندوستان جمہوری ملک ہے اور یہاں آئین سب سے بالا ہے۔
بابری مسجد کے مدعی اقبار انصاری نے کہا کہ 6 دسمبر 1992 کا حادثہ ملک کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ اور شرمناک تھا۔ ہندو مسلم سماج کو لوگوں سےکہنا چاہیں گے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لئے جو بھی فیصلہ ہوگا اسے ملک کا مسلمان قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کے خلاف آج تک کوئی بھی کاروائی نہیں کی گئی۔ یہ کافی تکلیف دہ ہے۔وی ایچ پی اور آر ایس ایس کے لوگ عدالت کے فیصلے کے خلاف ایسے ایسے اعلانات کرتے ہیں جس سے ریاست اور ملک کا ماحول متأثر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعہ سے ایک میمورنڈم بھی سونپا گیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close